چین کی مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں ڈیپ سیک اور منی میکس نے اپنے اے آئی ماڈلز کی عالمی سطح پر تعیناتی اور اوپن سورسنگ کے لیے رجسٹریشن کا عمل کامیابی سے مکمل کرتے ہوئے متعلقہ منظوری بھی حاصل کر لی ہے۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق، دونوں کمپنیوں نے ضروری ضابطہ جاتی تقاضے پورے کر لیے ہیں، جس سے ان کی بیرونِ ملک تجارتی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا میں چینی اے آئی ریسرچ کمپنی ’ڈیپ سیک‘ کے استعمال پر پابندی، وجہ کیا بنی؟
دریں اثنا، جمعے کے روز سوشل میڈیا اکاؤنٹ ’یو یوان تان تیان‘ کی ایک الگ پوسٹ میں کہا گیا کہ بیرونِ ملک انٹرنیٹ صارفین نے چین کے دیگر اوپن سورس بڑے لینگویج ماڈلز تیار کرنے والوں پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اسی طرز پر پیش رفت کریں۔
رپورٹ کے مطابق، چین کی جانب سے مجوزہ برآمدی پابندیوں کا دائرہ ان اے آئی ماڈلز کی بیرونِ ملک تعیناتی تک پھیلایا گیا ہے جن میں محدود یا حساس ٹیکنالوجی شامل ہے۔
DeepSeek and MiniMax have won approval to deploy models overseas, part of a wave of homegrown AI technologies that Beijing will allow to operate globally, a Chinese state media affiliate said. https://t.co/ER36P7QIHu
— Bloomberg (@business) October 23, 2026
بیجنگ کا یہ اقدام واشنگٹن کے ساتھ بڑھتے ہوئے جغرافیائی و سیاسی مقابلے کے تناظر میں قومی سلامتی کے لیے اہم سمجھے جانے والے ٹولز اور ٹیکنالوجی کی منتقلی محدود کرنے کی تازہ کوشش ہے۔
چین نے 16 اکتوبر کو اے آئی سے متعلق برآمدی کنٹرول کے نئے مجوزہ ضوابط متعارف کرائے تھے، جن میں 23 مختلف ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔
ان میں اے آئی ماڈلز، ایجنٹس اور کمپیوٹنگ کلسٹرز بھی شامل ہیں، ان اقدامات کا مقصد عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے تکنیکی مقابلے کے دوران قومی سلامتی کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
مزید پڑھیں: چین نے ’ڈیپ سیک‘ کے بعد ’مینس‘ نامی حیران کن اے آئی ایجنٹ تیار کرلیا
تاہم، چینی وزارتِ تجارت کے مطابق، مصنوعی ذہانت سے متعلق زیادہ تر ٹیکنالوجیز کی برآمد جاری رہے گی، اوپن سورس ٹیکنالوجی کی برآمدات اور بیرونِ ملک اپنے کمپیوٹنگ مراکز چلانے والی چینی کمپنیوں کے لیے لائسنسنگ کا عمل بھی آسان بنایا جائے گا۔
وزارتِ تجارت نے واضح کیا ہے کہ نئے ضابطہ جاتی فریم ورک میں اے آئی ماڈلز کے تکنیکی پیمانوں اور کمپیوٹنگ صلاحیت کے حجم کے حوالے سے حدود مقرر کی گئی ہیں، تاہم بیشتر اے آئی ٹیکنالوجیز بدستور برآمد کی جا سکیں گی۔
بالخصوص اوپن سورس منصوبوں اور بیرونِ ملک کمپیوٹنگ مراکز چلانے والی کمپنیوں کے لیے آسان لائسنسنگ نظام برقرار رکھنے کی گنجائش موجود ہے۔










