بوسنیا میں یورپی یونین فورس کا ایک فوجی ہیلی کاپٹر معمول کی تربیتی پرواز کے دوران گر کر تباہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں 2 اطالوی فوجیوں سمیت 4 افراد ہلاک جبکہ 11 زخمی ہو گئے۔
یورپی یونین فورس (EUFOR) نے بوسنیا میں اپنے CH-47 چینوک ہیلی کاپٹر کے حادثے کی تصدیق کر دی ہے۔
’یوفور‘ کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز بوسنیا کے دارالحکومت سرائیوو سے تقریبا 180 کلومیٹر شمال میں واقع برچکو کے علاقے میں ’معمول کی تربیت‘ کے دوران ایک CH-47 چینوک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیے ارجنٹائن میں فائر فائٹنگ ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار، 7 افراد ہلاک
’یوفور‘کے مطابق حادثے میں مجموعی طور پر 11 افراد زخمی ہوئے ہیں، اور انہوں نے مزید بتایا کہ تمام زخمیوں کا علاج جاری ہے اور ان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
اطالوی حکومت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ فوجی ہیلی کاپٹر میں سوار تمام افراد کا تعلق اٹلی سے تھا۔
اطالوی وزارتِ دفاع کے مطابق، اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں میں 2 فوجی اور ریڈ کراس کے 2 رضاکار شامل ہیں۔
TERRIFYING footage captures the moment an Italian ITALY 🇮🇹 military CH-47 Chinook (Boeing 🇺🇸) SPINS OUT OF CONTROL and crashes in Bosnia and Herzegovina.
The helicopter went down near Brčko during an EU peacekeeping training operation.
FOUR people were killed and 11 injured, according to the latest reports. https://t.co/guVMmD2AGr
— Megh Updates 🚨™ (@MeghUpdates) October 30, 2026
اٹلی کے وزیرِ دفاع گیویڈو کروسیٹو نے اپنے بیان میں کہا ’غم کی اس گھڑی میں، میری سب سے پہلے توجہ ہمارے جاں بحق ہونے والے جوانوں کے اہل خانہ کی طرف ہے، جن سے میں ذاتی طور پر اور پورے دفاعی محکمے کی جانب سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔‘
بوسنیائی میڈیا کی جانب سے حادثے کے مقام کی شائع کردہ تصاویر میں ہیلی کاپٹر کو ایک کھلے میدان میں الٹا پڑا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔
برچکو اسپتال کے ایک ترجمان نے فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حادثے کے وقت ہیلی کاپٹر میں 15 افراد سوار تھے، اور حادثے کے نتیجے میں ابتدائی طور پر 3 افراد ہلاک ہو چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیے افغانستان، مزاحمتی گروپ نے طالبان کے زیر استعمال بھارتی ساختہ ہیلی کاپٹر مار گرایا، ایئر چیف شدید زخمی
ترجمان نے بتایا’12 افراد کو ہمارے اسپتال منتقل کیا گیا۔ بدقسمتی سے، ایک چوتھا شخص اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔‘
’یوفور‘ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یورپی یونین فورس اس واقعے کی مکمل اور ہمہ گیر تحقیقات کر رہی ہے اور جیسے ہی معلومات کی تصدیق ہو جائے گی اور مناسب سمجھا گیا، مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔‘
یورپی یونین فورس، جس میں ایک ہزار سے ڈیڑھ ہزار کے قریب اہلکار شامل ہیں، 2004ء سے بوسنیا میں تعینات ہے۔ اس نے نیٹو کے اس امن دستے کی جگہ لی تھی جو 1995ء میں بوسنیا کی جنگ ختم ہونے کے بعد سے ملک میں موجود تھا۔ یہ مشن ڈےٹن امن معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کرتا ہے، جس نے 3 سالہ جنگ کا خاتمہ کیا تھا۔











