وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ نے واضح کیا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی اور حالات کے پیش نظر گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ بالکل ناگزیر ہو گیا تھا کیونکہ حکومت کے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا تھا، مولانا فضل الرحمان اس آپشن کی حد سے زیادہ مخالفت نہیں کی۔
وزیراعظم کے مشیر خصوصی رانا ثنا اللہ نے ایک نجی ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کو سیاسی غلطیوں سے رجوع کرنے اور مذاکرات سے قبل دہشتگردی کے خلاف قومی بیانیے کی کھل کر اور دل سے حمایت کرنی چاہیے اور پھر رعایتوں کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
رانا ثنا اللہ نے زور دیا کہ ایمرجنسی اور گورنر راج کا عمل مجبوری میں اپنایا گیا کیونکہ اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا۔
انہوں نے سہیل آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایسی شرط نہ رکھیں کہ ’میں شام کو واپس آتا ہوں تو دوبارہ وزیراعلیٰ بنا دیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اب الٹا پلٹا کے چکر میں نہیں پڑیں گے، سہیل آفریدی پہلے ایک سچے پاکستانی ہونے کے ناطے ریاست کے ساتھ وفاداری دکھائیں، آئیں اور ہمارے ساتھ ایک سیاستدان کے طور پر مل کر کام کریں۔
مولانا فضل الرحمان اور جے یو آئی کا پارلیمانی کردار
رانا ثنا اللہ نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان آئین و قانون کے مطابق سیاست کرنے والے ایک نامور اور سنجیدہ سیاستدان ہیں۔
انہوں نے اس معاملے میں بھی انتہائی سنجیدہ اور محدود رویہ و بیانیہ رکھا اور گورنر راج یا ایمرجنسی کی حد سے زیادہ مخالفت نہیں کی۔
رانا ثنا اللہ نے بتایا کہ 2024 کے الیکشن کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے خواہش ظاہر کی تھی کہ مولانا فضل الرحمان کو گورنر شپ دی جانی چاہیے، یہ ہماری اپنی خواہش تھی لیکن انہوں نے کبھی خود گورنر شپ کا کوئی تقاضا نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ جے یو آئی نے پارلیمان میں صرف اپنی جمہوری سوچ کا اظہار کیا ہے اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے کسی بھی سیاستدان کے لیے ایسے اقدامات کی تائید کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
محسن نقوی کے بیان اور فیصل واوڈا پر ردعمل
وفاقی وزیر محسن نقوی سے متعلق بات کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ میرا نہیں خیال کہ انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے کوئی بات کی ہے۔
چونکہ محسن نقوی نے کسی جماعت کا نام نہیں لیا تو ہمیں بھی اس بات کو کسی کی ذات سے منسلک نہیں کرنا چاہیے۔
سینیٹر فیصل واوڈا کے ’سافٹ ویئر اپ ڈیٹ‘ کرنے سے متعلق بیان پر انہوں نے کہا کہ فیصل واوڈا اسی موقف کی حمایت کر رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف مسلح افواج کا ساتھ دیا جائے۔
تاہم انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فیصل واوڈا بعض اوقات اشاروں کنایوں میں ایسی باتیں کرتے ہیں جس سے لگے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بول رہے ہیں، جو کہ درست نہیں، اور وہ انہیں ملاقاتوں میں بھی سیاستدانوں کے خلاف ایسی گفتگو سے گریز کا مشورہ دیتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے لیے قومی بیانیے کی حمایت کی شرط
رانا ثنا اللہ نے پی ٹی آئی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے تقریباً 2 ماہ تک پنجاب، سندھ اور دیگر جگہوں پر جو کچھ کیا، وہ سیاست نہیں بلکہ سیاسی حماقت تھی جس سے ان کی اپنی حکومت اور پارٹی کو نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو ان غلطیوں سے واپس آ کر پہلے اپنی قومی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے، دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کی حمایت کرنی چاہیے اور مسلح افواج و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، اس کے بعد ہی وہ اپنے سیاسی مطالبات اور رعایتیں پیش کریں۔
دہشتگردی کا خطرہ اور بھارتی سازشیں
وزیراعظم کے مشیر نے متنبہ کیا کہ دہشت گردی کا معاملہ اب ملک کے وجود کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے، جس سے نمٹنا کسی ایک فرد کا نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کا فرض ہے۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق میں ذلت آمیز رسوائی کے بعد بھارت پاگل بنا بیٹھا ہے اور وہ افغانستان میں دہشت گردوں کی فنڈنگ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ٹریننگ کیمپس کو سپورٹ کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ اور تمام سیاسی جماعتوں کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے معاملے پر لازمی طور پر ایک صفحے پر ہونا چاہیے۔
نئے صوبوں کے قیام پر حکومتی موقف
نئے صوبوں کی تشکیل کے حوالے سے رانا ثنا اللہ نے وضاحت کی کہ نئے صوبوں کا قیام اتنا سادہ نہیں کہ اسے فوری طور پر قبول یا مسترد کر دیا جائے، یہ پورے ملک کا مستقبل متعین کرنے والا ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔
مسلم لیگ (ن) اور حکومت کا موقف ہے کہ اس معاملے کو پارلیمنٹ میں لایا جائے جہاں تمام جماعتیں تفصیلی بحث کے بعد اتفاقِ رائے سے فیصلہ کریں۔
مختلف مراحل سے متعلق بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ حکومت یا ن لیگ کا دیا گیا تاثر نہیں، اس لیے حکومت کو اس سے منسلک نہ کیا جائے اور اگر کسی کی طرف سے ایسا تاثر دیا جا رہا ہے تو متعلقہ فریق اس کی وضاحت یا تردید کرے۔













