وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات کے لیے 30 رکنی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کی قومی اسمبلی سے باقاعدہ منظوری حاصل کرلی گئی ہے، جبکہ تحریک انصاف نے بھی ایوان میں اس حوالے سے پیش کی گئی تحریک کی مخالفت نہیں کی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طارق فضل چوہدری نے کہا کہ الیکشن ریفارم کمیٹی باضابطہ اور تکنیکی طور پر تشکیل پاچکی ہے، تاہم کمیٹی میں شامل ہونے والے ارکان کے ناموں کو حتمی شکل دینا باقی ہے۔ ارکان کے نام فائنل ہونے کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی ان کی تقرری کا نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ انتخابی اصلاحات کی پارلیمانی کمیٹی مجموعی طور پر 30 ارکان پر مشتمل ہوگی، جن میں قومی اسمبلی کے 20 اور سینیٹ کے 10 ارکان شامل ہوں گے۔
طارق فضل چوہدری کے مطابق قومی اسمبلی سے حکومتی بینچوں کے 15 جبکہ اپوزیشن کے 5 ارکان کمیٹی کا حصہ بنیں گے۔ اسی طرح سینیٹ سے مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے 2، 2 ارکان شامل ہوں گے، جبکہ باقی نشستیں دیگر جماعتوں اور ارکان کو دی جائیں گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ کمیٹی میں نشستوں کی تقسیم پارلیمان میں سیاسی جماعتوں کی عددی نمائندگی کے تناسب سے کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ قومی اسمبلی میں انتخابی اصلاحات کمیٹی کی تشکیل کے لیے تحریک پیش کی گئی تو پاکستان تحریک انصاف نے اس کی مخالفت نہیں کی۔
ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی میں محض ووٹنگ کی عددی حیثیت سے زیادہ اہمیت اپوزیشن کی شرکت، اس کی رائے اور مثبت تجاویز کو حاصل ہوگی۔ اپوزیشن کی جانب سے پیش کی جانے والی ہر مثبت اور قابلِ عمل تجویز کو انتخابی اصلاحات کا حصہ بنایا جائے گا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ قانون سازی کا عمل ہر دور میں ایوان کی اکثریت کی بنیاد پر ہی آگے بڑھتا ہے، تاہم حکومت انتخابی اصلاحات کے معاملے پر اپوزیشن کی تجاویز کو اہمیت دے گی۔
اپوزیشن کی قیادت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اس وقت اپوزیشن میں کوئی ایسا متفقہ رہنما موجود نہیں جس کی قیادت پر تمام جماعتیں متفق ہوں۔ اپوزیشن کی ہر جماعت کا اپنا الگ مؤقف اور سیاسی راستہ ہے، اس لیے سب کا الگ قبلہ ہے۔









