وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے کہا ہے کہ حکومت نے گندم کی امدادی قیمت 3 ہزار روپے سے بڑھا کر 4500 روپے فی من مقرر کی ہے، جبکہ کھاد کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے کسانوں کو 17 ارب روپے کی سبسڈی بھی فراہم کی جائے گی۔
کسانوں کے نمائندہ وفد سے گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ گندم کی کاشت کا موسم شروع ہوچکا ہے اور حکومت امدادی قیمت پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔ ڈی اے پی اور دیگر کھادوں کی قیمتوں میں اضافے کے پیش نظر کسانوں کے لیے خصوصی پیکج تیار کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا لاہور میں کسانوں کے نمائندہ وفد سے خطاب https://t.co/imHCe04Myq
— PMLN (@pmln_org) October 28, 2026
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ کسان کارڈ کے ذریعے پنجاب کے تقریباً 10 لاکھ کسان رجسٹرڈ ہیں۔ چھوٹے کسانوں کو ہر فصل سے پہلے مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ کھاد، زرعی ادویات اور دیگر ضروری مداخل خرید سکیں۔ حکومت اب فی ایکڑ 3500 روپے کی اضافی سبسڈی بھی دے گی، جس کے لیے مجموعی طور پر 17 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ یہ رقم کسان کارڈ رکھنے والے کسانوں کو فراہم کی جائے گی۔
مریم نواز کے مطابق کسان کارڈ کے ذریعے گزشتہ 2 برس کے دوران کسانوں کو 400 ارب روپے فراہم کیے جاچکے ہیں، جبکہ اس اسکیم کی رقم کی واپسی کی شرح تقریباً 100 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل نظام کے ذریعے شفافیت یقینی بنائی گئی ہے تاکہ کسانوں کو براہ راست مالی مدد ملے اور وہ قرض کے لیے مڈل مین کے محتاج نہ رہیں۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا منڈی بہاؤالدین کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح
انہوں نے بتایا کہ گندم کی فصل کے لیے 150 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ’اپنا کھیت، اپنا روزگار‘ پروگرام کے تحت تقریباً 30 ہزار خاندانوں کو زمین کی تیاری اور کاشتکاری کے لیے فی ایکڑ 50 ہزار روپے فراہم کیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گندم کی پیداوار بڑھانے سے نہ صرف غذائی تحفظ بہتر ہوگا بلکہ آٹے، پاستا اور دیگر مصنوعات کی تیاری کے ذریعے زرعی پیداوار میں قدر بڑھانے اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا کرنے میں بھی مدد ملے گی۔











