فرانس: مظاہروں کی نئی لہر کے پیش نظر سیکیورٹی ہائی الرٹ، ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات

ہفتہ 31 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فرانسیسی حکومت نے ہفتے کے روز ہالووین کے موقع پر متوقع ملک گیر مظاہروں سے نمٹنے کے لیے ملک بھر میں 70 ہزار پولیس اہلکار تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

فرانس کے وزیر داخلہ لوران نونیز نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ہفتے متعارف کرائی گئی سیکیورٹی تدابیر کو مزید سخت کیا جا رہا ہے، جن میں بکتر بند گاڑیاں اور واٹر کینن کا استعمال بھی شامل ہے۔ واضح رہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف فرانس بھر میں جاری مظاہرے شدت اختیار کر چکے ہیں، جن میں سے بعض مقامات پر بڑے پیمانے پر لوٹ مار اور فسادات دیکھنے میں آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے فرانس: طلبا نے حکومتی تجاویز مسترد کردیں، احتجاج جاری رکھنے کا اعلان

وزیر داخلہ لوران نونیز نے پریس کانفرنس کے دوران خبردار کیا کہ ’31 اکتوبر کا دن عمومی امن و امان کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ تقریباً 70 ہزار پولیس اور جینڈرمی کے اہلکار متحرک رہیں گے، جو کہ گزشتہ ہفتے کے مظاہروں کی تعداد کے برابر ہے، اور انہوں نے اسے ایک ’غیر معمولی اقدام‘ قرار دیا۔

داخلہ امور کی وزارت کے مطابق گزشتہ ہفتے ملک گیر مظاہروں میں تقریباً 4 لاکھ 10 ہزار افراد نے شرکت کی تھی، جبکہ مزدور یونینوں کے مطابق یہ تعداد اس سے تقریباً دگنا تھی۔ وزارت کا کہنا ہے کہ 2 ہفتے قبل 2,700 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ہالووین ماسک پہننے پر انتباہ

’یلو ویسٹ‘ (Yellow Vest) تحریک اور طلبہ تنظیموں نے ہفتے کے روز نئے سرے سے احتجاج کی کال دی ہے۔ اس حوالے سے وزیر داخلہ نے مظاہرین کو خبردار کیا ہے کہ وہ عوامی مقامات پر بدامنی پھیلانے کے لیے ہالووین کے ماسک کو ’چہرہ چھپانے کا جواز‘ نہ بنائیں۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ مظاہروں کی اجازت ہوگی، لیکن ’شہر کے مرکزی علاقوں میں احتجاج کی بالکل اجازت نہیں ہوگی جہاں امن و امان کی صورتِ حال خراب ہونے کا خطرہ ہو۔‘

وزیر داخلہ نے ان شدید سخت گیر دائیں بازو کے گروہوں کو بھی سخت انتباہ جاری کیا جن کی فرانس کے تقریباً 15 شہروں میں بائیں بازو کے مظاہرین کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ’کسی بھی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی‘ اور حکومت کا ردِعمل ’بہت سخت‘ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے فرانس میں توڑ پھوڑ کی کوشش چینی کمپنی کے لیے مفت تشہیر بن گئی، مضبوط شیشہ سوشل میڈیا پر وائرل

لوران نونیز نے ’الٹرا لیفٹ‘ تحریک اور یلو ویسٹ کے بعض کارکنوں پر الزام عائد کیا کہ وہ سوشل میڈیا پر ایسے پیغام پھیلا رہے ہیں جن میں ہالووین کی شام مظاہروں اور ’انقلاب’ کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ’اس قسم کے تمام اجتماعات پر مکمل پابندی ہوگی۔‘

دوسری جانب، یلو ویسٹ تحریک نے ہالووین کے روز اپنے احتجاج کے ’تیسرے مرحلے‘ کا اعلان کرتے ہوئے قومی اسمبلی اور ملک کی تمام سٹی ہالز (بلدیاتی دفاتر) کے باہر مظاہرے کرنے کی کال دے رکھی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp