پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینیٹر مشعال یوسفزئی کا کہنا ہے کہ سیکریٹری جنرل پی ٹی آئی سلمان اکرم راجہ اگر پارٹی کے بانی چیئرمین عمران خان کی سونپی گئی ذمے داریاں نہیں نبھا سکتے تو اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں۔
یہ بھی پڑھیں: گورنر راج کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر ڈالنے کی کوشش، پی ٹی آئی میں اندرونی محاذ آرائی شدت اختیار کرگئی
وی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے مشعال یوسفزئی نے عمران خان کی رہائی کے لیے پی ٹی آئی کے آئندہ لائحۂ عمل کے حوالے سے کیے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ تو پارٹی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ ہی بتا سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے انہیں ذمے داری دی ہے اور اگر وہ یہ پوری نہیں کر سکتے تو استعفیٰ دے دیں۔
مشعال یوسفزئی کا کہنا تھا کہ عمران خان نے کہا جو لوگ اس تحریک کا وزن نہیں اٹھا سکتے وہ استعفیٰ دے دیں ’اسٹیٹس کو‘ تو نہیں چل سکتا ناں، یہ نہیں ہو سکتا کہ عمران خان تک رسائی ہو، نہ دوائی ہو نہ ان کی رہائی ہو اور ہم سارے یہاں ’صُمّم بُکْم‘ بن کے بیٹھے رہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں عمران خان تک رسائی چاہیے جس کے لیے مذاکرات کرنے پڑیں یا مزاحمت اس کے لیے جو بھی راستہ جو بھی حکمت عملی ہو ہمیں بتائی جائے ہم اس پر عمل کریں لیکن بتائیں تو سہی ناں۔
مشعال یوسفزئی نے کہا کہ عمران خان کی آخری ٹوئٹ کے مطابق سیاسی لائحۂ عمل دینا سلمان اکرم راجہ کی ذمے داری ہے اور اگر ان سے نہیں ہو پا رہا تو بتا دیں۔
مزید پڑھیے: سینیٹ انتخابات میں پی ٹی آئی کی امیدوار مشعال یوسف زئی کو پارٹی کے اندر سے مخالفت کا سامنا
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی میں اس وقت کوئی تقسیم نہیں اوراس کے سارے اراکین ایک بات پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ عمران خان تک رسائی دی جائے اور وہ آگے کا لائحہ عمل دیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت کی بحالی سے بھی بڑا مسئلہ عمران خان کی رہائی ہے اور ہمارا پورا فوکس اسی پر ہے۔
انہوں کے کہا کہ پارٹی میں مجھے مزاحمت کا سامنا اس لیے رہتا ہے کہ میں ’مائنس ون‘ والوں کی راہ میں رُکاوٹ ہوں جو وہ لوگ ہیں جو چاہتے تھے کہ ذاتی مفادات کی وجہ سے عمران خان تک رسائی نہ ہو ان کے ساتھ ملاقاتیں بند رہیں اور ہم چپ ہی رہیں۔
سہیل آفریدی کا احتجاج ناکام ہوا؟
جن مشعال یوسفزئی پوچھا گیا کہ سہیل آفریدی کا احتجاج کیوں ناکام ہوا تو نے کہا کہ سہیل آفریدی اِس وقت لاپتا ہیں اب ان کا احتجاج کامیاب ہوا یا ناکام اس پر بعد میں بات کریں گے پہلے تو انہیں بازیاب کروانا ضروری ہے۔
’حکومت کے ساتھ مذاکرات صرف عمران خان کی رہائی کے لیے ہوں گے‘
مشعال یوسفزئی نے کہا کہ مذاکرات کبھی بھی ناممکن نہیں ہوتے لیکن ہمارے مذاکرات خیبرپختونخوا حکومت کی بحالی کی بجائے عمران کی رہائی کے لیے ہوں گے۔
’سندھ میں گورنر راج لگا تو ہم بھی خاموش تماشائی بنیں گے‘
مشعال یوسفزئی نے کہا بلاول بھٹو جنہوں نے دوبارہ مذاکرات کی دعوت دی تھی انہیں یہ بات اس وقت سوچنی چاہیے تھی جب ان کے والد نے گورنر راج کی سمری پر دستخط کیے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب اگر سندھ میں گورنر راج لگا تو ہم بھی انہیں سپورٹ مہیا نہیں کریں گے بلکہ خاموش تماشائی بنیں گے کیونکہ جمہوریت پر پہلا وار انہوں نے خود کیا ہے۔
مذاکرات کی ناکامی کا ذمے دار کون؟
اس سوال کے جواب میں مشعال یوسفزئی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی بدنیّتی تھی انہوں نے 72 گھنٹوں میں آپریشن کا کہا جو ہم نہیں کر سکتے تھے اور ہم اس پر کبھی دستخط نہیں کریں گے۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ گورنر راج کے بعد خیبرپختونخوا کے حالات بدتر ہوچکے ہیں اب وہ جو چاہیں ایڈوینچر کرکے دیکھ لیں لیکن عوامی طاقت آج بھی ہمارے ساتھ ہے۔
مزید پڑھیں: عمران خان رہائی فورس کیس: آئینی عدالت نے فریقین کو جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دیدی
مشعال یوسفزئی نے کہا کہ ہم فی الوقت زخمی ضرور ہیں لیکن اپنے عوام کی طاقت سے دوبارہ اٹھیں گے۔








