برازیل کے سینیٹر فلیویو بولسونارو نے امریکا پہنچنے کے بعد خود کو ملک کا حقیقی رہنما قرار دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ سپریم کورٹ اور صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا نے انتخابی نتائج میں دھاندلی کرکے انہیں اقتدار سے محروم کیا۔ تاہم انہوں نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
رائٹرز کے مطابق فلیویو بولسونارو برازیل چھوڑ کر میامی پہنچے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک کھلے خط میں کہا کہ وہ اپنے 6 کروڑ ووٹرز اور برازیل کے عوام کے رہنما ہیں، جبکہ ان کے بقول انتخابی نتائج چرانے والے عناصر نے ملک میں آمریت قائم کر رکھی ہے۔
فلیویو نے ارجنٹائن کے صدر خاویر میلی کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان کے امریکا پہنچنے میں مدد کی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بھی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انہیں اور ان کے خاندان کو امریکی ویزے دیے۔
Flavio Bolsonaro, Brazil’s defeated presidential candidate, landed in Florida after fleeing the country with his family, who were granted US visas by the Trump administration.
Brazil’s Supreme Court had ordered him to surrender his passports amid a money-laundering probe. pic.twitter.com/dPtQXOSpqz
— Al Jazeera English (@AJEnglish) October 28, 2026
برازیل کے انتخابی حکام عالمی رہنماؤں، بین الاقوامی مبصرین اور فلیویو کی اپنی جماعت نے لولا دا سلوا کی کامیابی کو تسلیم کیا ہے۔ برازیل کی انتخابی اتھارٹی کے سربراہ کاسیو نونیس مارکیز نے بھی کہا ہے کہ انتخابات قانونی اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہوئے۔
فلیویو بولسونارو نے اتوار کو ہونے والے انتخابات میں لولا دا سلوا کی کامیابی کو چیلنج کرتے ہوئے نتائج منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق ان کی درخواست کی کامیابی کے امکانات بہت کم ہیں۔ لولا نے انہیں تقریباً 45 لاکھ ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ ایک تجزیے کے مطابق اضافی دو گھنٹے ووٹنگ کے دوران ڈالے گئے ووٹ کل تعداد کا محض 0.03 فیصد تھے۔
فلیویو برازیل کی سپریم کورٹ کے اس حکم پر عمل کیے بغیر ملک سے روانہ ہوئے جس کے تحت منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے سلسلے میں انہیں اپنے پاسپورٹ جمع کرانے تھے۔ وہ کسی غلط کام میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:برازیل: لولا دا سلوا چوتھی بار صدر منتخب، مخالف امیدوار کا انتخابی نتائج چیلنج کرنے کا اعلان
ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے فلیویو کے الزامات پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، تاہم انہوں نے پہلے برازیل کے انتخابی عمل کو ’عجیب‘ قرار دیا تھا۔











