پاک بھارت جنگ سے متعلق غیر سنجیدہ بیان پر ایمل ولی سے دعوے کے ثبوت مانگ لیے گئے

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ کو مصنوعی قرار دینے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ طے کرانے کے دعوے پر ایمل ولی خان کو تنقید کا سامنا ہے۔ انہیں یاد دلایا گیا ہے کہ بھارتی حملوں میں پاکستانی شہری شہید ہوئے، دونوں ممالک کے درمیان میزائل، ڈرون اور فضائی حملوں کا تبادلہ ہوا اور پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص کے ذریعے جواب دیا تھا۔

اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ جنگ کو مصنوعی قرار دینے سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔ مئی 2025 میں بھارتی حملوں کے نتیجے میں پاکستانی شہریوں کی شہادتیں ہوئیں اور ان کے خاندانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ ایسے واقعات کو محض مصنوعی جنگ قرار دینا شہدا اور ان کے اہل خانہ کے دکھ کو نظرانداز کرنے کے مترادف ہے۔ ان واقعات کی بین الاقوامی میڈیا اداروں نے بھی رپورٹنگ کی تھی۔

ایمل ولی خان کے اس دعوے پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پہلے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ طے کرائی اور پھر دونوں ممالک کے درمیان صلح کروائی۔ اس مؤقف کے حق میں ثبوت پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی معاملات پر اتنے بڑے دعوے کرنے سے پہلے مستند معلومات اور شواہد سامنے رکھنے چاہییں۔

یہ بھی پڑھیں:سینیٹ کمیٹی اجلاس میں تلخ کلامی، عابد شیر علی اور ایمل ولی خان میں سخت جملوں کا تبادلہ

فیلڈ مارشل کا عہدہ دیے جانے کے معاملے پر کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ 20 مئی 2025 کو وفاقی کابینہ نے کیا تھا، جس کی سرکاری وجہ آپریشن بنیان مرصوص اور بھارتی جارحیت کے خلاف فوجی قیادت کا کردار بتایا گیا۔ اس حوالے سے فوجی قیادت اور سرحدوں کی حفاظت کرنے والے اہلکاروں کی خدمات کو بھی مدنظر رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

افغانستان میں ٹی ٹی پی کے ٹھکانوں اور انہیں ملنے والی مبینہ معاونت کے حوالے سے فروری 2025 کی اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ رپورٹ کا حوالہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹی ٹی پی نے جولائی سے دسمبر 2024 کے دوران 600 سے زائد حملے کیے اور ان میں افغان سرزمین استعمال ہوئی۔ رپورٹ میں افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کو لاجسٹک، آپریشنل اور مالی معاونت فراہم کیے جانے سے متعلق شواہد کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

سرحدی سیکیورٹی کے معاملے پر کہا گیا ہے کہ امریکا بھی میکسیکو کے ساتھ اپنی تقریباً 2 ہزار میل طویل سرحد پر مکمل دیوار تعمیر نہیں کر سکا اور نہ ہی وہاں آمد ورفت کو مکمل طور پر روک پایا ہے۔ پاکستان کی سرحدیں بھی دشوار گزار علاقوں پر مشتمل ہیں، جہاں ہر مقام پر اہلکار تعینات کرنا اور مکمل نگرانی کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

فوجی جوان سخت موسمی حالات اور دشوار گزار علاقوں میں سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں، اس لیے فوج پر تنقید کرنے والوں کو بھی ان حالات اور جوانوں کی قربانیوں کو سمجھنا چاہیے۔ قومی سلامتی اور سرحدی دفاع جیسے معاملات پر رائے قائم کرتے ہوئے زمینی حقائق اور مستند معلومات کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp