حکومت نے مزید وقت مانگا ہے، پیٹرولیم لیوی ختم نہ ہوئی تو نومبر میں اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے، حافظ نعیم

منگل 27 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کے مطالبے پر نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی جانب مارچ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب احتجاج مزید مؤخر نہیں کیا جائے گا۔ حکومت نے اس سے قبل عوام کو ریلیف دینے اور پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا طریقہ کار وضع نہ کیا تو سڑکوں پر بیٹھ کر بات کرنا پڑ سکتی ہے۔

منگل کو اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنے اسلام آباد مارچ کو مزید ملتوی نہیں کرے گی اور یہ مارچ نومبر کے وسط میں ہر صورت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ عوام کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کرے، عملی ریلیف فراہم کرے اور پیٹرولیم مصنوعات پر عائد بھاری لیوی ختم کرنے کا طریقہ کار طے کرے۔

حافظ نعیم الرحمان نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مطالبات پورے نہ کیے تو جماعت اسلامی کو سڑکوں پر بیٹھ کر بات کرنا پڑ سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ہر صورتحال کے لیے تیار ہیں۔

وزیراعظم سے ملاقات میں کن امور پر اتفاق ہوا؟

وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے نتائج سے متعلق سوال پر حافظ نعیم الرحمان نے مذاکرات کو بے نتیجہ قرار دینے سے گریز کیا۔

انہوں نے بتایا کہ دونوں فریق عوام کو دیے جانے والے ریلیف کا دائرہ بڑھانے پر متفق ہیں، تاہم اس ریلیف کی فراہمی کے طریقہ کار اور عملی اقدامات کے حوالے سے اختلافات برقرار ہیں۔

امیر جماعت اسلامی کے مطابق ان کی جماعت پیٹرولیم لیوی کا مکمل خاتمہ چاہتی ہے، جبکہ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کے خاتمے کی جانب مرحلہ وار پیش رفت کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کا مطالبہ واضح ہے کہ پیٹرولیم لیوی ختم کی جائے، تاہم حکومت اسے بتدریج ختم کرنے کی بات کر رہی ہے۔

اس سے قبل منگل کو تقریباً شام 4 بجے جماعت اسلامی کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ حافظ نعیم الرحمان وزیراعظم ہاؤس پہنچ گئے ہیں۔

ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ، ڈپٹی سیکریٹری جنرل سید فراست شاہ اور امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا سمیت دیگر رہنما بھی وفد میں شامل تھے۔

جماعت اسلامی گزشتہ 2 ماہ سے زیادہ عرصے سے وفاقی حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

مارچ سے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی مہم شروع کی تھی۔

ستمبر کے آغاز میں وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان لیوی میں کمی کے لیے اقدامات تجویز کرنے کی غرض سے کمیٹیاں تشکیل دینے پر اتفاق ہوا تھا۔ اس وقت جماعت اسلامی نے ملک گیر ہڑتال کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔

حافظ نعیم الرحمان نے پیر کو بھی خبردار کیا تھا کہ اگر وزیراعظم نے پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو جماعت اسلامی نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی جانب مارچ کرے گی۔

دھرنوں سے اسلام آباد مارچ تک، احتجاج کب کب ہوا؟

جماعت اسلامی نے 16 اگست کو پیٹرولیم لیوی کے خلاف پاکستان کے تمام صوبائی دارالحکومتوں میں دھرنوں کا اعلان کیا تھا، جبکہ 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کی کال بھی دی گئی تھی۔

بعد ازاں 20 ستمبر کو جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ شروع کیا اور خبردار کیا کہ اگر حکومت نے پیٹرولیم لیوی ختم نہ کی تو احتجاج حکومت کے خاتمے کی تحریک میں بھی تبدیل ہو سکتا ہے۔

22 ستمبر کو حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی نے وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر اپنا لانگ مارچ مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس وقت جماعت اسلامی کا قافلہ ملتان پہنچ چکا تھا۔

امیر جماعت اسلامی کے مطابق وزیراعظم نے معاملات پر بات چیت کے لیے ملاقات کی یقین دہانی کرائی تھی، جس کے بعد مارچ ملتوی کیا گیا۔

تاہم گزشتہ ہفتے ایک پریس ریلیز میں جماعت اسلامی نے الزام عائد کیا تھا کہ طے شدہ ملاقات کے حوالے سے حکومت نے اس کے بعد کوئی رابطہ نہیں کیا۔

اب وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے بعد حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا ہے کہ پیٹرولیم لیوی کے خاتمے اور عوام کو ریلیف دینے کے طریقہ کار پر اختلافات برقرار ہیں، اس لیے جماعت اسلامی نومبر کے وسط میں اسلام آباد مارچ کے فیصلے پر قائم ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp