بلاول بھٹو کا محمود خان اچکزئی کو عمران خان کے دیے گئے اختیارات استعمال کرنے کا مشورہ

جمعرات 29 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے دیے گئے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے اپوزیشن اراکین کو پارلیمانی کمیٹیوں میں شرکت کی ہدایت کریں۔

جمعرات کو ایوان سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اگر پارلیمنٹ طاقتور ہوگی تو ہم سب طاقتور ہوں گے، کیونکہ یہ وہ طاقت ہے جو ہمیں پاکستان کے عوام نے دی ہے۔

انہوں نے اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس ایوان کو غیر فعال دیکھنا چاہتے ہیں اور نہیں چاہتے کہ عوام کو اس سے کوئی فائدہ پہنچے، وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو چکے ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے طنزیہ انداز میں اپوزیشن کو مبارکباد بھی دی۔

یہ بھی پڑھیں:پی ٹی آئی نے انتہا پسندی کی سیاست نہ چھوڑی تو عمران خان جیل میں رہنے کا ریکارڈ توڑ دیں گے، بلاول بھٹو زرداری

بلاول بھٹو نے کمیٹیوں کے بائیکاٹ کے فیصلے کو پارلیمنٹ کو کمزور کرنے کی ایک کڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپنی پارٹی، عوام اور حلقوں کی نمائندگی کرنا اپوزیشن کی ذمہ داری ہے، لیکن وہ متعلقہ پلیٹ فارمز پر عوامی جذبات اور مسائل اجاگر کرنے سے گریزاں ہیں۔

انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شمولیت

پی پی پی چیئرمین نے انکشاف کیا کہ پارلیمنٹ نے پیپلز پارٹی کی تحریک پر انتخابی اصلاحات کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن لیڈر سے کہا کہ وہ اس کمیٹی کے لیے اپنا نمائندہ نامزد کر کے اسپیکر کے دفتر کو نام ارسال کریں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ اپوزیشن نے انتخابی دھاندلی کو ہمیشہ اپنا بنیادی مسئلہ قرار دیا ہے، لہٰذا اگر اپوزیشن چاہتی ہے کہ آئندہ عام انتخابات، بلدیاتی انتخابات یا ضمنی انتخابات سے قبل اس مسئلے کا حل نکالا جائے تو اسے کمیٹی کی کارروائی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہوگا۔

انہوں نے اس عمل کو پارلیمنٹ کا وقار اور اختیار بحال کرنے کی جانب ایک لازمی قدم قرار دیا۔

قومی سلامتی، ایران جنگ اور دفاعی معاہدوں پر بریفنگ

موجودہ جیو پولیٹیکل صورتحال پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے وزارتِ خارجہ، داخلہ اور دفاع کے وزرا سے مطالبہ کیا کہ وہ ایوان کو پاکستان کو درپیش سنگین چیلنجز سے باضابطہ طور پر آگاہ کریں۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ ملک کو اور پورے خطے کو کیا ممکنہ خطرات لاحق ہیں، بالخصوص جب 3 اہم سمندری راستے بند ہو چکے ہیں۔

مزید پڑھیں:الیکشن پر ڈاکا ڈالا تو سمجھ لو وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی، بلاول بھٹو زرداری

انہوں نے ایران کی جنگ کے پاکستان پر مرتب ہونے والے اثرات اور حکومت کی جانب سے حال ہی میں دستخط کیے گئے دفاعی معاہدوں پر بھی تفصیلی بریفنگ کا مطالبہ کیا تاکہ ایوان کا ہر رکن ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز، دہشتگردی اور مستقبل کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح باخبر رہے۔

اس تناظر میں یہ بھی قابل ذکر ہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں کراچی میں ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن جماعتوں کو ایک مثبت سیاسی پیشکش (آلیو برانچ) دی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مثبت اور تعمیری رابطہ خیبرپختونخوا میں نافذ گورنر راج کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو صوبائی حکومت کی جانب سے دہشتگردی کے خلاف جنگ سے جان بوجھ کر لاتعلقی کا عذر پیش کرتے ہوئے کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا، جس پر اپوزیشن کی صفوں میں شدید ردعمل اور تنقید دیکھنے کو ملی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیرا نائٹلی کی ’بلیک ڈووز‘ کا دوسرا سیزن، جاسوسی، ایکشن اور مزاح کا نیا امتزاج

مسٹر پتلو کو عدالت سے بڑا ریلیف، اسلام آباد ہائیکورٹ نے حفاظتی ضمانت منظور کرلی

پاک بھارت ورلڈ کپ میچ کے ٹکٹوں کی ریکارڈ توڑ مانگ، 84 لاکھ درخواستیں موصول

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

ویڈیو

عمران خان سے وکیل کی ملاقات، خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی پر کیا ردعمل ظاہر کیا؟

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا