کینیا میں ایبولا وائرس سے دوسری ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے، جبکہ ملک میں اس بیماری کی پہلی وبا سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات جاری ہیں۔
وزارتِ صحت کے مطابق، ہلاک ہونے والی 65 سالہ خاتون ایبولا سے مرنے والے پہلے شخص کی قریبی رشتہ دار تھیں اور علامات ظاہر ہونے کے بعد قرنطینہ میں تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: کینیا میں ایبولا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 8 ہو گئی
حکام کا کہنا ہے کہ 7 دیگر مریض 2 علیحدہ مراکز میں زیرِ علاج ہیں، ان میں پہلے ہلاک ہونے والے شخص کے 3 رشتہ دار، صحت کے شعبے سے وابستہ 3 کارکن اور ایک اسپتال کا صفائی کا ملازم شامل ہیں۔
وزارتِ صحت کے مطابق، تمام مریض ایک ہی گروپ سے تعلق رکھتے ہیں اور تاحال آبادی میں وائرس کے وسیع پیمانے پر پھیلاؤ کے شواہد نہیں ملے۔
Public health officials wear protective gear, as they prepare for the burial of the second person who died in Kenya following an Ebola infection.
Video by Kenya Red Cross pic.twitter.com/SipCZWQUrB
— The Standard Digital (@StandardKenya) October 24, 2026
کینیا میں ایبولا سے پہلی ہلاکت 5 اکتوبر کو ہوئی تھی، متاثرہ شخص ستمبر میں بیمار ہوا اور ڈی آر کانگو کے مختلف اسپتالوں میں علاج کے بعد نیروبی پہنچا، جہاں چند روز بعد اس کی موت ہو گئی۔
افریقہ میں ایبولا کی موجودہ وبا کے دوران 4 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، ڈی آر کانگو میں مئی میں اس وبا کی تصدیق کے بعد یہ بیماری خطے کے لیے ایک بڑا صحتِ عامہ کا مسئلہ بن گئی ہے۔
کینیا میں حفاظتی اقدامات سخت
امریکا نے اپنے شہریوں کو کینیا کا سفر کرنے سے متعلق انتباہ جاری کیا ہے، جبکہ یوگنڈا، ایتھوپیا اور صومالیہ سمیت پڑوسی ممالک بھی چوکس ہیں۔
کینیا نے ڈی آر کانگو اور 9 دیگر خطرے سے دوچار ممالک سے آنے والے مسافروں کی اسکریننگ سخت کر دی ہے، ان ممالک میں یوگنڈا، تنزانیہ، روانڈا، برونڈی، انگولا، زیمبیا، ایتھوپیا، جنوبی سوڈان اور وسطی افریقی جمہوریہ شامل ہیں۔
ان ممالک سے آنے والے مسافروں کے لیے پرواز میں سوار ہونے سے پہلے ڈیجیٹل نگرانی کا فارم پُر کرنا اور کینیا پہنچنے پر صحت حکام کو کیو آر کوڈ دکھانا لازمی قرار دیا گیا ہے، متعلقہ ممالک سے آنے والے طیاروں کی طبی جانچ بھی سخت کر دی گئی ہے۔
نائیجیریا میں بھی ایبولا کا کیس
نائیجیریا کے وزیرِ صحت علی پیٹ کے مطابق، ملک میں ایبولا کا واحد تصدیق شدہ کیس بظاہر کینیا میں سامنے آنے والے وائرس کی ایک قسم سے جینیاتی طور پر مشابہت رکھتا ہے۔
تاہم، تاحال اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ نائیجیریا میں متاثرہ شخص نے کینیا کا سفر کیا تھا۔
حکام اس امکان کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ دونوں ممالک کے پہلے مریض رواں ماہ یوگنڈا کے اینٹیبے ہوائی اڈے سے گزرتے ہوئے ایک دوسرے کے رابطے میں آئے ہوں۔
مزید پڑھیں: یوگنڈا سے واپس آنے والی سفارتکار کی اہلیہ میں ایبولا وائرس کی تصدیق، نائیجیریا میں 44 افراد زیرِ نگرانی
یوگنڈا نے بھی جمعے کو اعلان کیا کہ احتیاطی تدابیر کے تحت ڈی آر کانگو کا سفر کرنے والے افراد کو یوگنڈا کے راستے دوسرے ممالک جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایبولا ایک نایاب مگر جان لیوا وائرس ہے، جو متاثرہ شخص کے خون، قے اور جسمانی رطوبتوں سے براہِ راست رابطے کے ذریعے پھیل سکتا ہے۔
اس کی ایک قسم، بنڈی بگیو، کے خلاف تاحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں، تاہم اس حوالے سے آزمائشیں جاری ہیں۔










