مولانا فضل الرحمان سے محاذ آرائی ن لیگ کی پالیسی نہیں، دوسری قسط نہیں آئے گی، رانا ثنا اللہ

جمعہ 30 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان سے محاذ آرائی ن لیگ کی پالیسی نہیں، امید ہے اس کی دوسری قسط نہیں آگے گی، ن لیگ حکومت انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے پیشرفت کرنے پر آمادہ ہے، تاہم اپوزیشن تاحال اس معاملے پر واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔

نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پاکستان کے انتخابی نظام، الیکشن کمیشن کے ڈھانچے، الیکشن کمشنر کے اختیارات اور متعلقہ قوانین میں متعدد خامیاں موجود ہیں، جن کی نشاندہی سپریم کورٹ کے کمیشن نے بھی کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:ریاست کا ماں جیسا درجہ، مولانا فضل الرحمان کے نازیبا الفاظ سے قوم کو شدید تکلیف پہنچی، رانا ثنا اللہ

حکومت بھی ان خامیوں کو محسوس کرتی ہے اور جب تک انہیں دور نہیں کیا جائے گا، انتخابی شکایات اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

2013، 2018 اور 2026 کے انتخابی تنازعات

رانا ثنا اللہ نے ماضی کے انتخابی تنازعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2013 کے انتخابات کے بعد اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف نے انتخابی نتائج پر اعتراضات اٹھائے اور 4 حلقے کھولنے کا مطالبہ کیا۔

ان کے مطابق پی ٹی آئی نے انتخابی نتائج کے آڈٹ کا مطالبہ کیا اور پھر تقریباً 126 روز تک دھرنا دیا، جس کے باعث ملکی معیشت متاثر ہوئی اور متعدد مسائل پیدا ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت عمران خان اپوزیشن لیڈر تھے اور ان کی جماعت نے احتجاج، دھرنوں اور تحریکوں کا راستہ اختیار کیا، جبکہ انتخابی اصلاحات کے لیے حکومت کے ساتھ بیٹھنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق اس وقت انتخابی تنازعات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا گیا تھا، جس نے پورے انتخابی نظام کا احاطہ کیا۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بعض انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی، تاہم یہ قرار نہیں دیا تھا کہ ان کی بنیاد پر پورے انتخابی عمل کو کالعدم قرار دے دیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت تمام متعلقہ فریق اس بات پر متفق ہوئے تھے کہ انتخابی نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے، لیکن سیاسی اختلافات اور احتجاج کے باعث اس معاملے پر عملی پیشرفت نہ ہو سکی۔

2018 کے انتخابات میں ن لیگ کی 35 نشستیں چوری ہوئیں

مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے بعد ایک مرتبہ پھر دھاندلی کے الزامات سامنے آئے، تاہم اس مرتبہ انتخابی عمل پر اعتراضات اٹھانے والوں میں ن لیگ یعنی ہم خود شامل تھے۔

مزید پڑھیں:خیبر پختونخوا کی گورنر شپ مولانا فضل الرحمان کو دینا وزیراعظم کی خواہش تھی، خود ان کا تقاضا نہیں تھا، رانا ثنا اللہ

ان کے بقول مسلم لیگ ن نے وثوق کے ساتھ مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس کی 35 نشستیں چرائی گئیں اور انتخابی دھاندلی کے ذریعے جماعت کو اقتدار سے محروم کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت عمران خان وزیراعظم تھے، لیکن حکومت میں آنے کے بعد انہوں نے انتخابی اصلاحات کے معاملے پر توجہ نہیں دی اور نظام کی خامیاں دور کرنے کے لیے مطلوبہ اقدامات نہیں کیے اور ہمیں کہا کہ جب الیکشن آئیں گے تو اصلاحات دیکھیں گے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ 2013 میں پی ٹی آئی کو انتخابی نظام پر اعتراضات تھے، 2018 میں مسلم لیگ ن نے انتخابی نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا اور اب 2026 میں بھی انتخابی نظام پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

ان کے مطابق اس تسلسل کی بنیادی وجہ انتخابی نظام میں موجود خامیاں ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف، بلاول بھٹو اور ن لیگ اصلاحات کی حامی

