طالبان کے ڈرون حملوں کا توڑ: افغانستان فریڈم فرنٹ نے جدید اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی حاصل کر لی

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان میں طالبان کے خلاف متحرک مسلح تنظیم ‘افغانستان فریڈم فرنٹ’ (اے ایف ایف) نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنے دفاعی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے جدید اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی حاصل کر لی ہے۔

تنظیم کے ایک سینئر رہنما نے ‘افغانستان انٹرنیشنل’ کو بتایا کہ نورستان اور بدخشاں کے علاقوں میں طالبان کے ڈرون حملوں کے نتیجے میں ان کے جنگجوؤں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

افغانستان فریڈم فرنٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے کمانڈوز نے ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید ترین ملٹری ٹیکنالوجی حاصل کی ہے، جس کی مدد سے بلا ڈرائیور طیاروں (ڈیجیٹل و ڈرون طیاروں) کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی فضا میں ناکارہ بنایا جا سکے گا۔

یہ بھی پڑھیے افغانستان کے 12 صوبوں میں طالبان کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں تیز، 38 اہلکار ہلاک ہونے کا دعویٰ

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس نئی ٹیکنالوجی کے استعمال اور ملٹری مشقوں سے گروپ کی دفاعی صلاحیتوں اور آپریشنل نقل و حرکت میں نمایاں اضافہ ہو گا، جس سے طالبان کے فضائی اور ڈرون حملوں کا موثر جواب دیا جا سکے گا۔ اے ایف ایف نے واضح کیا کہ یہ آلات آپریشنل یونٹس کو فراہم کر دیے گئے ہیں اور جنگجوؤں کو ان کا استعمال سکھانے کی تربیت بھی دی جا چکی ہے۔

حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف ایف کے ایک سینئر رکن نے بتایا کہ اس ٹیکنالوجی کا حصول مختلف ممالک کے جنگی تجربات کی روشنی، مطالعے اور تربیتی مراحل کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ’ہمارا جانی نقصان خاص طور پر ابتدائی حملوں اور ایک مقام سے دوسرے مقام پر نقل و حرکت کے دوران طالبان کے ڈرون حملوں کی وجہ سے ہوا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان پہاڑی علاقوں میں اے ایف ایف کے جنگجوؤں کے ساتھ براہِ راست روایتی جنگ لڑنے سے گریزاں ہیں، اور آگے بڑھنے سے پہلے اپوزیشن فورسز کا مورال گرانے کے لیے بھاری اسلحے اور ڈرونز کا سہارا لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے افغانستان، مزاحمتی گروپ نے طالبان کے زیر استعمال بھارتی ساختہ ہیلی کاپٹر مار گرایا، ایئر چیف شدید زخمی

واضح رہے کہ اے ایف ایف کے جنگجو بدخشاں اور نورستان کے دشوار گزار پہاڑی سلسلوں میں موجود ہیں اور تنظیم کا دعویٰ ہے کہ طالبان اب تک انہیں ان مشکل علاقوں سے نکالنے میں ناکام رہے ہیں۔

افغانستان فریڈم فرنٹ نے اس بات کی تفصیلات جاری نہیں کیں کہ یہ اینٹی ڈرون آلات کہاں سے اور کیسے حاصل کیے گئے ہیں اور نہ ہی ان کی مخصوص قسم بتائی ہے، تاہم بعض ذرائع کے مطابق یہ آلات ریڈیو فریکوئنسی جامنگ ڈیوائسز (Jamming Devices) پر مشتمل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp