کراچی گلستانِ جوہر میں ہولناک آتشزدگی، 35 دکانیں، متعدد جھونپڑیاں خاکستر

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں کامران چورنگی کے قریب اوپن ایئر فرنیچر مارکیٹ میں جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب خوفناک آگ بھڑک اٹھی، جس نے 35 دکانوں اور 12 کے قریب جھونپڑیوں کو جلا کر خاکستر کر دیا۔

واقعہ گلستانِ جوہر بلاک 11 میں پیش آیا جہاں کھلے پلاٹ پر قائم فرنیچر مارکیٹ میں اچانک آگ نمودار ہوئی۔ فائر برگیڈ حکام کے مطابق انہیں رات ایک بج کر 35 منٹ پر اطلاع ملی اور گاڑیوں نے 10 منٹ میں پہنچ کر امدادی کارروائی شروع کر دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:کوئٹہ: زرنج اور بس میں خوفناک تصادم، آگ لگنے سے 6 افراد جاں بحق، 7 زخمی

خشک موسم اور تیز ہواؤں کے باعث آگ منٹوں میں پھیل گئی جس پر قابو پانے کے لیے کے ایم سی اور ریسکیو 1122 کی گاڑیوں سمیت واٹر باؤزر کو طلب کیا گیا۔

تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی جدوجہد کے بعد آگ پر قابو پایا گیا جبکہ آگ بجھنے میں صبح تک کا وقت لگ گیا۔

رہائشی عمارت کی حفاظت اور پانی کی فراہمی

آگ کی شدت کے باعث ساتھ واقع ایک رہائشی عمارت بھی متاثر ہوئی، تاہم فائر فائٹرز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اسے مزید نقصان سے بچا لیا۔

 چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کی درخواست پر کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے صفورہ ہائیڈرنٹ پر ایمرجنسی نافذ کر کے پانی کی فراہمی برقرار رکھی۔

موقع پر پولیس اور رینجرز بھی پہنچ گئے جبکہ ’کے الیکٹرک‘ نے احتیاطی تدابیر کے تحت علاقے کی بجلی منقطع کر دی۔ سڑکوں پر لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے ٹریفک کا شدید رش دیکھنے میں آیا۔

تاجروں کا نقصان اور حکومت سے مدد کی اپیل

متاثرہ تاجروں کا کہنا تھا کہ یہ مارکیٹ تقریباً 50 سال سے قائم تھی اور گزشتہ سال بھی یہاں آگ لگی تھی۔ واقعے میں کروڑوں روپے مالیت کا قیمتی فرنیچر اور سامان جل کر راکھ ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں:بھارت: مہارانی لکشمی بائی میڈیکل کالج کے وارڈ میں آگ لگنے سے 10 شیر خوار بچے ہلاک، 16 زخمی

کاروبار تباہ ہونے پر تاجروں نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور سندھ حکومت سے فوری مالی امداد کی اپیل کی تاکہ وہ دوبارہ اپنا روزگار شروع کر سکیں۔

آگ لگنے کی وجوہات اور تحقیقات

چیف فائر آفیسر ہمایوں خان کے مطابق خشک موسم میں آتشزدگی کے واقعات بڑھ جاتے ہیں۔ ابتدائی خدشے کے مطابق قریب قائم جھونپڑیوں سے کوئی چنگاری فرنیچر پر گرنے سے یہ حادثہ پیش آیا۔

انہوں نے بتایا کہ مالی نقصان کا حتمی تخمینہ لگایا جا رہا ہے جبکہ واقعے کی اصل وجہ جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ اسی شہر میں ستمبر کے اوائل میں لانڈھی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون (ای پی زیڈ) کی پرانے کپڑوں کی فیکٹریاں آگ کی لپیٹ میں آئیں، جہاں عمارت کا کچھ حصہ گر گیا اور دم گھٹنے سے 3 افراد شدید متاثر ہوئے۔

اس کے علاوہ مارچ میں زمزمہ کے ایک سپر مارکیٹ میں بھی آگ لگی جہاں تمام عملے کو محفوظ نکال لیا گیا۔

اطلاعات کے مطابق کراچی میں رواں سال مارچ تک 240 سے زیادہ آتشزدگی کے واقعات میں 99 افراد جاں بحق اور کروڑوں کا نقصان ہو چکا ہے۔

ملک گیر فائر سیفٹی بحران اور سانحہ پمز

اگست میں اسلام آباد کے پمز اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے 14 نوزائیدہ بچوں کی المناک موت واقع ہوئی، جس کے بعد ملک بھر کے سرکاری اسپتالوں اور عمارتوں میں فائر سیفٹی آڈٹ کا حکم دیا گیا۔

سندھ کے 22 سرکاری اسپتالوں کی تفتیش میں الارم، اسپرنکلرز اور آلات کی شدید کمی سامنے آئی، جس پر تمام اداروں کو 15 دن کے اندر سیفٹی سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی: غیرقانونی پیٹرول کی دکان پر آگ لگنے سے ایک شخص جاں بحق، رہائشی عمارت خاکستر

پنجاب اور اسلام آباد میں بھی اسی طرح کی کارروائیاں اور عمارتیں سیل کی گئیں۔

سانحہ گل پلازہ اور عدالتی کمیشن کی رپورٹ

17 جنوری 2026 کو کراچی کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ سے 70 سے زیادہ افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے۔

4 فروری کو قائم کردہ جوڈیشل کمیشن نے انکشاف کیا کہ 2024 اور 2025 کے آڈٹ میں خامیاں نشاندہی کے باوجود دور نہیں کی گئی تھیں۔

رپورٹ کے مطابق عمارت میں 1102 کے بجائے 1153 دکانیں چلائی جا رہی تھیں۔ کمیشن نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور انتظامیہ کی ناکامی کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ متاثرین صرف آگ سے نہیں بلکہ ناکارہ نظام، بند راستوں اور تاخیر کی وجہ سے جاں بحق ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp