یورپ کی سب سے بڑی آٹو موبائل کمپنی ووکس ویگن نے خبردار کیا ہے کہ اگر مزید لاگت میں کمی نہ کی گئی تو کمپنی کے مستقبل کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں کیونکہ منافع میں توقع سے زیادہ بڑی کمی سامنے آئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جون ایلیا کے خاندان کی ووکس ویگن گاڑی راولپنڈی میں شاندار انداز میں بحال
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کمپنی متعدد چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے جن میں چینی کمپنیوں کا بڑھتا ہوا مقابلہ، امریکی ٹیرف اور الیکٹرک گاڑیوں کی غیر مستقل طلب شامل ہیں۔ کمپنی پہلے ہی جرمنی میں 2030 تک 50 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کر چکی ہے۔
چیف فنانشل آفیسر ارنو اینٹلٹز نے سہ ماہی نتائج کے بعد کہا کہ موجودہ کٹوتی اقدامات ناکافی ہیں اور کمپنی کو اپنے کاروباری ماڈل میں بنیادی تبدیلیاں لانی ہوں گی اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کمپنی کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
بڑھتا ہوا دباؤ
آڈی، سیٹ اور اسکوڈا جیسے برانڈز کی مالک جرمن کمپنی ووکس ویگن نے کہا ہے کہ اسے اپنی پیداوار کی صلاحیت کو ایڈجسٹ کرنا اور مختلف پلانٹس میں لاگت کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔
مزید پڑھیے: ماسٹر چنگان کا بڑا اقدام: پاکستان کی پہلی رینج ایکسٹینڈڈ ہائبرڈ گاڑٰی ڈیپل SO5 متعارف

کمپنی کے مطابق چینی آٹو مینوفیکچررز جیسے بی وائی ڈی کی تیز توسیع خاص طور پر الیکٹرک گاڑیوں کے شعبے میں ووکس ویگن کا مارکیٹ شیئر کم کر رہی ہے۔
مزید برآں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے لگائے گئے ٹیرف کے باعث کمپنی کو سالانہ تقریباً 4 ارب یورو اضافی لاگت کا سامنا ہے۔
منافع اور فروخت میں کمی
جنوری سے مارچ کے دوران کمپنی کا خالص منافع 28 فیصد کمی کے ساتھ 1.56 ارب یورو رہ گیا جبکہ آمدنی 76 ارب یورو تک گر گئی اور ماہرین کی توقعات سے کم رہی۔
اس عرصے میں کمپنی نے 20 لاکھ سے زائد گاڑیاں فروخت کیں جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 4 فیصد کم ہیں۔
چینی مارکیٹ میں گاڑیوں کی فروخت 15 فیصد جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت 64 فیصد تک گر گئی۔ شمالی امریکا میں بھی 13 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
آئندہ حکمت عملی
ووکس ویگن نے 2026 کے لیے 0 سے 3 فیصد تک فروخت میں اضافے کی پیش گوئی کی ہے جبکہ منافع کا ہدف 4 سے 5.5 فیصد کے درمیان رکھا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور مہنگے پٹرول سے یورپی عوام کا رجحان الیکٹرک گاڑیوں کی طرف بڑھ گیا
کمپنی نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے ممکنہ اثرات کو غیر یقینی ہونے کے باعث اس کی پیش گوئی میں شامل نہیں کیا گیا۔
چیف ایگزیکٹو اولیور بلومے نے کہا کہ کمپنی پیداوار کو بہتر بنانے کے لیے مختلف آپشنز پر غور کر رہی ہے جن میں دفاعی پیداوار اور چینی ڈیزائن کی گاڑیاں جرمنی میں تیار کرنا بھی شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ چینی فیکٹریوں کی بڑھتی ہوئی کارکردگی کے باعث یورپی صنعت پر دباؤ بڑھ رہا ہے اس لیے ہر ممکن اقدام کرنا ہوگا۔
وسیع تر معاشی اثرات
ووکس ویگن کی مشکلات جرمنی کے صنعتی شعبے میں بڑے چیلنجز کی عکاسی کرتی ہیں، جہاں روایتی مینوفیکچررز سست طلب، بڑھتے اخراجات اور عالمی مقابلے کا سامنا کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: جرمنی میں اعلیٰ معیاری تعلیم کے 10 پرکشش شعبے کون سے ہیں؟
کمپنی کا سالانہ منافع سنہ 2025 میں گزشتہ تقریباً ایک دہائی کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تھا۔













