برسوں سے ایلون مسک یہ نظریہ پیش کرتے آئے ہیں کہ انسانی شعور کو وسعت دینے اور مریخ پر کالونی بسانے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے خیال میں انسان ایک بین السیاروی مخلوق ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مریخ پر 10 لاکھ افراد کی آبادکاری پر ایلون مسک کے لیے بڑے انعام کا اعلان
اب 100 سال کے اندر سرخ سیارے پر کالونی بسانے کے مسک کے منصوبے کو نوبل انعام یافتہ خلاباز پروفیسر میشل مایور نے چیلنج کیا ہے جنہوں نے سورج جیسے ستارے کے گرد گردش کرنے والا پہلا سیارہ 51 پیگاسائی بی مشترکہ طور پر دریافت کیا تھا۔
مایور کے مطابق مسک کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ 10 لاکھ لوگ مریخ پر جا کر وہاں رہ سکتے ہیں۔ ٹینیرف میں اسٹارمس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے پروفیسر نے کہا کہ مریخ کے ماحولیاتی حالات انسانی بقا کے لیے سازگار نہیں ہیں۔ 
انہوں نے کہا کہ مریخ پر دباؤ زمین کی فضا کا تقریباً 100واں حصہ ہے۔ وہاں کاربن ڈائی آکسائیڈ، آرگون ہے لیکن آکسیجن نہیں ہے اس لیے یہ انسان کے لیے بالکل بھی مناسب نہیں ہے۔
مزید پڑھیے: مریخ پر انسانی آبادی ایلون مسک کو کیسے دنیا کا سب سے طاقتور ارب پتی بنائے گی؟
ان کا کہنا تھا کہ اوسط درجہ حرارت منفی 60 ڈگری سینٹی گریڈ ہے اور کم سے کم درجہ حرارت منفی 140 ڈگری تک گر سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہاں تیز گرد آلود ہوائیں ہیں، کاسمک ریڈی ایشن ہے اور مٹی زراعت کے لیے موزوں نہیں ہے۔ یہ زہریلی ہے اس فلم کے برعکس جس میں وہ سلاد اگاتا ہے۔
پروفیسر میشل مایور نے کہا کہ لہٰذا وہاں آباد ہونے کے لیے لوگوں کو دباؤ والے ڈھانچوں میں رہنا پڑے گا یا تو پھر سردی اور تابکاری سے خود کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے گنبدوں میں یا زیر زمین رہنا ہوگا۔
اس لیے مایور نے مریخ پر لوگوں کو منتقل کرنے کے مسک کے خواب پر سوال اٹھایا کہ کیا آپ واقعی یقین رکھتے ہیں کہ ہم اگلی صدی میں 10 لاکھ لوگوں کو منتقل کر دیں گے؟ نہیں۔
مزید پڑھیں: مریخ پر زندگی کا اسکاٹ لینڈ سے کیا واسطہ؟ ناسا نے اہل زمین کو حیران کردیا
نوبل انعام یافتہ کے مطابق، انسان کبھی بھی ایسی دنیا کو آباد نہیں کر پائیں گے کیونکہ ہمیں فزکس کو ذہن میں رکھنا ہوگا۔ انہوں نے انسانوں پر زور دیا کہ وہ زمین کا خیال رکھیں کیوں کہ کوئی اور سیارہ انسانیت کے لیے ’لائف بوٹ‘ فراہم نہیں کر سکتا۔










