13 سالہ پی ٹی آئی حکومت: اپر دیر میں بڑے منصوبوں کے محض اعلانات لیکن عملی نتیجہ صفر

جمعہ 23 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سال 2013 تا 2026 تین ادوار پر مشتمل 13 سالہ حکومت کے دوران متعدد ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات کیے گئے تاہم اپر دیر میں ان میں سے بیشتر منصوبے عملی شکل اختیار نہ کرسکے۔

یہ بھی پڑھیں: دیر بالا: نوجوانوں سے ووٹ لینے والی پی ٹی آئی ان کو کام دلواسکی نہ ہی کھیل کے میدان

صوبے میں بدانتظامی، احتجاج، مظاہروں اور دھرنوں کی سیاست کے باعث ترقیاتی سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور بڑے بڑے اعلانات کے باوجود ضلع اپر دیر کے کئی اہم منصوبوں پر کام شروع ہی نہ ہوسکا۔

ان منصوبوں میں سب سے اہم پاتراک سے سیاحتی مقام وادی کمراٹ تک سڑک کی تعمیر ہے جس کا اعلان سابق وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے دور حکومت میں تقریباً 11 ارب روپے کی ابتدائی لاگت سے کیا گیا تھا۔ تاہم تقریباً 10 برس گزرنے کے باوجود اس منصوبے پر کام انتہائی سست روی کا شکار رہا۔

مذکورہ سڑک کے بعض حصوں میں پہاڑوں کی کٹائی و دیگر ابتدائی کام تو کیے گئے لیکن منصوبہ مسلسل تاخیر کا شکار رہا اور اب تک تقریباً 100 میٹر سڑک پر بھی لیولنگ اور بلیک ٹاپنگ کا کام شروع نہیں ہوسکا۔

یہ سڑک سال 2022 کے سیلاب سے بھی شدید متاثر ہوئی تھی۔ اس کی تعمیر میں تاخیر کے باعث مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ ہر سال گرمیوں اور موسم سرما میں وادی کمراٹ آنے والے لاکھوں سیاحوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شہریوں کے مطابق یہ اہم منصوبہ کب مکمل ہوگا اس بارے میں اب تک کوئی واضح صورت حال سامنے نہیں آسکی جس نے اس کی تکمیل کو ایک بڑا سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔

اسی طرح سابق وزیراعلیٰ محمود خان نے سنہ 2021 میں عالمی بینک کے تعاون سے سیاحت کے فروغ کے لیے جنت نظیر وادی کمراٹ میں ایک بڑے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھیے: 3 مرتبہ حکومت کے باوجود پی ٹی آئی دیر، پشاور موٹروے بنانے میں ناکام، عوام کا احتجاج

اس منصوبے کے تحت کمراٹ سے لوئر چترال کے علاقے مڈک لشٹ تک 19 کلومیٹر طویل ہائی الٹیٹیوڈ کیبل کار تعمیر کی جانی تھی۔ اس منصوبے کے ذریعے ملک بھر اور بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کو بھی راغب کرنے کے دعوے کیے گئے تھے، تاہم اعلان کے بعد 7 سال گزرنے کے باوجود اس پر عملی کام شروع ہونا تو دور کی بات، منصوبے کی موجودہ صورت حال کے بارے میں بھی کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔

پی ٹی آئی کی دوسری مدت حکومت کے دوران سابق وزیراعلیٰ محمود خان نے رکن قومی اسمبلی اور تحصیل واڑی کے عوام کے مطالبے پر الگ ضلع وسطی دیر بنانے کا اعلان بھی کیا تھا۔ اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی محمود خان کی وزارت اعلیٰ ختم ہونے سے ایک روز قبل جاری کیا گیا جسے علاقے کے لوگوں کے لیے خوشخبری قرار دیا گیا تھا تاہم اب تک اس منصوبے پر کوئی پیشرفت سامنے نہیں آسکی۔

علاوہ ازیں پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی صبغت اللہ کی جانب سے دیر کے علاقے چراگلی میں کیڈٹ کالج دیر کی منظوری بھی دی گئی تھی۔ اس سمیت متعدد بڑے منصوبوں کے اعلانات کیے گئے لیکن شہریوں کے مطابق کسی ایک منصوبے پر بھی عملی کام شروع نہیں کیا گیا۔ صرف پاتراک سے کمراٹ تک سڑک کی تعمیر کا کام جاری ہے لیکن انتہائی انتہائی سست روی سے جسے شہریوں نے کچھوے کی چال سے تشبیہ دی ہے۔

مزید پڑھیں: دیر بالا: تعلیمی نظام درہم برہم اور بیڈگورنس عروج پر، پی ٹی آئی کی 13 سالہ کارکردگی صفر

دوسری جانب دیر شہر کے لیے پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے کروڑوں روپے کی لاگت سے واٹر سپلائی منصوبے کا اعلان بھی کیا گیا تھا تاہم یہ منصوبہ بھی تاحال التوا کا شکار ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور منتخب اراکین اسمبلی نے نہ صرف اپنے کارکنوں کو ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات کے ذریعے امیدوں کے پیچھے لگائے رکھا بلکہ ضلع اپر دیر کی تقریباً 13 لاکھ آبادی سے بھی مسلسل وعدے کیے جاتے رہے۔ ان کے مطابق وعدوں پر عمل نہ ہونے کے باعث عوام میں پارٹی کی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور اب سوشل میڈیا سمیت مختلف محفلوں میں ان اعلانات اور منصوبوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔

شہریوں کا مزید کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پی ٹی آئی کے 13 سالہ دور حکومت میں اپر دیر کو پسماندہ رکھا گیا جبکہ ان کے بقول پارٹی کے بعض کارکنوں اور متعلقہ افراد نے عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے اپنے مفادات کو ترجیح دی اور اپنی جیبیں بھرتے رہے۔

شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ گورنر راج کے بعد سابق دور حکومت میں ہونے والی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کرائی جائیں اور جو بھی اس میں ملوث پایا جائے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا: 12 اضلاع کے لیے 160 ارب روپے کا پیکج، جاری ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات کون اٹھائے گا؟

انہوں نے امید ظاہر کی کہ گورنر کی قیادت میں اب صوبے میں موجودہ انتظامی سیٹ اپ نہ صرف پہلے سے منظور شدہ بلکہ اعلان کردہ ترقیاتی منصوبوں پر بھی عملی کام شروع کرے گا بلکہ اپر دیر کے عوام کو درپیش دیگر دیرینہ مسائل کے حل کی بھی بھرپور کوشش کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp