امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے دوران جعلی انتخابی سروے ایک نئے تنازع کی شکل اختیار کر گئے ہیں۔ حالیہ انکشافات کے مطابق بعض جعلی اداروں نے مختلف ریاستوں میں انتخابی امیدواروں کی مقبولیت سے متعلق من گھڑت اعداد و شمار جاری کیے، جنہیں بعض معروف ذرائع ابلاغ اور انتخابی جائزوں کا ڈیٹا مرتب کرنے والے اداروں نے بھی اپنی رپورٹس میں شامل کیا۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے نہ صرف عوامی رائے عامہ کے جائزوں کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے بلکہ انتخابی عمل پر شہریوں کا اعتماد بھی کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔
تازہ معاملہ ویج وُڈ پولز نامی ادارے کا ہے، جس نے رواں ماہ سوشل میڈیا پر اعتراف کیا کہ ٹیکساس، اوہائیو، مشی گن، کنساس اور مین سمیت کئی اہم ریاستوں کے بارے میں جاری کیے گئے اس کے سروے جعلی تھے۔ ادارے نے دعویٰ کیا کہ اس کا مقصد امریکی انتخابی سروے کے شعبے میں نگرانی کی خامیوں اور جعلی نتائج شائع کرنے میں آسانی کو جانچنا تھا۔ تاہم اس کے جعلی سروے پہلے ہی نیویارک ٹائمز جیسے معروف اخبار تک پہنچ چکے تھے۔ اخبار کے مطابق اس کے انتخابی سروے ٹریکر میں جون سے اکتوبر کے دوران ویج وُڈ کے 15 سروے شامل کیے گئے، جنہیں انکشاف کے بعد ہٹا دیا گیا۔ رواں سال اگست میں میڈیئن اسٹریٹیجیز نامی ایک اور ادارہ بھی جعلی سروے جاری کرنے کا اعتراف کر چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ’ٹرمپ نے ہمیں دھوکا دیا‘، ایریزونا میں بھی ری پبلیکن پارٹی کے لوگوں نے منہ پھیر لیا
جعلی سروے کے انتخابی نتائج پر اثرات بھی سامنے آئے ہیں۔ مشی گن میں ڈیموکریٹک پارٹی کی سینیٹ نامزدگی کے انتخاب میں ناکام رہنے والی میلوری مک مورَو کا کہنا ہے کہ ویج وُڈ کے ایک سروے میں ان کی مقبولیت سنگل ڈیجٹ ظاہر کیے جانے سے ان کی انتخابی مہم کو شدید نقصان پہنچا۔ ان کے مطابق رضاکاروں کے حوصلے پست ہوئے، صحافیوں نے ان سے انتخابی دوڑ سے دستبردار ہونے کے بارے میں سوالات شروع کر دیے اور انتخابی عطیات بھی کم ہو گئے۔
دوسری جانب واشنگٹن یونیورسٹی کے سینٹر فار این انفارمڈ پبلک کی تحقیق کے مطابق جعلی سروے کے انکشاف کو بعض سیاسی حلقوں نے ڈیموکریٹک امیدواروں کے حق میں آنے والے انتخابی جائزوں کو مشکوک ثابت کرنے کے لیے استعمال کیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس معاملے کو نیویارک ٹائمز پر تنقید اور اخبار کے خلاف اپنے 15 ارب ڈالر کے ہتک عزت کے مقدمے کے حق میں استعمال کیا۔
امریکا میں فی الحال جعلی انتخابی سروے جاری کرنے کے خلاف کوئی مخصوص وفاقی قانون موجود نہیں۔ تاہم بعض قانونی ماہرین اسے دھوکا دہی کے قوانین کے تحت قابلِ کارروائی قرار دینے کی حمایت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے وسط مدتی انتخابات: صدر ٹرمپ صحافی کے تلخ سوال پر آپے سے باہر،’تم بدصورت ہو، شکل تو دیکھو اپنی!
وفاقی کمیونیکیشن کمیشن کے سربراہ برینڈن کار نے نشریاتی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ جعلی سروے نشر کرنے یا ان کی تشہیر کرنے پر ان کے لائسنس متاثر ہو سکتے ہیں، تاہم کمیشن کی ڈیموکریٹ رکن اینا گومیز نے اس مؤقف سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی غلط سروے کی نیک نیتی سے خبر دینے پر میڈیا کو سزا نہیں دی جا سکتی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عوام کو سروے کے نتائج پر یقین کرنے سے پہلے اس کے طریقہ کار، مالی معاونت کرنے والے اداروں اور تحقیق کے مقاصد کی جانچ کرنی چاہیے۔










