پولینڈ کے صدر کارول ناوروکی نے آئینی عدالت میں پولیس کی کارروائی اور عدالت کے سربراہ کی معطلی کے بعد اپنا دورہ سینیگال ملتوی کردیا اور طیارہ واپس وطن لے آئے۔ صدر نے سوشل میڈیا پر کہا کہ موجودہ صورت حال میں ان کی موجودگی پولینڈ میں ضروری ہے۔
فاکس نیوز کے مطابق پولیس نے دارالحکومت وارسا میں آئینی ٹریبونل کی عمارت کو اپنے کنٹرول میں لے لیا، جس کے بعد درجنوں مظاہرین عدالت کے باہر جمع ہوگئے۔ مظاہرین نے عدالت کے سربراہ بوگدان شفیچکوسکی کی معطلی کے خلاف احتجاج کیا، جبکہ پولیس کا کہنا ہے کہ بعض افراد نے اہلکاروں پر خطرناک اشیا بھی پھینکیں۔
🇵🇱 Poland under chaos as police enter the constitutional tribunal while President Karol Nawrocki turned his plane around mid-flight and canceled his trip to Senegal pic.twitter.com/bqpwXq1vWI
— HOT SPOT (@HotSpotHotSpot) October 31, 2026
پولینڈ میں عدلیہ کا معاملہ وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک کی یورپ نواز حکومت اور سابق حکمران جماعت قانون و انصاف پارٹی کے درمیان تنازع کا اہم سبب بنا ہوا ہے۔ ٹسک حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ عدلیہ کی آزادی بحال کرنا چاہتی ہے، جبکہ اپوزیشن اسے آئینی اداروں پر غیرقانونی قبضے کی کوشش قرار دے رہی ہے۔ سابق وزیراعظم ماتیوش موراویتسکی اور سابق وزیر انصاف زیبگنیو زیوبرو نے بھی پولیس کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے عدالتی نظام میں مداخلت قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور پولینڈ کا تمام شعبوں میں تعلقات مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار
پولینڈ میں امریکی سفیر ٹام روز نے بھی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی عدالت کی خودمختاری اور حکومتی اختیارات کے استعمال پر غیرمعمولی کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ انہوں نے فریقین پر زور دیا کہ معاملہ مزید بگڑنے سے روکا جائے۔











