کہتے ہیں کہ شکست ہمیشہ یتیم ہوتی ہے، جبکہ فتح کے کئی دعویدار ہوتے ہیں۔ کچھ ایسی ہی صورتِ حال اس وقت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو درپیش ہے، جہاں خیبرپختونخوا حکومت کے خاتمے اور صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کی ذمہ داری وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کے قریبی سمجھے جانے والے رہنماؤں پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
17 اور 18 اکتوبر کو پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد کور کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں گورنر راج کے نفاذ اور صوبائی حکومت کے خاتمے کے اسباب پر بحث کے دوران سہیل آفریدی، شفیع جان، شاہد خٹک اور مینا خان کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
مزید پڑھیں: گورنر راج کے بعد وزیراعظم کا پہلا دورۂ پشاور کتنا اہم ہے، کن اعلانات کی توقع ہے؟
کور کمیٹی کے 2 روزہ آن لائن اجلاس کے دوران پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے لانگ مارچ کی منصوبہ بندی پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مارچ کو قریب سے دیکھا ہے۔ ان کے بقول چارسدہ میں مشکل سے 2 ہزار افراد موجود تھے، جبکہ صوابی میں لانگ مارچ کے لیے تیاریاں نہ ہونے کے برابر تھیں۔
انہوں نے یہ بھی کہاکہ پارٹی کی ضلعی تنظیموں کے ساتھ کسی قسم کی منصوبہ بندی شیئر نہیں کی گئی تھی۔
سلمان اکرم راجا نے پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری علی اصغر خان سے مخاطب ہوتے ہوئے پوچھا کہ گورنر راج کے خدشے کے پیش نظر صوبائی قیادت کی کیا منصوبہ بندی تھی؟ اس پر علی اصغر خان نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سے متعدد بار اس حوالے سے پوچھا گیا، لیکن وہ ہر بار یہی کہتے رہے کہ ’وقت آنے پر آپ کو بتا دوں گا۔‘
سلمان اکرم راجا نے اس جواب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ اس کا مطلب ہے کہ کوئی منصوبہ بندی موجود نہیں تھی۔
پی ٹی آئی کی سینیٹر مشعال یوسفزئی نے بھی کور کمیٹی اجلاس میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس پلان اے تو دور کی بات، پلان بی، سی اور ڈی بھی نہیں تھا۔ ان کے بقول صرف تین افراد منصوبہ بندی کرتے تھے اور چوتھا اس پر عملدرآمد کرتا تھا۔
اجلاس میں متعدد اراکین نے مشعال یوسفزئی کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے مطالبہ کیاکہ سہیل آفریدی کو جوابدہ بنایا جائے۔
سابق صوبائی وزیر تیمور سلیم جھگڑا نے بھی وزیراعلیٰ کے طرزِ عمل پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ کسی رکن اسمبلی، وزیر یا دوسرے پارٹی رہنما کی فون کال تک نہیں اٹھاتے۔ تاہم، ان کے بقول سہیل آفریدی آخری وقت تک کنٹینر پر جنید اکبر کے ساتھ موجود رہے۔
تیمور سلیم جھگڑا نے سوال اٹھایا کہ کنٹینر پر سلمان اکرم راجا، بیرسٹر گوہر، عاطف خان، اسد قیصر اور دیگر پارٹی رہنما کہاں تھے؟
محمود خان اچکزئی کے کردار پر بھی سوالات
کور کمیٹی اجلاس کے دوران مشعال یوسفزئی نے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کے کردار پر بھی تنقید کی۔ پی ٹی آئی کے ایک اہم رہنما کے مطابق، مشعال یوسفزئی نے مؤقف اختیار کیاکہ محمود خان اچکزئی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے کچھ نہیں کر رہے۔
اجلاس میں شریک ایک اور رکن قومی اسمبلی نے بھی محمود خان اچکزئی کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف عہدہ سنبھالا ہوا ہے اور وہ پی ٹی آئی کے ساتھ مخلص نہیں ہیں، اس لیے انہیں عہدے سے ہٹا دینا چاہیے۔
اس موقع پر پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے وضاحت کی کہ محمود خان اچکزئی کو عمران خان کی ہدایت پر قائدِ حزبِ اختلاف بنایا گیا تھا اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا اختیار بھی عمران خان ہی کے پاس ہے۔
حکومت بچانے کے بجائے حکومت گنوانے کا شکوہ
کور کمیٹی اجلاس کے دوران متعدد اراکین اسمبلی اور پارٹی رہنماؤں نے ایک بار پھر سہیل آفریدی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے سڑکوں پر نکلی تھی، لیکن اس جدوجہد کے دوران صوبے میں اپنی ہی حکومت گنوا بیٹھی۔
اجلاس میں سامنے آنے والی تنقید سے ظاہر ہوتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پی ٹی آئی کے اندر صرف حکمت عملی پر اختلافات نہیں بلکہ قیادت، رابطہ کاری اور فیصلہ سازی کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: مولانا فضل الرحمان پی ٹی آئی کی خالی جگہ پر کھیلنے کے بجائے اپنی پچ پر کھیلیں، اختیار ولی
پارٹی کے اندر یہ بحث اب اس نکتے پر مرکوز دکھائی دیتی ہے کہ صوبائی حکومت کے خاتمے کی سیاسی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور لانگ مارچ کی منصوبہ بندی میں مبینہ ناکامی کا جواب کون دے گا۔










