قذافی اسٹیڈیم میں پاکستان اور انگلینڈ کے درمیان چوتھا ون ڈے میچ جاری ہے، جسے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) بریسٹ کینسر سے آگاہی کے دن کے طور پر منا رہا ہے۔ پاکستانی کھلاڑی خصوصی گلابی کٹس میں میدان میں موجود ہیں جبکہ پورا اسٹیڈیم گلابی رنگ میں رنگا ہوا ہے۔
آج اتوار 25 اکتوبر کو کھیلا جانے والا یہ میچ پاکستان، انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان 3 ملکی سیریز کا حصہ ہے۔ پی سی بی اس کا اہتمام اپنی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:لندن میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے اعزاز میں عشائیہ، محسن نقوی کا صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے سے گریز
یہ اقدام بریسٹ کینسر سے آگاہی کے عالمی مہینے کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد بروقت تشخیص، باقاعدہ اسکریننگ اور بروقت علاج کی اہمیت اجاگر کرنا اور ملک بھر میں اس مرض سے متعلق شعور اجاگر کرنا ہے۔
گلابی کٹس، گلابی اسٹمپس اور آگاہی پیغامات
پاکستان مینز کرکٹ ٹیم بریسٹ کینسر کے مریضوں اور اس مرض سے صحت یاب ہونے والوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے خصوصی طور پر ڈیزائن کی گئی گلابی کٹس پہن کر کھیل رہی ہے۔
4️⃣ for Shaheen Shah Afridi. 3️⃣ catches for Babar Azam ✨
England are bowled out for 241! 🎯
#PAKvENG | #CricketKaJashan | #PinkDay https://t.co/nP1rIRTzEB
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) October 25, 2026
انگلینڈ کی ٹیم، میچ آفیشلز اور کمنٹیٹرز کو بھی اس مقصد کی حمایت میں گلابی ربن لگانے کی دعوت دی گئی ہے۔میچ میں گلابی رنگ کی اسٹمپس استعمال کی جا رہی ہیں۔
اسٹیڈیم کی بڑی اسکرین اور ایل ای ڈی پیرامیٹر بورڈز پر پورے میچ کے دوران بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی پیغامات اور مہم کے بصری مناظر دکھائے جا رہے ہیں۔
کمنٹیٹرز لائیو نشریات کے دوران بھی آگاہی پیغامات دے رہے ہیں، تاکہ یہ پیغام پاکستان اور بیرونِ ملک موجود ناظرین تک پہنچ سکے۔
میچ شروع ہونے سے 2 گھنٹے قبل شروع ہونے والی خصوصی پنک ربن سرگرمیاں قذافی اسٹیڈیم میں منعقد ہوئیں۔ ان کے ذریعے تماشائیوں کو اس مہم سے جوڑا جا رہا ہے اور بروقت تشخیص اور متاثرہ افراد کی معاونت کی اہمیت پر زور دیا جا رہا ہے۔
ڈیجیٹل مہم اور ویڈیو پیغامات
پی سی بی میچ سے پہلے کے دنوں سے ڈیجیٹل اور پروموشنل سرگرمیاں بھی کر رہا تھا۔ پاکستانی کھلاڑی بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی کے لیے خصوصی ویڈیو پیغامات میں نظر آ رہے تھے، جبکہ بورڈ کے سرکاری سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مخصوص مواد اور پیغامات کے ذریعے مہم کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
مہم کی مزید تشہیر کے لیے پی سی بی نے گلابی تھیم پر مبنی محدود ایڈیشن مرچنڈائز متعارف کروایا، جس میں ٹریول پولو شرٹس اور فین شرٹس شامل ہیں۔ شائقین یہ شرٹس خرید کر اس مقصد سے اپنی وابستگی کا اظہار کر رہے ہیں۔
مفت اسکریننگ کی سہولت جاری
پی سی بی نے پنک ڈے کا انعقاد لاہور کے پنک ربن بریسٹ کینسر ٹرسٹ اسپتال کے اشتراک سے کیا ہے۔ اس شراکت داری کے تحت شائقین کے لیے اسپتال میں 24 سے 26 اکتوبر تک مفت اسکریننگ کی سہولت جاری ہے۔
مزید پڑھیں:خودکشی روکنے کے لیے بھارتی یونیورسٹی کا انوکھا اقدام، ہاسٹلز میں ’اینٹی سوسائیڈ پنکھے‘ نصب
پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سمیر احمد سید کا کہنا ہے کہ ’پاکستان کرکٹ بورڈ اس ذمہ داری کا بخوبی ادراک رکھتا ہے جو ملک میں کرکٹ کی بے پناہ مقبولیت اور اثر و رسوخ کے ساتھ عائد ہوتی ہے۔
Supporting an important cause 💗
Pakistan team in pink for #PinkDay 🇵🇰
#PAKvENG | #CricketKaJashan https://t.co/3Nervam9Y7
— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) October 25, 2026
پنک ربن مہم کے ذریعے ہم بین الاقوامی کرکٹ کے پلیٹ فارم کو بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی بڑھانے اور بروقت تشخیص اور بروقت طبی توجہ کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘
ان کے مطابق ‘یہ اقدام پی سی بی کے اس مسلسل عزم کا عکاس ہے کہ وہ اپنی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری نبھاتا رہے گا اور کرکٹ کو مثبت تبدیلی کی قوت کے طور پر بروئے کار لائے گا۔ ہم کھلاڑیوں، آفیشلز، براڈکاسٹرز اور اس اہم مقصد کی حمایت کرنے والے تمام افراد کے شکر گزار ہیں۔
پی سی بی کے ڈائریکٹر کمرشل علی عدنان زیدی کا کہنا ہے کہ ’کرکٹ لاکھوں لوگوں سے رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے اور اس اقدام کے ذریعے ہم اس رسائی کو بریسٹ کینسر سے متعلق بامعنی آگاہی اور شمولیت میں بدل رہے ہیں۔
ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے شائقین اس مہم کا فعال حصہ بنیں اور بروقت تشخیص اور اسکریننگ کا پیغام اپنے خاندانوں اور کمیونٹیز تک پہنچائیں۔‘ پنک ربن پاکستان کے بانی اور اعزازی سی ای او عمر آفتاب کا کہنا ہے کہ ’کرکٹ پاکستان کو متحد کرنے کی طاقت رکھتی ہے ۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں پنک سالٹ ویلیو ایڈیشن فنانسنگ اسکیم کا آغاز، 5 ارب روپے کے بلاسود قرضے دیے جائیں گے
ہر سال اکتوبر کو دنیا بھر میں بریسٹ کینسر سے آگاہی کے مہینے کے طور پر منایا جاتا ہے، جس کی علامت گلابی ربن ہے۔
ماہرین کے مطابق ابتدائی مرحلے میں تشخیص سے علاج کے نتائج بہتر ہوتے ہیں، اسی لیے اسکریننگ اور خود معائنے پر زور دیا جاتا ہے۔
پاکستان میں بھی بریسٹ کینسر خواتین میں سب سے عام کینسر میں شمار ہوتا ہے، اور اسی تناظر میں اس مرض سے متعلق آگاہی مہمات کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔










