برطانیہ نے شمالی سمندر میں جیک ڈاؤ گیس فیلڈ سے گیس نکالنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ حکومت کے مطابق اس منصوبے سے توانائی کی فراہمی بہتر بنانے، قیمتوں میں اضافے کے اثرات کم کرنے اور مقامی سطح پر گیس کی پیداوار بڑھانے میں مدد ملے گی، تاہم ماحولیاتی تحفظ کے لیے کام کرنے والے حلقوں نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیر توانائی میاٹا فنبلیہ نے کہا کہ منصوبے سے رواں ماہ کے اختتام تک برطانوی گھروں اور کاروباری اداروں کو گیس کی فراہمی شروع ہو سکتی ہے۔ منصوبے کی 11 سالہ مدت کے دوران گیس کی ملکی پیداوار میں عروج پر تقریباً 6 فیصد اضافے کی توقع ہے۔
The UK has backed production at the North Sea’s Jackdaw gas field, expected to supply homes this winter, and launched a £2bn Energy Wealth Fund for renewables. Read more: https://t.co/YUsKfxyAb3 @energygovuk @NSTAuthority @Shell @OEUK_ @hmtreasury pic.twitter.com/MEiFbtThXk
— London Daily (@LDNDailyDigital) October 21, 2026
برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا کہ توانائی کی بڑھتی قیمتوں اور عوام کی مشکلات کے پیش نظر ملک میں موجود توانائی کے ذخائر سے ذمہ داری کے ساتھ فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔
حکومت نے اس منصوبے کے ساتھ نیا انرجی ویلتھ فنڈ قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے، جس کے لیے ابتدائی طور پر 2 ارب پاؤنڈ مختص کیے جائیں گے۔ اس فنڈ کے ذریعے تیل اور گیس سے حاصل ہونے والی آمدن کو ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:گیسٹیک 2026: یو جی ڈی سی کی غیرملکی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت
تاہم گرین پارٹی کے رہنما نے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے ماحولیات کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق برطانوی کمیٹی کے اندازے کے مطابق جیک ڈاؤ گیس فیلڈ سے 11 سال کے دوران 2 کروڑ 36 لاکھ سے 3 کروڑ 58 لاکھ ٹن تک کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج ہو سکتی ہے۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ نئے گیس منصوبے کی منظوری 2050 تک کاربن کے خالص اخراج کو صفر تک لانے کے برطانوی ہدف سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ان کے مطابق نئے تیل اور گیس منصوبوں کی حوصلہ شکنی سے ماحولیاتی اہداف حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔









