7 ستمبر سے جنیوا میں شروع ہونے والے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے اعلیٰ کمیشن (UNHCR) کے 63ویں اجلاس کے موقع پر پاکستان نے حقوقِ انسانی، بالخصوص اقلیتوں کے تحفظ اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ سے متعلق اپنی تاریخی کامیابیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 63ویں اجلاس کے پیشِ نظر پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کا آئین تمام شہریوں کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے اور اس کی تبلیغ کی مکمل آزادی کی ضمانت دیتا ہے۔ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے اصولوں کے مطابق ریاست کسی فرد کے شخصی عقیدے میں مداخلت نہیں کرتی۔
اس وقت ملک بھر میں مسیحی برادری کی 2,189 گرجا گھر (ہر 1206 مسیحیوں کے لیے ایک چرچ)، ہندو برادری کے 732 مندر (ہر 5669 ہندوؤوں کے لیے ایک مندر) اور سکھ برادری کے 58 گردوارے (ہر 159 سکھوں کے لیے ایک گردوارہ) موجود ہیں، جو اقلیتوں کو حاصل آزادی کا واضح ثبوت ہے۔
قانون ساز ایوانوں اور اعلیٰ عہدوں میں نمائندگی
پاکستان کی تمام صوبائی اور قومی ایوانوں میں اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں مختص کی گئی ہیں، جن میں سینٹ میں 4، قومی اسمبلی میں 10 اور تمام صوبائی اسمبلیوں میں مجموعی طور پر 23 مخصوص نشستیں شامل ہیں (سندھ: 9، پنجاب: 8، بلوچستان: 3، خیبر پختونخوا: 3)۔
علاوہ ازیں، تمام وفاقی سرکاری ملازمتوں میں کھلے میرٹ کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کے لیے 5 فیصد کوٹہ بھی مختص ہے۔ اس وقت مختلف سرکاری محکموں میں گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے 2,000 سے زائد اقلیتی افسران خدمات انجام دے رہے ہیں۔ قومی کمیشن برائے اقلیات (NCM) کی دوبارہ تشکیل کی گئی ہے جس کی سربراہی اقلیتی برادری کے رکن چیلا رام کیوانی کر رہے ہیں۔
یکساں قومی نصاب اور فلاحی اقدامات
پرا ئمری سطح پر یکساں قومی نصاب کے تحت سات غیر مسلم برادریوں (مسیحی، ہندو، سکھ، کیلاش، بہائی، بدھ مت اور زرتشتی) کے لیے انہی کے مذہبی علماء کی مشاورت سے علیحدہ نصاب شامل کیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی نے دسمبر 2020 میں اقلیتوں کے لیے اینڈوومنٹ فنڈ قائم کیا، جبکہ مارچ 2014 سے اقلیتی طلبہ کے لیے اسکالرشپس کی شرح دگنی کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، اقلیتی برادری کے تمام مذہبی تہواروں (ہولی، دیوالی، ایسٹر، کرسمس، گرو نانک جنم دن وغیرہ) پر سرکاری تقریبات، سیکیورٹی کے سخت انتظامات اور مقامی تعطیلات کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
مذہبی سیاحت اور تاریخی اقدامات
پاکستان نے مذہبی سیاحت کو فروغ دینے کے لیے تاریخی اقدامات کیے ہیں۔
مثلاً عالمی سکھ برادری کے لیے تاریخی کرتارپور صاحب راہداری کا افتتاح اور بابائے قوم گرو نانک کا 550واں جنم دن سرکاری سطح پر منانا۔
جہلم میں شو والا تیجا مندر اور گردوارہ چوہا صاحب کا دوبارہ کشادہ کیا جانا اور کٹاس راج میں امر کنڈ پانی کی بحالی۔
دنیا بھر سے 60 ہزار سے زائد زائرین کی میزبانی اور روپوش کوریائی بدھ مت وفد کے دورۂ پاکستان سے گندھارا تہذیب اور مذہبی سیاحت کا فروغ۔
جبری تبدیلیٔ مذہب کی روک تھام اور قانونی تحفظ
حکومت نے جبری تبدیلیٔ مذہب اور بے جا الزامات سے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات بھی کیے ہیں۔
ہندو میرج ایکٹ 2017 اور سندھ ہندو میرج ایکٹ (ترمیم شدہ 2018) کے ذریعے ہندو خواتین کے قانونی و ازدواجی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا گیا۔ پنجاب حکومت نے دنیا کا پہلا سکھ میرج ایکٹ نافذ کیا۔
پاکستان ہندو کونسل کے چیئرمین ڈائریکٹر رمیش کمار اور مقامی علماء کے درمیان مشترکہ معاہدہ طے پایا ہے، جس کے تحت تبدیلیٔ مذہب کے خواہش مند فرد کی پہلے والدین سے علیحدگی میں ملاقات اور مقامی ہندو قیادت کو اطلاع دینا لازمی ہوگا۔
توہینِ مذہب کے قوانین کا غیر جانبدارانہ اور بلا امتیاز اطلاق کیا جاتا ہے۔ 2005 سے اب تک سزا پانے والوں میں 79 فیصد مسلمان جبکہ 21 فیصد اقلیتی افراد شامل ہیں، اور اعلیٰ عدلیہ نے آسیہ بی بی، شگفتہ کوثر، شفقت ایمانوئل اور نوٹان لال سمیت متعدد افراد کو میرٹ پر بری الذمہ قرار دیا۔
سکھ برادری کا تحفظ اور مقامی ڈسٹرکٹ کمیٹیاں
پشاور اور دیگر علاقوں میں سکھ برادری پر ہونے والے ماضی کے واقعات پر فوری کارروائی کرتے ہوئے سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب، سادہ کپڑوں میں پولیس اہلکاروں کی تعیناتی اور سی ٹی ڈی (CTD) کے ذریعے دہشت گرد عناصر (بشمول چار غیر ملکی سہولت کار) کی گرفتاری کی گئی ہے۔
تحصیل سطح پر کوئیک ریسپانس مائنارٹی ٹاسک فورسز اور ڈاکٹر شعیب سڈل کی سربراہی میں ‘ون مین کمیشن’ کی زیرِ نگرانی ضلاعی کمیٹیوں کے ذریعے اقلیتوں کے مسائل مقامی سطح پر حل کیے جا رہے ہیں۔













