پاکستان میں مصنوعی ذہانت کا دائرہ وسیع کرنے کا فیصلہ، وزیراعظم شہباز شریف نے منصوبوں پر عملدرآمد تیز کرنے کا حکم دیدیا

بدھ 28 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹلائزیشن میں مضمر ہے، جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال سے پاکستان میں تجارت، برآمدات، زرعی پیداوار، کاروباری سہولتوں اور سرکاری خدمات کے معیار کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی ہے کہ علی بابا گروپ کے ساتھ تعاون کے تحت جاری منصوبوں پر تمام ضروری اقدامات نومبر تک مکمل کرکے رپورٹ پیش کی جائے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت معیشت اور گورننس میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹلائزیشن اور اس حوالے سے علی بابا گروپ کے ساتھ تعاون میں پیشرفت کا جائزہ اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔

مزید پڑھیں: پنجاب پرفارمرز ڈیجیٹل شناخت اور مصنوعی ذہانت تحفظ ایکٹ 2026 کیا ہے؟

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ناگزیر ہے اور اس سلسلے میں علی بابا کی جانب سے زرعی شعبے میں آٹومیشن کے لیے تعاون خوش آئند ہے۔

انہوں نے پاکستانی زرعی اجناس کی چینی منڈیوں میں برآمدات کے فروغ کے لیے علی بابا کے تعاون کو بھی خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ملکی زرعی پیداوار اور برآمدات میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ علی بابا کے تعاون سے کینسر کی پیشگی تشخیص کے نظام کا اطلاق بھی جلد یقینی بنایا جائے تاکہ صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت سے استفادہ کیا جاسکے۔

انہوں نے وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے تحت جاری پروگرام اگنائیٹ اور علی بابا کے اشتراک سے آئی ٹی گریجویٹس کے لیے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں 15 روزہ تربیتی پروگرام جلد شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو ہدایت کی کہ علی بابا کے تعاون سے پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی چین کی نگرانی کے لیے ڈیٹا اینالیٹکس کا جدید نظام جلد متعارف کرایا جائے۔

انہوں نے ایکسپورٹ پروموشن بورڈ کو بھی ہدایت کی کہ علی بابا کے ساتھ مل کر ملکی برآمدات میں اضافے کے لیے مؤثر تعاون یقینی بنایا جائے۔

وزیراعظم نے اپنے دورہ چین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہانگژو میں علی بابا کے ہیڈکوارٹر کے دورے کے دوران گروپ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ علی بابا اور حکومت پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری سے بھرپور فائدہ اٹھانا ضروری ہے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی فراہم کرنا اور ملک میں ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

وزیراعظم نے زور دیا کہ علی بابا گروپ کے ساتھ تعاون کو عملی اور ٹھوس نتائج میں تبدیل کرنے کے لیے تمام منصوبوں پر واضح اہداف، مقررہ مدت اور مؤثر نگرانی کے تحت عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے متعلقہ وزارتوں کو ہدایت کی کہ نومبر تک تمام ضروری اقدامات مکمل کرکے پیش رفت کی رپورٹ پیش کی جائے۔

علی بابا کے تعاون سے مختلف شعبوں میں جاری منصوبوں پر بریفنگ

اجلاس کے دوران حکومت پاکستان اور علی بابا گروپ کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کے تحت مختلف شعبوں میں جاری منصوبوں اور ان پر ہونے والی پیش رفت کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

حکام نے بتایا کہ زراعت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت پر مبنی ماڈلز، تمباکو کی ٹریک اینڈ ٹریس ٹیکنالوجی اور سٹرس پھلوں اور زیتون کی برآمدات کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی تیاری پر کام جاری ہے۔

اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ علی بابا کے پلیٹ فارم پر پاکستانی مصنوعات کی برآمدات کے فروغ کے لیے خصوصی ویب سائٹ پر پاکستان پویلین بھی قائم کردیا گیا ہے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان سنگل ونڈو کے ذریعے تجارتی دستاویزات کی ڈیجیٹل تصدیق کا نظام فعال کردیا گیا ہے، جس سے تجارتی امور کو ڈیجیٹل بنیادوں پر استوار کرنے میں مدد ملے گی۔

اسی طرح ایس ایم ایز ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور علی بابا کے اشتراک سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو عالمی منڈیوں تک رسائی، تربیت اور ای کامرس کے مواقع فراہم کرنے کے لیے 2 سالہ پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے۔

اجلاس میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ (پرال) کے لیے جدید ڈیٹا پلیٹ فارم اور سینٹرل ڈیٹا ہب کی تیاری پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔

صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے کینسر کی تشخیص کے مجوزہ پائلٹ منصوبے پر ہونے والی پیش رفت سے بھی وزیراعظم کو آگاہ کیا گیا۔

توانائی کے شعبے سے متعلق بریفنگ میں بتایا گیا کہ اوگرا کو ایندھن کی سپلائی چین کے ڈیٹا کے تجزیے کے لیے مصنوعی ذہانت اور بزنس انٹیلی جنس ٹولز فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔

مزید پڑھیں: پاکستان ’اے آئی‘ کے میدان میں آگے بڑھنے لگا، نوجوان ماہرین اور اسٹارٹ اپس کے لیے بے شمار مواقع

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ اعلیٰ تعلیم، ریلوے، پوسٹل سروس اور شہری انتظام کے شعبوں میں بھی ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق مختلف اقدامات تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

اجلاس میں وفاقی وزرا احسن اقبال، رانا تنویر حسین، جام کمال خان، ڈاکٹر مصدق ملک، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، عطا اللہ تارڑ، شزہ فاطمہ خواجہ، سید مصطفیٰ کمال، عبدالعلیم خان، وزیر مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp