اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کی حکومت کا تختہ الٹنے کو اسرائیل کا بنیادی ہدف قرار دیتے ہوئے فوج اور خفیہ اداروں کو اس مقصد کے لیے کام کرنے کی ہدایت کی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق فضائی حملوں سے ایران کی حکومت گرانا آسان نہیں ہوگا۔
الجزیرہ کے مطابق نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کی حکومت کا خاتمہ ہی اسرائیل کو درپیش خطرے کو مستقل طور پر ختم کرنے کا راستہ ہے۔ انہوں نے اسرائیلی فوج، خفیہ ایجنسی موساد اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو اس سلسلے میں ہدایات دینے کا دعویٰ کیا۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل میں 27 اکتوبر کو انتخابات ہونے والے ہیں اور نیتن یاہو کو انتخابی حمایت میں کمی کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے پاس ایران کے فوجی اہداف کو شدید نقصان پہنچانے کی صلاحیت موجود ہے، لیکن فوجی کارروائیوں کو حکومت کی تبدیلی میں بدلنے کے لیے کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔
Netanyahu on Iran:
Mojtaba decided to follow in his father’s footsteps. He pulled the trigger, and Iran is once again trying to develop its bombs of death.
Therefore, there is only one way to remove this threat once and for all: to overthrow the regime in Iran.
And that is my directive to the IDF, Mossad and the security services.
— Clash Report (@clashreport) October 21, 2026
ماہرین کا کہنا ہے کہ فضائی حملے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور تو کرسکتے ہیں، لیکن ان سے حکومت کا خاتمہ یقینی نہیں بنایا جاسکتا۔ اس مقصد کے لیے طویل زمینی فوجی کارروائی درکار ہوسکتی ہے، جس کے لیے بڑے پیمانے پر وسائل اور طویل المدتی عسکری موجودگی ضروری ہوگی۔
برطانیہ کے رائل یونائیٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ماہرین کے مطابق اسرائیل فضائی برتری حاصل کرکے ایرانی اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم ایران کے پاس اب بھی میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کے ذریعے جوابی کارروائی کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ ایران کے جنوبی پہاڑی علاقوں میں محفوظ تنصیبات اور زیرزمین نظام کو تباہ کرنا بھی ایک بڑا چیلنج ہوسکتا ہے۔
مزید پڑھیں:اقوام متحدہ میں بولے گئے جھوٹ نیتن یاہو کے جنگی جرائم نہیں چھپا سکتے، نیویارک میئر ظہران ممدانی
رپورٹ میں امریکا کی ممکنہ شمولیت کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق واشنگٹن کی حمایت کے بغیر اسرائیل کے لیے زیرزمین انتہائی محفوظ جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانا زیادہ مشکل ہوگا۔ دوسری جانب امریکی حکومت کی جانب سے ایران کے خلاف نئی بڑی فوجی کارروائی میں شمولیت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
الجزیرہ کے مطابق ماہرین کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کسی ملک کی فوجی تنصیبات کو تباہ کرنا اور اس کی حکومت کا تختہ الٹنا 2 مختلف اہداف ہیں۔ ایران کے خلاف مزید حملے اسرائیل کو فوجی کامیابیاں تو دلا سکتے ہیں، لیکن ان کامیابیوں کو سیاسی تبدیلی میں بدلنے کے لیے درکار حکمت عملی، زمینی کارروائی اور طویل المدتی وسائل ایک بڑا سوال ہیں۔










