افغانستان کے 12 صوبوں میں طالبان کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں تیز، 38 اہلکار ہلاک ہونے کا دعویٰ

پیر 19 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

افغانستان میں طالبان رجیم کے خلاف مزاحمتی کارروائیاں اگلے مرحلے میں داخل ہوگئی ہیں۔ ان کارروائیوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ طالبان رجیم کا سیکیورٹی نظام کس قدر کمزور واقع ہوا ہے۔

7 سے 18 اکتوبر کے دوران طالبان کے ٹھکانوں، انٹیلی جنس اہلکاروں اور فوجی رسد کے مراکز پر 18 سے زائد حملے کیے گئے، مختلف مزاحمتی گروپوں نے جانی و مالی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔

افغانستان کے 12 صوبوں میں طالبان حکومت کے خلاف مزاحمتی کارروائیوں میں تیزی آگئی ہے۔ مختلف حکومت مخالف گروپوں کے مطابق 7 سے 18 اکتوبر کے دوران 18 سے زائد بڑی کارروائیاں کی گئیں، جن میں طالبان کمانڈروں سمیت 38 سے زیادہ اہلکار ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ ان کارروائیوں میں سیکیورٹی چوکیوں، انٹیلی جنس اہلکاروں، فوجی گاڑیوں اور رسد کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے افغانستان، مزاحمتی گروپ نے طالبان کے زیر استعمال بھارتی ساختہ ہیلی کاپٹر مار گرایا، ایئر چیف شدید زخمی

افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ نے قندھار اور ہلمند میں کارروائیاں تیز کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ گروپ کے مطابق 11 اکتوبر کو غور میں حملے کے دوران ایک طالبان اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا، جبکہ 13 اکتوبر کو قندھار کے علاقے ارغنداب میں کمانڈر رحیم اللہ روحانی اور ایک پولیس اہلکار مارے گئے۔ 14 اکتوبر کو اسپن بولدک میں 3 چوکیوں پر حملوں میں 3 اہلکار ہلاک، 3 زخمی اور ایک گاڑی تباہ ہوئی۔ ہلمند میں 5 اہلکاروں کی ہلاکت اور اسلحہ قبضے میں لینے، جبکہ لشکرگاہ میں 15 اور 17 اکتوبر کو انٹیلی جنس افسر سمیت 2 اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا گیا۔

افغانستان فریڈم فرنٹ نے 13 اکتوبر کو لوگر میں پولیس ہیڈکوارٹرز کے قریب انٹیلی جنس اہلکاروں پر حملے میں 3 افراد کی ہلاکت اور 2 کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کے مطابق بغلان اور پنجشیر میں 9 اور 10 اکتوبر کو کارروائیوں کے دوران 2 طالبان اہلکار ہلاک اور 2 زخمی ہوئے۔ افغان گرین ٹرینڈ نے ہرات، پنجشیر اور لشکرگاہ میں حملوں، پولیس چوکی اور رینجر گاڑیوں کی تباہی اور طالبان اہلکاروں کی ہلاکتوں کا دعویٰ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے افغان طالبان رجیم کے خلاف مسلح مزاحمت میں اضافہ، عام معافی کی خلاف ورزی نے صورتحال تبدیل کردی

نیشنل انڈیپنڈنس فرنٹ نے ننگرہار، ہلمند، فراح، وردک، بادغیس اور قندھار میں ٹینک، فوجی رسد کی گاڑیوں، انٹیلی جنس قافلے، رینجر گاڑی اور طالبان کمانڈر کو نشانہ بنانے کی اطلاعات دی ہیں۔ افغان ریپبلک فرنٹ نے بامیان میں طالبان کے زیر کنٹرول کرومائٹ ذخیرہ گاہ پر راکٹ حملے کا دعویٰ کیا۔ مزاحمتی گروپوں کے مطابق ان کارروائیوں سے طالبان حکومت کے سیکیورٹی نظام کی کمزوریاں نمایاں ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کی سخت گیر حکمرانی، سیاسی و سماجی محرومیوں اور بنیادی حقوق پر پابندیوں کے باعث عوامی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp