پشاور ہائیکورٹ : سانحہ دیر کالونی پر جوڈیشل کمیشن بنانے کی درخواستوں پر صوبائی حکام سے جواب طلب

بدھ 21 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پشاور ہائیکورٹ نے سانحہ دیر کالونی متاثرین، سکول کی چھت گرنے کے واقعے سے متعلق دائر درخواستوں پر خیبر پختونخوا کے چیف سیکریٹری اور محکمہ تعلیم سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور سانحہ : رہائشی عمارت کو اسکول بنا دیا گیا، نقشہ بھی سرکاری ریکارڈ سے غائب ہونے کا انکشاف

درخواستوں میں واقعے کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے، جاں بحق طلبہ اور خاتون ٹیچر کے لواحقین کو شہدا پیکیج دینے اور زخمی طلبہ کو مفت طبی سہولیات سمیت معاوضہ فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید پر مشتمل بنچ نے کی، عدالت نے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا، سیکریٹری ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، پرائیویٹ سکول ریگولیٹری اتھارٹی، سیکریٹری ورکس اینڈ سروسز، سیکریٹری فنانس اور لینڈ یوز اینڈ بلڈنگ اتھارٹی سمیت متعلقہ فریقین سے جواب طلب کیا ہے۔

درخواست گزاروں کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سکول کی چھت گرنے کے واقعے کی وجوہات معلوم کرنے اور ذمہ داران کا تعین کرنے کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں: پشاور سانحہ: دیر کالونی کے متاثرین کے اہل خانہ کا انصاف کا مطالبہ

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ سکول کی عمارت کی تعمیر، منظوری، رجسٹریشن اور حفاظتی انتظامات میں کسی قسم کی کوتاہی ہوئی یا نہیں۔

وکیل نے عدالت سے یہ بھی درخواست کی کہ اگر تحقیقات میں غفلت ثابت ہو تو ذمہ دار سکول مالکان، انتظامیہ اور متعلقہ حکام کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

شہدا پیکیج کا مطالبہ

درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سانحے میں جاں بحق ہونے والے طلبہ اور خاتون ٹیچر کے اہل خانہ کو شہدا پیکیج فراہم کیا جائے، اس کے علاوہ زخمی طلبہ کو مفت طبی سہولیات اور مناسب معاوضہ دینے کی بھی استدعا کی گئی۔

درخواست میں کہا گیا کہ متاثرہ خاندانوں کی معاونت کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات بھی ضروری ہیں جن سے مستقبل میں تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کے حادثات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔

اسکولوں کی عمارتوں کا سیفٹی آڈٹ

درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ صوبے بھر کے سرکاری اور نجی اسکولوں کی عمارتوں کا اسٹرکچرل اور فائر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے۔

وکیل کے مطابق، غیر محفوظ عمارتوں کی نشاندہی کرکے انہیں مرمت اور حفاظتی اقدامات مکمل ہونے تک استعمال سے روکنے کے احکامات جاری کیے جائیں، تاکہ طلبہ اور تدریسی عملے کی جانوں کو خطرات سے بچایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: المناک سانحہ پشاور، کئی ماؤں کی گودیں اجڑ گئیں؟ پی ٹی آئی کے تعلیمی سونامی پر سوالات

درخواست میں صوبے کے تعلیمی اداروں کے لیے محفوظ اسکولوں کی پالیسی اور عمارتوں کے لازمی حفاظتی معیار پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے کی استدعا بھی کی گئی۔

ذمہ داران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ

درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اسکولوں کی عمارتوں کی حفاظت یقینی نہ بنانا آئین کے آرٹیکلز 4، 9، 14، 25 اور 25 اے کے تحت شہریوں کے حقوق سے متعلق سوالات پیدا کرتا ہے۔

درخواست میں متعلقہ حکام سے تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی حفاظت یقینی بنانے اور غفلت ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف فوجداری اور محکمانہ کارروائی کرنے کی استدعا کی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد کی خواتین کے لیے مفت اسکوٹی ٹریننگ پروگرام کا اعلان

انسٹاگرام پر 90 منٹ تک کی طویل ویڈیوز پوسٹ کرنے کا نیا فیچر متعارف

سی پیک نے معیشتوں کو جوڑا، چین پاکستان انفارمیشن کوریڈور ذہنوں کو جوڑے گا، عطا اللہ تارڑ

سیکیورٹی فورسز کے 67 بڑے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز: داعش کے 50 سے زائد دہشتگرد ہلاک، 100 سے زائد گرفتار

پاکستان کو بدنام کرنے کی نئی سازش پکڑی گئی، طالبان انٹیلی جنس  کا اعترافی بیانات پر مبنی منفی منصوبے پر کام جاری

ویڈیو

پاکستانی ہر حال میں کشمیریوں کے ساتھ ہیں، شاہراہ دستور پر ارکان پارلیمنٹ اور عوام کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

چار دیواری نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں