امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر کا کہنا ہے کہ حکومت پیٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے اربوں روپے کا ظالمانہ ٹیکس وصول کر رہی ہے اور اگر حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ملتوی کیا گیا ’اسلام آباد مارچ‘ ملتان سے دوبارہ شروع کردیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: جماعت اسلامی کے اسلام آباد سپر لانگ مارچ کا تیسرا مرحلہ 23 اکتوبر سے شروع ہوگا
وی نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر نے بتایا کہ جماعت اسلامی نے مہنگائی اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف اپنی احتجاجی مہم کے تیسرے مرحلے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے جس کے تحت ملک بھر کے 150 ضلعی ہیڈکوارٹرز پر احتجاجی دھرنے دیے جا رہے ہیں۔
ایک لیٹر پیٹرول پر 135 روپے سے زائد ٹیکس ناانصافی ہے
امیر جماعت اسلامی کراچی نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ عوام ایک لیٹر پیٹرول پر تقریباً 80 روپے لیوی اور 5 روپے کلائمٹ سپورٹ لیوی ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مارجن اور دیگر تمام ٹیکسز ملا جلا کر ایک عام شہری، مزدور، طالب علم اور کسان فی لیٹر 130 سے 137 روپے صرف ٹیکسز کی مد میں دینے پر مجبور ہے۔
مزید پڑھیے: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا جماعت اسلامی کے مرکز کا دورہ، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
منعم ظفر کا کہنا تھا کہ حکومت نے گزشتہ سال لیوی کی مد میں 1,566 ارب روپے وصول کیے جو ان کے اپنے ہی مقررہ ہدف سے 99 ارب روپے زیادہ تھے اور 99 ارب روپے زیادہ وصول کر کے ریلیف اسکیموں کے نام پر صرف 26 ارب روپے لوٹانا عوام کے ساتھ مذاق ہے۔
گورنر ہاؤس کے پاس دھرنا اور آئندہ کا لائحہ عمل
کراچی میں احتجاج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ نمائش کے مقام پر دھرنا دیا جائے گا جو شام ساڑھے 4 بجے سے شروع ہو کر رات گئے تک جاری رہے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس دھرنے کے بعد صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
حکومت سے مذاکرات اور ‘اسلام آباد مارچ’ کا منصوبہ
حالیہ ٹرین مارچ اور حکومت کے ساتھ بات چیت پر روشنی ڈالتے ہوئے منعم ظفر نے بتایا کہ جماعت اسلامی کے 35 سے 38 دن طویل دھرنوں کے بعد حکومت نے مذاکراتی کمیٹی بنائی جس کے ساتھ 6 دور ہوئے۔
مزید پڑھیں: حکومت اور جماعت اسلامی میں ڈیڈ لاک ختم کرنے کی کوششیں تیز
منعم ظفر نے کہا کہ مذاکرات میں بے نتیجہ تاخیر پر جب جماعت اسلامی نے ‘ٹرین مارچ’ شروع کیا اور قافلہ ملتان پہنچا تو وزیراعظم کی جانب سے رابطہ کر کے مذاکرات کی کی پیشکش کی گئی جس پر مارچ عارضی طور پر روکا گیا۔ ایک 2 روز میں حکومتی کمیٹی اور وزیراعظم سے ملاقات کا امکان ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی پرامن مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تاہم اگر حکومت نے سنجیدگی نہ دکھائی تو مارچ وہیں سے آگے بڑھے گا جہاں ملتان میں روکا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے رکاوٹیں ڈالنے کی صورت میں پلان اے، بی اور سی مکمل طور پر تیار ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: جماعت اسلامی سے مذاکرات، احسن اقبال کا لیاقت بلوچ سے رابطہ
منعم ظفر کا کہنا ہے کہ ہم ایک عوامی مسئلے پر بات کر رہے ہیں یہ ہم سب کا مسلئہ ہے اور ہم پر امید ہیں کہ اس میں تمام سیاسی جماعتوں کے لوگ شریک ہوں گے۔










