آزاد کشمیر کے شہر راولاکوٹ میں جون سے جاری ہنگاموں، ہڑتالوں اور مسلح تصادم کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ شہر میں کاروباری سرگرمیوں کی بندش، تعلیمی سرگرمیاں رک جانے، آمدورفت میں رکاوٹوں اور اشیائے ضروریہ کی قلت نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ اس صورتحال کے باعث طلبہ، تاجر، مزدور اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے شروع کیے گئے احتجاج کو آزاد کشمیر بھر کے عوام نے مسترد کیا تو مسلح تنظیم کے کارندوں میں راولاکوٹ شہر کو اپنا مرکز بنا لیا، جس کے اثرات وہاں کے عوام پر پڑ رہے ہیں۔
جون سے جاری کشیدگی نے شہر کی معاشی، تعلیمی اور سماجی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ بازاروں کی بندش اور راستوں پر رکاوٹوں کے باعث شہریوں کو روزمرہ ضروریات پوری کرنے میں مشکلات پیش آرہی ہیں، جبکہ محدود آمدن رکھنے والے خاندانوں کے معاشی مسائل بڑھ رہے ہیں۔
مسلح تصادم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے
کالعدم ایکشن کمیٹی سے وابستہ مسلح افراد کی فائرنگ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کئی اہلکار شہید ہو چکے ہیں جبکہ کئی راہ گیر بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کالعدم تنظیم کے پاس جدید اسلحہ کہاں سے آیا، انہیں اسلحہ کس نے فراہم کیا اور ان کی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل کہاں سے حاصل کیے جارہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کو کہنا ہے کہ شہریوں کو اپنے مطالبات پیش کرنے اور حکومت سے طے پانے والے معاہدوں پر عمل درآمد کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم اس مقصد کے لیے آئینی، قانونی اور پرامن راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
شہر کے داخلی راستوں پر ناکے اور میڈیا پر پابندیاں
راولاکوٹ کے داخلی راستوں پر مسلح عناصر نے ناکے قائم کر رکھے ہیں، جن کا بظاہر مقصد قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شہر میں داخل ہونے سے روکنا ہے، تاہم ان رکاوٹوں سے عام شہریوں کی نقل و حرکت بھی متاثر ہورہی ہے۔
اسی طرح ذرائع ابلاغ کو بعض علاقوں میں آزادانہ رپورٹنگ سے روکا جارہا ہے، جس کے باعث شہریوں کو درپیش مشکلات اور زمینی صورتحال مکمل طور پر سامنے نہیں آرہی۔
تعلیمی اداروں کی بندش اور کاروباری سرگرمیوں پر اثرات
راولاکوٹ میں جاری کشیدگی کے باعث اسکولوں، کالجوں اور جامعات کی بندش سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہورہی ہے۔ تعلیمی سرگرمیوں میں تعطل کے باعث والدین کو بچوں کے مستقبل کے حوالے سے تشویش لاحق ہے۔
اسی طرح بازاروں کی بندش اور آمدورفت میں رکاوٹوں سے دکانداروں، ٹرانسپورٹرز، ہوٹل مالکان اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
پونچھ کے سیاحتی علاقوں میں کشیدگی اور راستوں کی بندش سے سیاحتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی کاروبار اور روزگار پر مزید منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
اسمبلی کی 7 نشستوں پر انتخابات نہ ہو سکے
کالعدم ایکشن کمیٹی کی جانب سے پھیلائی گئی افراتفری کے باعث پونچھ ڈویژن کی 7 نشستوں پر انتخابات بھی نہیں ہو سکے، جن میں راولاکوٹ کے 5 اور سدھنوتی کے 2 حلقے شامل ہیں۔
ان نشستوں پر انتخابات نہ ہونے سے متعلقہ علاقوں کے شہری اسمبلی میں نمائندگی سے محروم ہیں۔
اب عوام کی جانب سے سوال کیا جارہا ہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر افتخار علی گیلانی اور ان کی کابینہ راولاکوٹ کی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے کیا اقدامات کررہی ہے۔
اسی طرح آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ سے شہریوں کے بنیادی حقوق، خصوصاً نقل و حرکت، تعلیم، روزگار اور اظہار رائے کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے منتخب نمائندوں اور امیدواروں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ محض بیانات تک محدود رہنے کے بجائے متاثرہ علاقوں میں شہریوں سے براہ راست رابطہ کریں اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے جرگے، مذاکرات یا مصالحتی کوششوں میں حصہ لیں۔
مسلح عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ میں مسلح عناصر کے خلاف آئین اور قانون کے دائرے میں بلاامتیاز کارروائی کی جائے، شہر کے داخلی راستوں پر قائم رکاوٹیں ختم کی جائیں اور شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت بحال کی جائے۔ جبکہ 7 حلقوں میں فوری طور پر عام انتخابات بھی ہونے چاہییں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق کالعدم تنظیم کے مطلوب رہنماؤں سے یہ سوال بنتا ہے کہ آخر وہ کس کے نام پر یہ سب کچھ کر رہے ہیں؟ جن شہریوں کے کاروبار تباہ ہوئے، جن بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی اور جن اہلکاروں کی شہادتوں کا الزام ان کے مسلح ساتھیوں پر ہے، کیا ان متاثرہ خاندانوں نے انہیں اپنی نمائندگی کا اختیار دیا تھا؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ان رہنماؤں کے دعوے درست ہیں تو انہیں عام شہریوں کو ڈھال بنانے اور مسلح افراد کی آڑ لینے کے بجائے خود سامنے آنا چاہیے، ہتھیار ڈال کر قانون اور عدالت کے روبرو اپنا مؤقف پیش کرنا چاہیے۔











