چین کے آبی منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارتی ڈیم کی تعمیر پر تنازع، مظاہرین اور پولیس آمنے سامنے

اتوار 25 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چین کے آبی بجلی منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے بھارت میں تعمیر کیے جانے والے مجوزہ بڑے ہمالیائی ڈیم کے خلاف احتجاج پُرتشدد شکل اختیار کرگیا ہے۔

مظاہرین نے پولیس سے جھڑپوں کے دوران سرکاری عمارتوں کو نذرِ آتش اور متعدد املاک کو نقصان پہنچایا، جبکہ پتھراؤ سے تقریباً 40 پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ریاست اروناچل پردیش میں جمعے کی رات سرکاری پن بجلی کمپنی این ایچ پی سی کے مجوزہ 11 ہزار 200 میگاواٹ کے سیانگ اپر ملٹی پرپز منصوبے کے خلاف احتجاج کے دوران تشدد پھوٹ پڑا۔

یہ بھی پڑھیں: لداخ میں بھارتی جبر میں اضافہ، اپنے حق کے لیے احتجاج کو روکنے کے لیے اقدامات میں مزید سختی

ریاست کے وزیراعلیٰ پیما کھانڈو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مظاہرین نے پولیس اسٹیشن اور این ایچ پی سی کے دفتر کو نقصان پہنچایا، جبکہ متعدد منتخب نمائندوں کے گھروں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔

وزیراعلیٰ کے مطابق مظاہرین کے پتھراؤ سے تقریباً 40 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے شیل بھی فائر کیے۔

پیما کھانڈو نے منصوبے کے مخالفین پر زور دیا کہ وہ تشدد کے بجائے حکومت کے ساتھ بات چیت کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سے سوالات کیے جائیں اور مذاکرات کے ذریعے اختلافات دور کیے جائیں، نہ کہ تشدد کا راستہ اختیار کیا جائے۔

بھارت کا مؤقف ہے کہ مجوزہ ڈیم چین کے تبت میں دریائے برہم پترا کے بالائی حصے پر زیرِ غور 167 ارب ڈالر کے بڑے آبی بجلی منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔

چین کا یہ منصوبہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے دنیا کے بڑے ترین پن بجلی منصوبوں میں شمار ہوسکتا ہے۔

نئی دہلی کو خدشہ ہے کہ چین کا منصوبہ دریائے برہم پترا میں پانی کے بہاؤ کو متاثر کرسکتا ہے، بھارتی حکام کے مطابق مجوزہ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے وسیع ذخیرہ گاہ تعمیر کی جائے گی، جس سے دریا میں پانی کے بہاؤ کو برقرار رکھنے میں مدد ملے گی۔

مزید پڑھیں: ہندی کی ماہر برطانوی پروفیسر بھارت سے ڈی پورٹ، وجوہات پر بحث چھڑ گئی

تاہم بیجنگ کا کہنا ہے کہ اس کے منصوبے سے زیریں علاقوں میں پانی کے بہاؤ پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

مجوزہ بھارتی ڈیم ملک کا اب تک کا سب سے بڑا پن بجلی منصوبہ ہوگا، تاہم مقامی آبادیوں کی جانب سے اسے شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

مقامی افراد کو خدشہ ہے کہ منصوبے کے نتیجے میں ان کے گھر اور زمینیں زیرِ آب آسکتی ہیں اور انہیں اپنے علاقوں سے بے دخل ہونا پڑ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: مودی حکومت کا جابرانہ فیصلہ:دہائیوں بعدجنتر منتر سے احتجاجی مقام کا درجہ واپس لے لیا گیا

یہ منصوبہ دنیا کے 2 سب سے زیادہ آبادی والے ممالک، بھارت اور چین، کے درمیان کشیدگی کی بھی عکاسی کرتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان ہمالیائی سرحد متنازع ہے، جہاں ہزاروں فوجی تعینات ہیں۔

بھارتی وزارتِ خارجہ نے جمعے کو کہا تھا کہ سرحدی کشیدگی کے انتظام کے لیے دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری ہیں، یہ بیان بھارتی سرحدی پولیس کے اعلیٰ افسر شتروجیت کپور کی جانب سے بھارتی اور چینی افواج کے درمیان آمنے سامنے ہونے کے واقعات کی اطلاع کے بعد سامنے آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فرانس میں احتجاج کے خدشات، پیرس کے لوور سمیت متعدد عجائب گھر بند، سیاح مایوس

میرٹ پر 5 لاکھ کروم بکس تقسیم ہوں گی، دانش اسکولوں میں جدید تعلیمی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی، وزیر اعظم شہباز شریف

عالمی ایندھن بحران کے دوران روس کے 3 ڈیزل بردار جہاز امریکا روانہ

امریکی ریاست فلوریڈا میں فائرنگ، کم عمر بچوں سمیت 11 افراد زخمی

ولیمے پر جانے والے جوڑے پر فائرنگ، شادی کے اگلے ہی روز دلہن قتل

ویڈیو

میرٹ پر 5 لاکھ کروم بکس تقسیم ہوں گی، دانش اسکولوں میں جدید تعلیمی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی، وزیر اعظم شہباز شریف

حرمین شریفین ہماری ریڈلائن، مکہ دفاعی معاہدے سے مخالف قوتوں کو پریشانی لاحق ہے، مولانا عبدالخبیر آزاد

پاکستان میں کم عمر خواتین بریسٹ کینسر کا شکار کیوں ہو رہی ہیں؟ خاموش گلٹی بھی خطرے کی گھنٹی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں

یورپ کی جین زی اتنے غصے میں کیوں ہے؟