صارفین کو گمراہ کرنے کا الزام، عدالت نے  میٹا پر 25 ارب ڈالر کا تاریخی جرمانہ عائد کردیا

جمعرات 22 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی ریاست نیو میکسیکو کی ایک عدالت نے فیس بک کی پیرنٹ کمپنی ’میٹا‘ کو صارفین کو گمراہ کرنے اور ڈیٹا کے غلط استعمال کے جرم میں 25 ارب ڈالر کا بھاری جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

ایک جج نے بدھ کے روز میٹا پلیٹ فارمز کو امریکی ریاست نیو میکسیکو کو 25 ارب ڈالر ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ فیصلہ جیوری کی جانب سے اس کمپنی کو صارفین کو گمراہ کرنے کا قصوروار پائے جانے کے بعد سامنے آیا ہے، جو کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی 2016 کی صدارتی مہم میں شامل ایک سیاسی مشاورتی ادارے کی جانب سے لاکھوں فیس بک صارفین کا ڈیٹا ان کی رضامندی کے بغیر حاصل کرنے کے الزامات کے تناظر میں دائر کیا گیا تھا۔

نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل راؤل ٹوریز کا کہنا تھا کہ امریکی تاریخ میں کسی ایک ریاست کی طرف سے کمپنی کے خلاف سنایا جانے والا یہ سب سے بڑا، یا کم از کم سب سے بڑے فیصلوں میں سے ایک ہے۔

یہ بھی پڑھیے عدالت کا میٹا کے خلاف تاریخی فیصلہ، صارفین کو گمراہ کرنے پر 375 ملین ڈالر جرمانہ

جج فرانسس میتھیو نے فیصلے کے بعد اپنے تحریری حکم نامے میں لکھا ’فیس بک کی برسوں پر محیط غلط کاریاں، جو منظم طریقے سے عوام تک پہنچائی گئیں، فیس بک کے بنیادی کاروباری طریقوں کی جڑ پر وار کرتی ہیں۔‘

جج میتھیو نے یہ بھی پایا کہ ریاستی قانون کی رو سے 219 ارب ڈالر سے زائد کا جرمانہ بنتا تھا، تاہم انہوں نے اس رقم کو کم کر کے 25 ارب ڈالر کر دیا۔

یہ فیصلہ دیگر 6 ریاستوں کی جانب سے کیمبرج اینالیٹیکا (متعلقہ مشاورتی ادارے) سے متعلق مقدمات کو 45.9 کروڑ ڈالر میں طے کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ یہ طے شدہ رقم اس 17.1 ارب ڈالر کے کثیرالجہتی تصفیے کا حصہ تھی جو میٹا نے اگست میں ریاستوں کے اس دعوے کو حل کرنے کے لیے طے کیا تھا کہ کمپنی کے پلیٹ فارمز نے نوجوانوں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچایا ہے۔

نیو میکسیکو کے اٹارنی جنرل نے 2021 میں میٹا کے خلاف اس انکشاف کے بعد مقدمہ دائر کیا تھا کہ کیمبرج اینالیٹیکا نے فریق ثالث (تھرڈ پارٹی) کی ایک ایپ کے ذریعے فیس بک کے 8 کروڑ 70 لاکھ تک صارفین کا ذاتی ڈیٹا اکٹھا کیا تھا۔

ریاست نے میٹا پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے نیو میکسیکو میں فیس بک صارفین سے اس بات پر جھوٹ بولا کہ ان کے ڈیٹا تک کس کی رسائی ہے، کمپنی پلیٹ فارم پر پوسٹ کی جانے والی نفرت انگیز تقاریر (ہیٹ اسپیچ) اور غلط معلومات سے کیسے نمٹتی ہے، اور اس کی دیگر داخلی پالیسیاں کیا ہیں۔

یہ بھی پڑھیے یورپی صارفین کو ٹارگٹڈ اشتہارات دکھانے پر میٹا پر بھاری جرمانہ عائد

ریاست کے مطابق، کمپنی یہ جانتی تھی کہ فریق ثالث کو صارفین کے ذاتی ڈیٹا تک وسیع رسائی حاصل ہے، اور جب کمپنی کے مالی مفادات (منافع) کا معاملہ ہوتا تھا تو وہ نفرت انگیز تقاریر یا دیگر نقصان دہ مواد کو برداشت کرتی تھی۔

اب بند ہو جانے والا مشاورتی ادارہ کیمبرج اینالیٹیکا، 2016 میں ٹرمپ کی کامیاب صدارتی مہم کے لیے کام کرتا تھا اور اس نے ووٹرز کی پروفائلنگ اور ہدف بنانے کے مقاصد کے لیے لاکھوں فیس بک اکاؤنٹس سے ذاتی معلومات حاصل کی تھیں۔

مشاورتی ادارے نے یہ معلومات صارفین کی رضامندی کے بغیر ایک محقق کے ذریعے حاصل کی تھیں، جسے فیس بک نے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک پر ایک ایسی ایپ لانچ کرنے کی اجازت دی تھی جو اس کے لاکھوں صارفین کا ڈیٹا اکٹھا کرتی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شادی کا جھانسہ، نازیبا ویڈیوز سے بلیک میلنگ، کراچی میں ملزم گرفتار

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ: فیڈرل سروس ٹریبیونل کا حکم کالعدم، ریکروٹمنٹ رولز 2014 بحال

یوگنڈا سے واپس آنے والی سفارتکار کی اہلیہ میں ایبولا وائرس کی تصدیق، نائیجیریا میں 44 افراد زیرِ نگرانی

13سالہ لڑکی کے قتل کی کہانی پر مبنی اطالوی فلم نیٹ فلکس کی غیر انگریزی فلموں میں سرفہرست

سپریم کورٹ نے ریلوے افسران کی سنیارٹی سے متعلق ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

ویڈیو

’روشنی ایک رات کی‘: تورڈھیر میں سوا کروڑ روپے کی لائٹس 5 برسوں سے بند، حکومتی کارکردگی کھل کر سامنے آگئی

تحریک انصاف مذاکرات کے لیے تیار نہیں تو زبردستی بات نہیں ہوسکتی، وفاقی وزیر مصدق ملک

خیبرپختونخوا میں اربوں روپے کے منصوبوں میں کمیشن اور کرپشن کے الزامات، ہادی پتنگ کے کردار پر سوالات اٹھ گئے

کالم / تجزیہ

باغ جل رہا ہے

سعودی عرب اور بنگلہ دیش: خبر، حقیقت اور فتنہ

حوثیوں کا اصل ہدف کیا ہے؟