یورپ کے مختلف ممالک میں مہنگائی، کم اجرت، رہائش کے بڑھتے اخراجات اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف مظاہرے کیے گئے، جن کے دوران اٹلی، فرانس، اسپین اور بیلجیم سمیت کئی ملکوں میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ بعض مقامات پر پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا، جبکہ متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ہفتے کے روز اٹلی کے دارالحکومت روم کے علاوہ میلان، ٹیورن اور بولونیا سمیت مختلف شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکلے۔ مظاہرین نے مہنگائی، جنگ، کم اجرت اور عوامی سہولتوں کی صورت حال پر احتجاج کیا۔ روم، ٹیورن اور بولونیا میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جبکہ میلان میں مظاہرے بڑی حد تک پُرامن رہے۔ اطالوی پولیس کے مطابق مختلف شہروں میں کارروائیوں کے دوران 9 افراد کو گرفتار اور 371 افراد کو مختصر وقت کے لیے حراست میں لیا گیا۔
Protests across Europe have again turned violent. Police clashed with protesters in France, Italy and Spain over rising living costs, cuts to public services and military spending. Officers used tear gas and batons as protesters erected barricades and set fires in the streets. pic.twitter.com/2roBKijf5Q
— Al Jazeera English (@AJEnglish) October 25, 2026
فرانس میں بھی مہنگائی کے خلاف مظاہروں کے دوران بدامنی کے خدشے پر سیکیورٹی سخت کردی گئی۔ حکام نے ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے، جبکہ پیرس میں فوجی اہلکاروں نے اہم مقامات پر گشت کیا۔ کئی دکانیں اور ثقافتی مراکز بھی بند رکھے گئے۔
اسپین میں رہائش کے بڑھتے اخراجات، تعلیم اور عوامی خدمات کے مسائل کے خلاف احتجاج کیا گیا، جبکہ بارسلونا میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
یہ بھی پڑھیں:فرانس میں مظاہروں کے پیش نظر 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات، پیرس میں فوج بھی گشت پر
بیلجیم کے دارالحکومت برسلز اور البانیہ میں بھی مظاہرے ہوئے۔ مختلف ملکوں میں احتجاج کی وجوہات میں مہنگائی کے علاوہ بے روزگاری، رہائش کا بحران، تعلیم کے مسائل اور حکومتی پالیسیوں سے اختلاف بھی شامل ہیں۔