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اب مسلم لیگ ن، پاکستان پیپلز پارٹی، بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف انتخابی نظام کو درست کرنے کے لیے باقاعدہ منظوری دے چکے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت انتخابی اصلاحات کے لیے عملی پیشرفت کرنے کو تیار ہے، تاہم اپوزیشن کی جانب سے ابھی تک نہ واضح ہاں سامنے آئی ہے اور نہ ہی انکار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ اپوزیشن کی جانب سے بالآخر انکار ہی سامنے آئے گا۔

پارلیمانی کمیٹیوں میں جماعتوں کی نمائندگی

پارلیمانی کمیٹیوں میں سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اصولی طور پر تمام جماعتوں کو پارلیمانی کمیٹیوں میں نمائندگی دی جاتی ہے، تاہم بڑی سیاسی جماعتوں کو ان کی پارلیمانی حیثیت اور تناسب کے مطابق نشستیں فراہم کی جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کی اتحادی جماعت ہے، لیکن حکومت مسلم لیگ ن کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:سہیل آفریدی آئینی طور پر وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹ چکے، انہیں مقدمات کا سامنا کرنا پڑے گا، رانا ثنا اللہ

رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ متناسب نمائندگی کے نظام پر بھی بات چیت ہو سکتی ہے اور انتخابی اصلاحات کے عمل میں اس پہلو کو زیر غور لایا جا سکتا ہے۔

وزیراعظم کی محمود خان اچکزئی کو باقاعدہ دعوت

اپوزیشن کے ساتھ رابطوں اور مذاکرات کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار ہیں اور انہوں نے خود اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے پاس جا کر انہیں باقاعدہ ملاقات کی دعوت دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی کے ساتھ ان کے دیرینہ محبت اور احترام کے تعلقات رہے ہیں اور آج بھی قائم ہیں۔

رانا ثنا اللہ کے مطابق سیاسی اختلافات کے باوجود رابطوں اور بات چیت کا راستہ کھلا رہنا چاہیے تاکہ قومی اور سیاسی معاملات کو افہام و تفہیم سے آگے بڑھایا جا سکے۔

مولانا فضل الرحمان سے محاذ آرائی اور ن لیگ کی پالیسی

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وہ اس معاملے پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے، تاہم تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اور حالیہ معاملے کی اس قسط میں بھی دونوں جانب سے کردار ادا ہوا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مسلم لیگ ن کی قطعاً یہ پالیسی نہیں کہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف کوئی محاذ آرائی کی جائے یا ایسی بات کی جائے جو انہیں ناگوار گزرے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کو بھی مولانا فضل الرحمان سے یہی توقع ہے کہ وہ بھی کوئی ایسی بات نہیں کریں گے جس سے ان کی جماعت کی دل آزاری ہو۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو ایک دوسرے کے اختلافِ رائے کا احترام کرنا چاہیے اور اختلافات کو عزت و احترام کے ساتھ قبول کرنا چاہیے۔ انہیں امید ہے کہ اس معاملے کی دوسری قسط سامنے نہیں آئے گی۔

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے کے بعد آپریشن مؤثر ہونے کی توقع

خیبر پختونخوا میں دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں سے متعلق سوال پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف آپریشن میں جو چیز رکاوٹ بن رہی تھی، وہ صوبائی حکومت تھی۔

مزید پڑھیں:پی ٹی آئی اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش کر رہی ہے، سیاسی عدم استحکام برداشت نہیں کریں گے، رانا ثنا اللہ کی نیوز کانفرنس

انہوں نے امید ظاہر کی کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے کے بعد دہشتگردی کے خلاف آپریشن مزید مؤثر ہوگا اور اس کے نتائج بھی بہت اچھے سامنے آئیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں تمام زعما نے واضح مؤقف اختیار کیا تھا کہ دہشتگردوں کا مکمل خاتمہ برسوں یا مہینوں میں نہیں بلکہ چند ہفتوں میں ہونا چاہیے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے طے شدہ حکمت عملی کے مطابق کارروائیوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp