چین میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے انجینیئرز کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جہاں رواں سال کے پہلے 7 ماہ کے دوران ایک خاص شعبے کے انجینیئرز کی آسامیوں میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 1523 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق چین کی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں بائٹ ڈانس، ٹینسنٹ اور علی بابا ایسے انجینیئرز کی بھرتی کے لیے مقابلہ کر رہی ہیں جو صارفین اور کاروباری اداروں کی ضروریات کے مطابق اے آئی ایپلی کیشنز تیار کرکے انہیں عملی طور پر نافذ کرسکیں۔ انہیں ’فارورڈ ڈیپلائڈ انجینیئرز‘ کہا جاتا ہے۔
پیشہ ورانہ نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم مائی مائی کے مطابق ان انجینیئرز کی آسامیوں میں اضافہ اے آئی سے متعلق تکنیکی ملازمتوں میں سب سے زیادہ ہے۔
China just graduated a record 12.7 million students into a job market where AI is eating the entry-level roles.
Here's what the data actually shows:
→ 12.7M graduates in 2026, up ~4% from 12.22M last year
→ Youth unemployment (16–24, excl. students) hit 18.9% in August, a… pic.twitter.com/JucZUM16SD— Drenson (@drensonai) October 22, 2026
رپورٹ کے مطابق بائٹ ڈانس نے ایک آسامی کے لیے ماہانہ 65 ہزار یوآن تنخواہ کی پیشکش کی ہے۔ سال میں 15 ماہ کی تنخواہ کے حساب سے یہ رقم 9 لاکھ 75 ہزار یوآن بنتی ہے۔ دیگر کمپنیوں میں بھی ان ملازمتوں کے لیے مختلف تنخواہیں پیش کی جارہی ہیں۔ اینٹ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں ماہانہ 40 ہزار سے 60 ہزار یوآن، ٹینسنٹ میں 30 ہزار سے 60 ہزار یوآن، جبکہ علی بابا کلاؤڈ میں بعض متعلقہ آسامیوں کی ماہانہ تنخواہ 50 ہزار یوآن تک بتائی گئی ہے۔
تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تنخواہیں ملازمتوں کے اشتہارات میں دی گئی پیشکشیں ہیں اور انہیں چین میں ان عہدوں کی عمومی تنخواہ نہیں سمجھنا چاہیے۔ اے آئی کمپنیوں میں کام کرنے والے ماہرین کے مطابق بیشتر آسامیوں کی تنخواہیں اس سے کم ہیں اور کمپنیوں کو ایسے افراد درکار ہیں جو اے آئی ایجنٹس سمیت مختلف ٹیکنالوجیز استعمال کرکے مکمل حل تیار کرسکیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا میں چینی اے آئی ریسرچ کمپنی ’ڈیپ سیک‘ کے استعمال پر پابندی، وجہ کیا بنی؟
چین کی وزارت صنعت و انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اگست کے اواخر میں کمپنیوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ صارفین کے اداروں میں کام کرنے کے لیے انجینیئرز کی ٹیمیں تعینات کریں۔ وزارت نے جامعات پر بھی زور دیا کہ وہ اس شعبے کے لیے مزید ماہرین تیار کریں۔
دوسری جانب امریکی کمپنی اینتھروپک نے بھی 2027 کے اختتام تک 10 ہزار فارورڈ ڈیپلائڈ انجینیئرز کو تربیت دینے کے لیے 10 کروڑ ڈالر کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔










