مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا ثمر بلور نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت صحت کارڈ بند یا منسوخ نہیں کررہی، بلکہ اس میں سامنے آنے والی اندرونی بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ پولیس کے نظام میں بہتری، سرکاری اسپتالوں کی کارکردگی اور پشاور میں تجاوزات کے خاتمے کے لیے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں۔
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ثمر بلور نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ آئندہ 5 سے 6 ہفتوں میں خیبرپختونخوا پولیس کے لیے ایسا بنیادی ڈھانچہ تیار کیا جائے جس کے ذریعے پولیس ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ منظم جرائم اور دیگر مسائل کا بھی مؤثر انداز میں مقابلہ کرسکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صحت کارڈ ختم کرنے سے متعلق خبریں غلط ہیں۔ اس پروگرام میں صرف اندرونی بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا جارہا ہے، اسے بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:پشاور میں تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری رکھنے کا اعلان، کارروائیاں بلا امتیاز ہورہی ہیں، ثمر ہارون بلور
مشیر اطلاعات نے کہا کہ صوبے کے میڈیکل ٹیچنگ انسٹی ٹیوشنز (ایم ٹی آئیز) کی انتظامی اور کارکردگی کا جائزہ بھی لیا جارہا ہے۔ ان کے بقول بعض حلقوں کا خیال ہے کہ ایم ٹی آئیز کے نظام نے سرکاری اسپتالوں کو کمزور کیا ہے، تاہم حکومت اس معاملے میں جلد بازی کے بجائے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسپتالوں میں اہم عہدوں پر تعیناتی کے لیے پیشہ ورانہ قابلیت اور میرٹ بنیادی معیار ہونا چاہیے۔ کسی شخص کی تقرری رشتہ داری، دوستی یا سیاسی وابستگی کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے۔ جو پیشہ ور افراد مقررہ معیار پر پورا اتریں گے، انہیں سیاسی انتقام کا نشانہ بنا کر عہدوں سے نہیں ہٹایا جائے گا۔
ثمر بلور نے پشاور میں جاری تجاوزات کے خلاف کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس مہم میں کسی قسم کی سفارش یا امتیاز نہیں برتا جارہا۔ سرکاری زمینوں اور گرین بیلٹس پر قائم تجاوزات کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے، کیونکہ شہر میں ٹریفک اور نکاسی آب کے مسائل کے حل کے لیے تجاوزات کا خاتمہ ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی مدت کا انحصار صوبے کی صورتحال پر ہوگا، مشیر اطلاعات ثمر ہارون بلور
انہوں نے کہا کہ تجاوزات ہٹانے کے بعد متعلقہ مقامات کو صرف خالی نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ اگلے مرحلے میں ان کی بحالی اور ازسرنو تعمیر کی جائے گی، تاکہ شہریوں کو بہتر اور خوبصورت عوامی مقامات فراہم کیے جاسکیں۔
مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پشاور میں صفائی اور نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بھی کام جاری ہے۔ ویسٹ مینجمنٹ اور شہری صفائی کے محکمے کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے اور عملہ رات گئے تک سڑکوں پر کام کرتا دکھائی دیتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فی الحال شہر سے پرانا کچرا اٹھایا جارہا ہے، جبکہ مختلف علاقوں میں کچرا جمع کرنے کے لیے مستقل نظام وضع کرنے پر بھی کام ہورہا ہے۔ مین ہولز کے ڈھکنوں کی چوری روکنے کے لیے بھی ایسا طریقۂ کار تیار کیا جارہا ہے جس سے ڈھکن نصب ہونے کے بعد دوبارہ غائب نہ ہوں اور شہریوں کو بار بار اسی مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔











