پاکستان کی نئی آٹو پالیسی 31-2026 سے گاڑیوں کی صنعت میں سرمایہ کاری بڑھانے، الیکٹرک گاڑیوں (EVs) کو فروغ دینے، نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانے اور صارفین کو زیادہ انتخاب فراہم کرنے کی توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم اس پالیسی کے ممکنہ فوائد کے ساتھ کئی اہم سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔
سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا نئی پالیسی پاکستان میں مقامی مینوفیکچرنگ، روزگار اور برآمدات کو فروغ دے گی، یا اس کے نتیجے میں ملک کا انحصار درآمدی گاڑیوں اور مقامی اسمبلی پر مزید بڑھ جائے گا؟
پاکستان میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران آٹوموبائل انڈسٹری میں سرمایہ کاری بڑھانے اور نئی کمپنیوں کو راغب کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے گئے۔
ٹیرف مراعات کے ذریعے مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری اور آٹو پارٹس کی صنعت کو فروغ دینے کی کوشش کی گئی، لیکن اس کے باوجود گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی برآمدات میں وہ پیش رفت نہ ہو سکی جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
یہ بھی پڑھیں:جرمن آٹو موبائل کمپنی ووکس ویگن کی گاڑیوں کی فروخت میں نمایاں کمی، وجہ کیا ہے؟
نئی پالیسی کے حوالے سے صنعت کاروں اور آٹو سیکٹر سے وابستہ شخصیات کی آرا، جو ’وی نیوز‘ نے حاصل کی ہیں، اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ پالیسی کی کامیابی کا انحصار صرف گاڑیوں کی فروخت، نئے ماڈلز کی آمد یا ٹیکس میں ممکنہ کمی پر نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ دیکھنا بھی ضروری ہوگا کہ اس سے مقامی صنعت، صارفین اور ملکی معیشت کو حقیقتاً کتنا فائدہ پہنچتا ہے۔
ٹیکس میں کمی کا مطلب گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی نہیں
پاک وہیلز کے چیئرمین سنیل منج کے مطابق حکومت کی نئی آٹو پالیسی میں ٹیکس کم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ گاڑیوں کی قیمتیں بھی لازماً کم ہو جائیں گی۔
ان کے مطابق ‘MG’، ‘Jetour’، ‘Haval’ اور ‘Chery’ جیسی کمپنیوں نے اپنی گاڑیوں کی قیمتیں پہلے ہی 8 سے 9 فیصد ٹیکس کو مدنظر رکھ کر مقرر کی تھیں، جبکہ ٹیکس 18 فیصد ہونے پر انہوں نے اضافی بوجھ خود برداشت کیا۔ اس لیے اب ٹیکس کم ہونے پر قیمتوں میں اتنی بڑی کمی کی توقع رکھنا درست نہیں۔
انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ پالیسی ابھی حتمی منظوری اور آئی ایم ایف کے عمل سے مشروط ہو سکتی ہے، لہٰذا اس کی بنیاد پر قیمتوں میں کمی کے دعوے قبل از وقت ہیں۔
سنیل منج کے مطابق PHEVs’، ‘REEVs اور ‘NEVs’ کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا امکان کم ہے، کیونکہ ان میں سے کئی گاڑیاں پہلے ہی مسابقتی قیمتوں پر فروخت ہو رہی ہیں۔ تاہم، اگر کوئی کمپنی مارکیٹ میں اپنا حصہ بڑھانے کے لیے قیمتیں غیر معمولی طور پر کم کر دے تو دوسری کمپنیوں کو بھی ایسا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے قیمتوں کی جنگ شروع ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب بعض پیٹرول گاڑیوں پر اضافی لیوی یا ٹیکس لاگو ہونے کی صورت میں ان کی قیمتیں بڑھ بھی سکتی ہیں۔ البتہ یہ ان کا تجزیہ ہے، کوئی حتمی نتیجہ نہیں، اصل اثر پالیسی کی حتمی منظوری، ٹیکس کے اطلاق اور کمپنیوں کے فیصلوں پر منحصر ہوگا۔
ان کا کہنا ہے کہ نئی آٹو پالیسی کے تحت ٹیکس میں ممکنہ کمی کا فائدہ صارفین تک پہنچنا یقینی نہیں۔ اگر کمپنیاں اپنی قیمتیں برقرار رکھتی ہیں تو ٹیکس میں کمی کے باوجود خریداروں کو متوقع ریلیف نہیں ملے گا۔
دوسری جانب اگر نئی کمپنیوں کے درمیان مسابقت بڑھتی ہے تو بعض گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
صنعتی ترقی کے لیے نئی آٹو پالیسی کتنی اہم ہے؟
پاکستان کی آٹو انڈسٹری کے لیے سب سے اہم سوال مقامی مینوفیکچرنگ کا ہے۔ اگر نئی پالیسی کے تحت مکمل تیار شدہ گاڑیوں (‘CBUs’) کی درآمد اور نیم تیار شدہ کٹس (‘SKDs’) کی اسمبلی کو زیادہ مراعات ملتی ہیں تو اس سے مقامی سطح پر گاڑیوں کی تیاری کے بجائے درآمدی کاروبار کو فائدہ پہنچنے کا خدشہ ہے۔
مقامی آٹو پارٹس کی صنعت گاڑیوں کی تیاری کے پورے نظام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ شیٹ میٹل، ربڑ، پلاسٹک، فورجنگ، کاسٹنگ اور دیگر پرزہ جات کی مقامی تیاری سے نہ صرف روزگار پیدا ہوتا ہے بلکہ صنعتی مہارت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
ماضی میں جاپانی آٹوموبائل کمپنیوں کی جانب سے نئے ماڈلز کی لانچنگ سے تقریباً دو سال پہلے مقامی آٹو پارٹس مینوفیکچررز کے ساتھ کام شروع کرنے کا طریقہ مقامی سپلائی چین کی ترقی کے لیے اہم سمجھا جاتا تھا۔
اس عمل سے مقامی صنعت کاروں کو نئی ٹیکنالوجی سیکھنے، پیداواری صلاحیت بڑھانے اور عالمی معیار کے مطابق پرزہ جات تیار کرنے کے مواقع ملتے تھے۔
اگر نئی پالیسی میں مقامی سپلائرز کی ترقی اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے مؤثر شرائط شامل نہ ہوئیں تو مقامی صنعت کو مطلوبہ فائدہ نہیں پہنچ سکے گا۔
مزید پڑھیں:امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی طویل ترین تقریر میں کتنے اور کون سے جھوٹ بولے؟
اس لیے ضروری ہے کہ حکومت نئی کمپنیوں کو مراعات دیتے وقت ان کی مقامی سرمایہ کاری، پیداواری صلاحیت اور مقامی پرزہ جات کی تیاری کے اہداف بھی واضح کرے۔
نئی آٹو پالیسی صنعتی ترقی اور معاشی استحکام کی جانب اہم قدم
راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے سابق سینئر نائب صدر دوست علی جان کا کہنا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی جانب سے نئی آٹو پالیسی کی تشکیل ایک خوش آئند اور صنعتی ترقی و معاشی استحکام کی جانب اہم قدم ہے۔
اس سے گاڑیوں کی صنعت میں مسابقت، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ، سرمایہ کاری میں اضافے اور صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے صنعتی شعبے میں اصلاحات اور ملکی معیشت کی بہتری کے لیے کی جانے والی کوششیں قابلِ تحسین ہیں۔ توقع ہے کہ اس پالیسی سے آٹو سیکٹر میں ترقی کے ساتھ ساتھ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور برآمدات کے فروغ میں بھی مدد ملے گی۔
تاہم پالیسی پر عمل درآمد کے دوران مقامی مینوفیکچرنگ، چھوٹی و درمیانے درجے کی صنعتوں اور مقامی پرزہ ساز اداروں کے مفادات کا تحفظ بھی یقینی بنایا جائے۔ صنعت کاروں کو آسان فنانسنگ، جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کے حصول میں سہولیات فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
دوست علی جان کی رائے نئی آٹو پالیسی کے ممکنہ مثبت پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔ ان کے مطابق اگر حکومت مقامی صنعت کاروں کو سہولتیں فراہم کرے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول قائم کرے تو پالیسی سے روزگار اور برآمدات میں اضافے کے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔
تاہم ان فوائد کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پالیسی میں اعلان کردہ مقاصد کو عملی شکل دینے کے لیے کتنے مؤثر اقدامات کیے جاتے ہیں۔
ٹیکس کی تبدیلیوں سے قیمتوں پر کیا اثر پڑے گا؟
فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ‘وجدان ایگزیکٹو’ کے چیف ایگزیکٹو جان باز دستگیر نے ‘وی نیوز’ سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی نئی آٹو پالیسی 31-2026 کے ممکنہ اثرات پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ ٹیکس میں کمی کا مطلب لازماً گاڑیوں کی قیمتوں میں کمی نہیں ہوتا۔
ان کے تجزیے کے مطابقDeepal S05’، Hunter K50′ اور دیگر رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک گاڑیوں (‘REEVs’) کے لیے اہم سوال یہ ہے کہ اگر سیلز ٹیکس کی شرح ایک فیصد سے بڑھ کر چھ فیصد ہو جاتی ہے تو کمپنیاں اس اضافی بوجھ کو خود برداشت کریں گی یا صارفین کو منتقل کریں گی۔
اسی طرح، اگر پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں (‘PHEVs’) پر ٹیکس 9 فیصد ہو بھی جائے تو ان کی قیمتیں کم ہونا یقینی نہیں، کیونکہ کمپنیاں پہلے ہی مسابقتی قیمتیں مقرر کر چکی ہو سکتی ہیں۔ تاہم، اگر مارکیٹ میں قیمتوں کا مقابلہ بڑھتا ہے تو بعض کمپنیاں صارفین کو رعایت دینے پر مجبور بھی ہو سکتی ہیں۔
جان باز دستگیر کے مطابق نئی پالیسی کے تحت بڑی انجن والی پیٹرول گاڑیوں پر مجوزہ آٹوموٹیو ڈیولپمنٹ لیوی کے باعث ‘Toyota Fortuner’ جیسی گاڑیاں مہنگی ہونے کا امکان بھی موجود ہے، جبکہ ‘REEV’ گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ٹیکس کے حتمی نفاذ اور کمپنیوں کی حکمتِ عملی پر منحصر ہے۔
یہ بھی پڑھیں:معیشت کی بحالی کے لیے نقصان میں چلنے والے اداروں کی نجکاری کریں گے، وزیراعظم شہباز شریف
پالیسی سے الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ، درآمدی ڈیوٹی میں بتدریج کمی، مقامی صنعت میں مقابلے اور آٹو سیکٹر کی برآمدات بڑھانے کے فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔
تاہم ان فوائد کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومتی تجاویز کس حد تک نافذ ہوتی ہیں اور ٹیکس میں رعایت کا کتنا فائدہ خریداروں تک پہنچتا ہے۔
ان کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ صرف ٹیکس میں کمی کی بنیاد پر گاڑیوں کی قیمتیں کم ہونے کی توقع قائم کرنا درست نہیں، اصل اثر کا اندازہ حتمی پالیسی اور کمپنیوں کی نئی قیمتوں سے ہی ہوگا۔
جان باز دستگیر نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ ٹیکس میں تبدیلیاں صرف قیمتوں پر اثر انداز نہیں ہوتیں بلکہ خریداروں اور کمپنیوں کے فیصلوں میں بھی غیر یقینی پیدا کر سکتی ہیں۔
اگر صارفین کو یہ واضح نہ ہو کہ نئی پالیسی کے نتیجے میں گاڑی کی قیمت کم ہوگی یا بڑھے گی تو وہ خریداری مؤخر کر سکتے ہیں۔ اس طرح پالیسی کے اثرات گاڑیوں کی فروخت، کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور مارکیٹ کی مجموعی سرگرمی پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
الیکٹرک گاڑیاں، ماحولیاتی فائدہ یا درآمدات میں اضافہ؟
نئی آٹو پالیسی میں الیکٹرک گاڑیوں اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کو ایک اہم موقع سمجھا جا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کا استعمال پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد پر انحصار کم کرنے اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے پیدا ہونے والی آلودگی میں کمی کے امکانات پیدا کر سکتا ہے۔
تاہم، اس فائدے کا انحصار بجلی کی پیداوار، چارجنگ کی سہولتوں، گاڑیوں کی قیمتوں اور مقامی سطح پر متعلقہ ٹیکنالوجی کی دستیابی پر بھی ہوگا۔
اگر الیکٹرک گاڑیوں کی مارکیٹ میں زیادہ تر مکمل تیار شدہ گاڑیاں درآمد کی جاتی رہیں تو اس شعبے میں مقامی صنعتی ترقی محدود رہ سکتی ہے۔
اس کے برعکس، اگر بیٹری پیک، وائرنگ، موٹرز، پاور الیکٹرانکس اور دیگر متعلقہ پرزہ جات کی تیاری پاکستان میں شروع ہوتی ہے تو نئی ٹیکنالوجی مقامی صنعت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت بڑھانے کے ساتھ مقامی پیداواری صلاحیت، چارجنگ انفرااسٹرکچر، بیٹری کی مرمت اور ری سائیکلنگ کے شعبوں پر بھی توجہ دے۔
مزید پڑھیں:کار کمپنیاں پاکستان میں گاڑیاں بنانے سے گریز کیوں کرتی ہیں؟
اس طرح پالیسی کا فائدہ صرف گاڑیوں کے صارفین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ نئی صنعتی سرگرمیوں اور روزگار کی صورت میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔
صارفین کے حقوق اور کمپنیوں کی طویل مدتی ذمہ داریاں
نئی کمپنیوں کی آمد سے صارفین کو گاڑیوں کے زیادہ ماڈلز اور مختلف ٹیکنالوجیز میں سے انتخاب کا موقع مل سکتا ہے، لیکن اس کے ساتھ بعد از فروخت خدمات کا سوال بھی اہم ہے۔
اگر کوئی کمپنی چند سال بعد پاکستان میں اپنا کاروبار بند کر دیتی ہے یا کسی مخصوص ماڈل کی فروخت روک دیتی ہے تو صارفین کو اسپیئر پارٹس، مرمت، وارنٹی اور سروس سینٹرز کی دستیابی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
جدید اور الیکٹرک گاڑیوں میں یہ مسئلہ مزید اہم ہے کیونکہ ان کی مرمت کے لیے خصوصی تربیت، تشخیصی آلات اور بعض اوقات مہنگے پرزہ جات درکار ہوتے ہیں۔
اگر ان سہولتوں کی دستیابی یقینی نہ ہو تو گاڑیوں کی دیکھ بھال کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں اور ان کی ری سیل ویلیو بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
اس لیے ضروری ہے کہ نئی آٹو پالیسی میں گاڑیوں کی فروخت کے ساتھ کمپنیوں کی طویل مدتی ذمہ داریوں کو بھی واضح کیا جائے۔ اسپیئر پارٹس کی دستیابی، وارنٹی، مرمت کی سہولتوں اور صارفین کی شکایات کے ازالے کے لیے قابلِ عمل ضوابط صارفین کے اعتماد کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
آٹو پالیسی کے فوائد کو حقیقت میں کیسے بدلا جا سکتا ہے؟
ماہرین کے مطابق پاکستان کی نئی آٹو پالیسی کے فوائد اسی وقت زیادہ نمایاں ہوں گے جب حکومت مقامی مینوفیکچرنگ، برآمدات، روزگار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے واضح اہداف مقرر کرے۔
صرف نئی گاڑیوں کی درآمد، اسمبلی پلانٹس کے قیام یا مارکیٹ میں ماڈلز کی تعداد بڑھنے کو صنعتی ترقی کا مکمل پیمانہ نہیں سمجھا جا سکتا۔
مقامی صنعت کو مضبوط بنانے کے لیے ضروری ہے کہ آٹو پارٹس بنانے والے اداروں کو جدید مشینری، آسان فنانسنگ اور تکنیکی تربیت تک رسائی دی جائے۔ اس کے ساتھ عالمی معیار کے مطابق مصنوعات تیار کرنے اور بیرونی منڈیوں میں فروخت کے لیے برآمدی حکمتِ عملی بھی مرتب کی جائے۔
آٹو پالیسی فائدہ مند ہوگی، مگر شرائط کے ساتھ
پاکستان کی نئی آٹو پالیسی 2026-2031 میں سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرک گاڑیوں اور صارفین کے لیے زیادہ انتخاب کے مواقع موجود ہیں۔ لیکن اس پالیسی سے ملکی معیشت کو کتنا فائدہ ہوگا، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ حکومت صنعتی ترقی کے اہداف کو کس طرح عملی شکل دیتی ہے۔








