وفاقی پارلیمانی سیکریٹری برائے مواصلات اور استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) کے رہنما گل اصغر خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں چھوٹے صوبے جلد بن رہے ہیں اور اگلے 2 ماہ میں 28 ویں ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کر دی جائے گی۔
وی نیوز سے خصوصی انٹرویو کے دوران گل اصغر خان نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام اب زیادہ دور نہیں ہے اور 28 ویں آئینی ترمیم نومبر یا دسمبر کے مہینے میں پیش کر دی جائے گی۔
جب ان سے دوبارہ پوچھا گیا کہ نئے صوبوں کے قیام میں کتنا وقت لگے گا تو ان کا کہنا تھا کہ حتمی ڈیڈ لائن تو نہیں دی جا سکتی لیکن یہ کام اب جلد ہو جائے گا اور 28 ویں ترمیم اچھی خبر لائے گی۔
مولانا فضل الرحمان بیٹے کو گورنر لگوانا چاہتے تھے
مولانا فضل الرحمان کے حالیہ بیانات کے متعلق بات کرتے ہوئے گل اصغر خان نے کہا کہ مولانا ایک سینیئر سیاست دان ہیں اور انہیں ریاست کے بارے میں اس طرح کی گفتگو نہیں کرنی چاہیے تھی۔
گل اصغر خان نے دعویٰ کیا کہ مولانا فضل الرحمان ماضی میں اپنے بیٹے کو خیبرپختونخوا کا گورنر بنوانے کے خواہش مند تھے اور اس حوالے سے مختلف مقامات پر بالواسطہ طور پر بات بھی کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سندھ کی قسمت کا فیصلہ صرف سندھ کے عوام کریں گے، 28 ویں ترمیم پر وفاقی حکومت نے کوئی بات نہیں کی، بلاول بھٹو
ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان جب کشمیر کمیٹی کے چیئرمین تھے یا حکومت کے اتحادی تھے تو انہیں ریاست اچھی لگتی تھی، لیکن جب ان کی خواہش پوری نہیں ہوئی تو ان کا رویہ تبدیل ہوگیا۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی سیاسی حیثیت اور ان کے پیروکاروں کی بڑی تعداد کے پیش نظر انہیں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے صوبے کے معدنی وسائل کے حوالے سے بھی ان کے بیان کو نامناسب قرار دیا۔
گورنر راج غیر آئینی نہیں، آئین کے مطابق اقدام کیا گیا
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے معاملے پر گل اصغر خان نے کہا کہ جمہوریت میں کوشش یہی ہونی چاہیے کہ گورنر راج کی نوبت نہ آئے، تاہم اسے غیر آئینی اقدام قرار دینا درست نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ گورنر راج آئین کے تحت ایک آئینی اقدام ہے اور جو کچھ کیا گیا، وہ آئین کے مطابق کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ گورنر راج کے حوالے سے اس قدر شور مچایا گیا تھا کہ پشاور، اسلام آباد اور خیبر کو بند کرنے کی باتیں کی جا رہی تھیں، لیکن اس کے باوجود عوام سڑکوں پر نہیں نکلے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ صوابی اور مردان سمیت مختلف علاقوں کے لوگوں سے ان کا رابطہ رہتا ہے اور ان کے بقول عام شہری اس صورت حال پر اندر سے مطمئن ہیں۔
گل اصغر خان نے کہا کہ عوام یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پیسے اسلام آباد پر حملوں کی تیاریوں اور سیاسی محاذ آرائی پر خرچ کیے جا رہے تھے، جبکہ اس کے بجائے انہیں ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونا چاہیے۔
گورنر راج کے مستقبل کا فیصلہ پارلیمان کرے گی
خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے مستقبل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ اختیار پارلیمان کے پاس ہے اور پارلیمان حالات کا دوبارہ جائزہ لے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر حالات بہتر ہوئے تو دوبارہ معمول کی حکومت کی طرف جایا جا سکتا ہے، لیکن اگر صورت حال میں بہتری نہ آئی تو موجودہ انتظام جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر راج کے خاتمے کے بعد سہیل آفریدی کے وزیراعلیٰ رہنے کے امکانات نظر نہیں آتے۔
پی ٹی آئی کے بعض رہنما اپنی ہی جماعت کی حکمت عملی سے ناخوش
گل اصغر خان نے دعویٰ کیا کہ پارلیمان میں موجود پی ٹی آئی کے بعض رہنما بھی موجودہ سیاسی حکمت عملی سے ذاتی طور پر ناخوش ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی، شاہد خٹک اور مراد سعید جیسے رہنما سیاسی معاملات کو حل کرنے کے لیے مؤثر راستہ اختیار نہیں کر رہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی شخص کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ راستہ نکالے، مذاکرات کرے اور سیاسی مسائل کا حل تلاش کرے۔
ان کے مطابق پی ٹی آئی کی اصل سیاسی مقابلہ آرائی مسلم لیگ (ن) اور دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ ہونی چاہیے تھی، لیکن اس نے جان بوجھ کر ریاست اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ محاذ آرائی شروع کر دی۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے مسائل بنیادی طور پر سیاسی تھے، لیکن جماعت نے انہیں ریاستی اداروں کے ساتھ تنازع میں تبدیل کر دیا۔
سیاسی مسائل کا حل پارلیمان اور مذاکرات کے ذریعے نکالا جائے
گل اصغر خان نے کہا کہ پاکستان میں پارلیمان موجود ہے، جہاں تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے مؤقف کے اظہار کا موقع حاصل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو پارلیمان کے فلور پر اپنے مسائل اٹھانے چاہییں اور مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ بار بار احتجاج اور اسلام آباد پر حملوں کی تیاریوں سے ملک کو نقصان پہنچتا ہے اور سرمایہ کار پاکستان سے دور ہو جاتے ہیں۔
