حکومت اور اپوزیشن کی 30 رکنی مشترکہ الیکشن ریفارمز کمیٹی کیا ہے؟

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین پر مشتمل مشترکہ الیکشن ریفارمز کمیٹی کے قیام کی تحریک قومی اسمبلی سے منظور کرا لی ہے تاہم ابھی تک اس کمیٹی کی تشکیل کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا اور نہ ہی یہ واضح ہو سکا ہے کہ اس میں کون کون شامل ہو گا اور یہ کمیٹی کیسے کام کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت نے پی ٹی آئی سے کون سے 7 مطالبات کیے؟ طارق فضل چوہدری نے بتا دیا

 

وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ مشترکہ الیکشن ریفارمز کمیٹی کے قیام کے لیے قومی اسمبلی سے تحریک منظور کرائی گئی ہے جس کے بعد کمیٹی کے قیام کی منظوری کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے۔ اب حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ارکان کے نام دیے جائیں گے جس کے بعد کمیٹی باضابطہ طور پر کام شروع کر سکے گی۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کے مطابق یہ کمیٹی انتخابی اصلاحات سمیت دیگر اہم قومی معاملات پر غور کرے گی جبکہ کمیٹی کی تشکیل کے لیے ارکان کی نامزدگی باقی ہیں جس کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کریں گے۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ کمیٹی مجموعی طور پر 30 ارکان پر مشتمل ہوگی جن میں قومی اسمبلی کے 20 ارکان اور سینیٹ کے 10 ارکان شامل ہوں گے۔ اس طرح پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی نمائندگی کے ذریعے انتخابی اصلاحات سے متعلق معاملات پر مشترکہ مشاورت کی جا سکے گی۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے 15 اور اپوزیشن کی جانب سے پانچ ارکان کے نام دیے جائیں گے جو کہ چیف وہپ دیں گے۔ اپوزیشن کی طرف سے نامزدگیاں اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے سامنے آئیں گی، جبکہ حکومت اپنے ارکان کے نام دے گی۔ تاہم مختلف سیاسی جماعتوں میں نشستوں کی تقسیم اور حتمی ناموں کا تعین متعلقہ پارلیمانی نمائندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ کمیٹی کے قیام کی منظوری اور اس کے ارکان کی نامزدگی 2 الگ مراحل ہیں۔ تحریک کی منظوری کے بعد کمیٹی کے قیام کی بنیادی کارروائی مکمل ہو چکی ہے تاہم ارکان کے نام سامنے آنے اور اسپیکر کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد اس کی حتمی تشکیل مکمل ہوگی۔

مزید پڑھیے: عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کے معاملے میں حکومت کی کوشش ہے کہ اپوزیشن کو بھی مشاورت کے عمل میں شریک کیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ پارلیمان میں قانون سازی کے دوران اکثریتی جماعت کو فیصلہ سازی میں برتری حاصل ہوتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اپوزیشن کو قانون سازی کے عمل سے الگ کر دیا جائے۔ اپوزیشن کی رائے، تجاویز اور قابلِ عمل سفارشات کو سامنے لانا جمہوری عمل کا اہم حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی اہمیت کے معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور ماضی میں بھی بڑی آئینی ترامیم کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت اور اتفاق رائے کی مثالیں موجود ہیں۔

ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ اگر سیاسی جماعتیں انتخابی اصلاحات سمیت اہم قومی امور پر مشترکہ طور پر کام کریں تو بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور نے بتایا کہ کمیٹی میں محض اراکین کی تعداد یا ووٹنگ کی اہمیت نہیں ہوگی بلکہ تمام جماعتوں کی شرکت، ان کی آرا اور تجاویز کو بھی اہمیت دی جائے گی اور اگر اپوزیشن انتخابی نظام میں بہتری کے لیے تجاویز پیش کرتی ہے تو عوام کے سامنے یہ بات آنی چاہیے کہ کس جماعت نے کون سی سفارش دی اور حکومت نے اس پر کیا مؤقف اختیار کیا۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن کی مثبت اور قابلِ عمل تجاویز کو سراہنے کے لیے تیار ہے۔ انتخابی اصلاحات کا مقصد ایسا نظام وضع کرنا ہونا چاہیے جس پر زیادہ سے زیادہ سیاسی جماعتوں کا اعتماد حاصل ہو اور قومی معاملات کو باہمی مشاورت سے آگے بڑھایا جا سکے۔

مزید پڑھیں: سانحہ پمز کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمات کب درج کیے جا رہے ہیں؟، طارق فضل چوہدری نے بتا دیا

واضح رہے کہ مشترکہ الیکشن ریفارمز کمیٹی کے قیام کی تحریک قومی اسمبلی سے منظور ہو چکی ہے تاہم کمیٹی کے ارکان کی حتمی فہرست، جماعتی تناسب اور باضابطہ نوٹیفکیشن کا اجرا ابھی باقی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp