پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وہ کشمیر میں امن، انصاف اور بااختیار عوامی حکومت کا قیام چاہتے ہیں، جبکہ ووٹ کی چوری کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی اور کشمیریوں کو ان کے تمام آئینی و جمہوری حقوق دلائے جائیں گے۔ اگرچہ الیکشن پر ڈاکا ڈالا تو سمجھ لو وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہوگئی۔
کشمیر کے مستقبل کا خواب لے کر آیا ہوں
مظفرآباد میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ کشمیری عوام کے سامنے کشمیر کے مستقبل کا ایک واضح وژن لے کر آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ کشمیر کو ‘جنت نظیر’ بنانا چاہتے ہیں، جہاں امن، انصاف اور ترقی ہو۔
یہ بھی پڑھیں:بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم کے سلسلے میں مظفرآباد پہنچ گئے، کوہالہ پل پر پرتپاک استقبال
فیصلہ بیلٹ سے ہونا چاہیے، بولٹ سے نہیں
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حقِ حاکمیت کا تقاضا ہے کہ انتخابات کا فیصلہ ‘بیلٹ’ سے ہو، ‘بولٹ’ سے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ کی چوری کسی صورت قبول نہیں کریں گے اور آزاد و شفاف انتخابات ہی عوامی رائے کا حقیقی اظہار ہیں۔
کشمیریوں کے حقوق اور خوداختیاری پر زور
انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو وہ تمام حقوق دیے جائیں گے جو ان کا آئینی اور جمہوری حق ہیں۔ ان کے مطابق کشمیر سے متعلق فیصلے کشمیر کی منتخب اسمبلی کرے گی اور صرف کشمیریوں کی منتخب حکومت ہی عوام کے مسائل مؤثر انداز میں حل کر سکتی ہے۔
مہاجرین کی نمائندگی کا مطالبہ
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر کشمیری مہاجرین کے ووٹ چوری ہوں گے تو ان کے مسائل کبھی حل نہیں ہوں گے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ پنجاب، سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیوں میں بھی کشمیریوں کی نمائندگی ہونی چاہیے، جبکہ مہاجرین کے نمائندوں کو کشمیر اسمبلی میں بھی مناسب نمائندگی دی جائے۔
یہ بھی پڑھیں:بلاول بھٹو زرداری انتخابی مہم کے سلسلے میں مظفرآباد پہنچ گئے، کوہالہ پل پر پرتپاک استقبال
آئینی کنونشن اور پارلیمانی نمائندگی کا اعلان
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے اعلان کیا کہ انتخابات کے بعد ایک آئینی کنونشن بلایا جائے گا، جس میں تمام متعلقہ فریق شریک ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں مقیم کشمیریوں کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں ‘آبزرور اسٹیٹس’ دلانے کے لیے کوشش کریں گے۔
حقِ ملکیت اور روزگار کی یقین دہانی
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیریوں کو صرف حقِ ملکیت ہی نہیں بلکہ باعزت روزگار کا حق بھی فراہم کرنا ہوگا تاکہ ان کی معاشی اور سماجی ترقی یقینی بنائی جا سکے۔
آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے سلسلے میں مختلف سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم جاری ہے۔ اس دوران سیاسی قیادت عوامی جلسوں میں اپنے منشور، انتخابی وعدوں اور کشمیر کے سیاسی، آئینی اور معاشی مستقبل سے متعلق اپنے مؤقف پیش کر رہی ہے۔
وفاقی حکومت کو سخت وارننگ
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اگر آزاد کشمیر کے انتخابات پر ‘ڈاکا’ ڈالا گیا تو ‘سمجھ لو وفاقی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو جائے گی’۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کشمیر میں ان کی جماعت کا عوامی مینڈیٹ چھینا گیا تو اس کے سیاسی نتائج وفاقی حکومت کو بھگتنا ہوں گے۔
پی ٹی آئی کو بائیکاٹ کے بجائے سیاست کا مشورہ
بلاول بھٹو زرداری نے تحریک انصاف سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ بائیکاٹ کی سیاست چھوڑ کر انتخابی عمل میں حصہ لے۔ انہوں نے کہا، ‘میں پی ٹی آئی دوستوں سے کہتا ہوں کہ سیاست کریں، بائیکاٹ نہ کریں۔’
یہ بھی پڑھیں:عوام 2تہائی اکثریت دلائیں تو آزاد کشمیر کا فیصلہ پنجاب یا سندھ نہیں، مظفرآباد میں ہوگا: بلاول بھٹو زرداری
جمہوری انداز میں سب کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ان کی جماعت جمہوری سیاست پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا، ‘ہم سیاسی لوگ ہیں اور سب کے ساتھ جمہوری طریقے سے چلنے کو تیار ہیں۔’
الیکشن کمشنر سے سوال
بلاول بھٹو زرداری نے چیف الیکشن کمشنر کو مخاطب کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ وہ واضح کریں آیا وہ ن لیگ کے الیکشن کمشنر ہیں یا آزاد کشمیر کے الیکشن کمشنر۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو مکمل غیر جانبداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
پی ٹی آئی کی جانب تعاون کا ہاتھ
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سیاسی اختلافات کے باوجود مفاہمت اور جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے۔ ‘ہم اپنا ہاتھ پی ٹی آئی والوں کی طرف بڑھا رہے ہیں تاکہ جمہوری انداز میں آگے بڑھا جا سکے۔’
ہم تحریک انصاف والے نہیں، جیالے ہیں
بلاول بھٹو زرداری نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ‘ہم تحریک انصاف والے نہیں، جیالے ہیں۔’ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکن ہر سیاسی چیلنج کا مقابلہ جمہوری طریقے سے کریں گے۔
ن لیگ پر تنقید
بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ (ن) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ن لیگ نے آزاد کشمیر کے انتخابات کو اپنی ‘زندگی اور موت کا سوال’ بنا لیا ہے، تاہم عوام اپنے ووٹ کی طاقت سے فیصلہ کریں گے۔