ان کے مطابق جب ہر 4 یا 6 ماہ بعد احتجاج اور حملوں کی صورت حال پیدا ہوتی ہے تو سرمایہ کار بھاگ جاتے ہیں، جس سے ملک کی معیشت متاثر ہوتی ہے۔
ریاستی اداروں پر حملوں کی سیاست درست نہیں
گل اصغر خان نے پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی سیاسی جماعت فوج، پولیس اور عدلیہ سمیت ریاستی اداروں کو تسلیم نہیں کرتی تو پھر اس کی سیاست کا مقصد کیا رہ جاتا ہے؟
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اپنے سیاسی رہنما کی رہائی کے لیے ریاستی اداروں پر حملوں کی حکمت عملی اختیار کرنے کا کیا جواز ہے؟
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے مسائل بہت جلد حل ہو سکتے تھے، لیکن جماعت نے غلط راستہ اختیار کیا اور آج بھی اسی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی مسائل کا حل محاذ آرائی نہیں بلکہ مذاکرات اور پارلیمانی جدوجہد ہے۔
معدنی وسائل پر قبضے کا بیانیہ جھوٹ ہے
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے محاز آرائی اور کچھ عناصر کی جانب سے معدنی وسائل پر قبضے کے پراپیگنڈے کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے معدنی وسائل کے حوالے سے محرومی کا تاثر پیدا کرنا ملک کی ترقی روکنے کی سازش ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب بھی پاکستان ترقی کی جانب بڑھنے لگتا ہے تو اس طرح کے بیانیے سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔
گل اصغر خان نے کہا کہ ایک منظم بیانیے کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان کے صوبوں کے وسائل ریاست نکال کر لے جانا چاہتی ہے اور مقامی آبادی کو ان کے حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:28ویں آئینی ترمیم کب پیش ہوگی؟ ن لیگ اور پیپلز پارٹی سمیت تمام جماعتیں کھل کر بات کرنے سے گریزاں
انہوں نے کہا کہ یہ بیانیہ پہلے بلوچستان میں سامنے آیا، پھر کشمیر میں نوجوانوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈالی گئی کہ ان کے معدنی وسائل اور ڈیموں سے پیدا ہونے والی بجلی پر ان کا حق ہے اور ریاست ان وسائل کو اپنے کنٹرول میں لے رہی ہے۔
ان کے بقول، اب یہی بیانیہ خیبرپختونخوا میں بھی پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور معدنی وسائل کے معاملے کو گورنر راج سے جوڑنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی پاکستان ترقی کی جانب بڑھنے لگتا ہے تو ہمارے دشمن اس نوعیت کے مسائل اور تنازعات کھڑے کر دیتے ہیں۔
معدنی وسائل سے متعلق غلط اعدادوشمار پیش کیے جا رہے ہیں
گل اصغر خان نے کہا کہ معدنی وسائل کے حوالے سے بعض وی لاگز اور دیگر مواد میں اعدادوشمار اور حقائق کو اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے جس سے عوام میں غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔
انہوں نے عمران ریاض خان اور شہباز گل کے وی لاگز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی اس بات کو سراہتے ہیں کہ انہوں نے معدنی وسائل اور ڈیٹا کے حوالے سے گفتگو کی، تاہم ان کے بقول اس معاملے کو درست تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس قدرتی وسائل کی بے پناہ دولت موجود ہے، لیکن ان وسائل کو نکالنے اور استعمال کرنے کے لیے سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی اور عالمی کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں کی ضرورت ہے۔
گل اصغر خان نے کشمیر میں منگلا ڈیم اور پن بجلی کے منصوبوں کے حوالے سے پائے جانے والے تاثر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں کے لیے کتنی بڑی سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کے مطابق ایک میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے تقریباً 20 لاکھ ڈالر درکار ہوتے ہیں، جبکہ 100 میگاواٹ کے منصوبے پر 20 کروڑ ڈالر اور ایک ہزار میگاواٹ کے منصوبے پر تقریباً 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ ایسے منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری اور ضمانتوں کا انتظام کیسے کیا جاتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ وفاقی حکومت جب کسی منصوبے میں حصہ لیتی ہے تو اس کے لیے ضمانتیں بھی فراہم کرتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہائیڈرو پاور منصوبوں کے لیے ریاستی ضمانت وفاقی حکومت فراہم کرتی ہے کیونکہ صوبائی حکومت کی ضمانت کو سرمایہ کار اسی اعتماد سے قبول نہیں کرتے۔
ان کے مطابق عوام کو یہ پہلو سمجھانے کے بجائے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ریاست صوبوں کے وسائل پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔
پاکستان کے معدنی ذخائر قدرتی دولت کا بڑا ذریعہ ہیں
گل اصغر خان نے کہا کہ جاپان اور چین ٹیکنالوجی اور صنعتی پیداوار میں پاکستان سے آگے ہیں، لیکن قدرتی معدنیات کے معاملے میں پاکستان کو ایک منفرد برتری حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض قدرتی معدنیات ایسی ہیں جنہیں مصنوعی طور پر تیار کرنا ممکن نہیں، کیونکہ ان کی تشکیل میں لاکھوں سال لگتے ہیں۔
انہوں نے روبی، سونا، کوئلہ، گرین ایڈنائٹ اور بینٹونائٹ سمیت مختلف معدنیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو اپنی اس قدرتی دولت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔








