’ٹرمپ نے ہمیں دھوکا دیا‘، ایریزونا میں بھی ری پبلیکن پارٹی کے لوگوں نے منہ پھیر لیا

ہفتہ 31 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وعدے پورے نہ ہونے، ایران جنگ، مہنگائی اور تارکین وطن کے خلاف سخت پالیسیوں نے لاطینی نژاد امریکی ووٹرز کو بدظن کر دیا، آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن امیدواروں کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔

امریکی ریاست ایریزونا میں لاطینی نژاد ووٹرز کی بڑی تعداد صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مایوس ہو رہی ہے۔ 2 سال قبل ٹرمپ کی کامیابی کے لیے گھر گھر انتخابی مہم چلانے والے 22 سالہ فرنینڈو نونیز نے اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن جماعت کے حمایت یافتہ امیدواروں کو ووٹ نہیں دیں گے۔

میکسیکن نژاد امریکی شہری نونیز کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے عوام سے کیے گئے وعدوں کے برعکس پالیسیاں اختیار کیں اور انہیں مایوس کیا۔ وہ مہنگائی کم کرنے، عالمی جنگیں ختم کرنے اور جیفری ایپسٹین کیس کی تمام دستاویزات منظرعام پر لانے کے وعدوں سے متاثر ہو کر ٹرمپ کے حامی بنے تھے، تاہم اب ان کی حکومت کی پالیسیوں پر سخت تنقید کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے ٹرمپ مقبولیت کی سب سے نچلی سطح پر جاگرے، وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکنز کو بڑا دھچکا

نونیز کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ، ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور اشیائے خورونوش و انشورنس مہنگی ہونے نے عام امریکیوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کو ایران کے ساتھ جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہیے تھا اور یہ تنازع اسرائیل کی وجہ سے پیدا ہوا۔ وہ 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ریپبلکن یا ڈیموکریٹک امیدوار کے بجائے آزاد امیدواروں کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ایریزونا کی یومہ کاؤنٹی میں بھی لاطینی ووٹرز کی سیاسی سوچ میں تبدیلی نمایاں ہے۔ 2024 کے صدارتی انتخاب میں ٹرمپ نے اس علاقے سے اپنے حریف پر 20 پوائنٹس کی برتری حاصل کی تھی، جہاں میکسیکو کے ساتھ سرحدی دیوار نمایاں حیثیت رکھتی ہے۔ قصبے سومرٹن میں بھی، جہاں زیادہ تر آبادی لاطینی نژاد ہے، تقریباً 40 فیصد ووٹروں نے ٹرمپ کی حمایت کی تھی۔

قصبے کے میئر گیرارڈو انایا کے مطابق سابق صدر جو بائیڈن کے دور میں بڑھتی مہنگائی اور سرحد پر تارکین وطن کی بڑی تعداد میں آمد کے خلاف ردعمل نے لوگوں کو ٹرمپ کے حق میں ووٹ دینے پر آمادہ کیا تھا، لیکن اب ان میں سے کئی ووٹرز کو اپنے فیصلے پر پچھتاوا ہو رہا ہے۔ مقامی شہریوں کو گوشت، ڈیزل اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں پر بھی شدید تحفظات ہیں۔

ایک میکسیکن نژاد مالی کا کہنا ہے کہ ٹرمپ نے جرائم پیشہ تارکین وطن کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا تھا، لیکن حکومت کی پالیسیوں کے نتیجے میں ایسے تارکین وطن کو بھی ملک بدر کیا جا رہا ہے جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں۔ ان کے بقول ٹرمپ نسل پرستانہ رویہ رکھتے ہیں، اس لیے اب وہ ان کی حمایت نہیں کریں گے۔

یہ بھی پڑھیے امریکی وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کی گرتی ہوئی مقبولیت کا امتحان، کانگریس میں ڈیموکریٹس کی واپسی کے اثرات کیا ہوں گے؟

دوسری جانب ٹرمپ سے ناراضی کے باوجود لاطینی ووٹرز کی اکثریت لازماً ڈیموکریٹک جماعت کی طرف مائل نہیں ہو رہی۔ بعض ووٹرز نے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ کچھ ابھی تک غیر یقینی کا شکار ہیں۔ 52 سالہ ہیئر ڈریسر جائمے سانچیز نے ٹرمپ کو اسقاطِ حمل کی مخالفت اور خاندانی اقدار کے تحفظ کے وعدوں پر ووٹ دیا تھا، تاہم اب تارکین وطن سے متعلق پالیسیوں پر انہیں تحفظات ہیں۔

دوسری جانب 75 سالہ قدامت پسند پادری جوزے مینوئل کاسترو کے مطابق لاطینی برادری میں ٹرمپ حکومت کے خلاف بے چینی بڑھ رہی ہے اور ان کے چرچ کے کئی افراد احتجاجاً ووٹ ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تاہم ان کا خیال ہے کہ مذہبی اور خاندانی اقدار کے باعث لاطینی ووٹرز کی ریپبلکن جماعت کی طرف بڑھتی ہوئی سیاسی وابستگی طویل مدت میں برقرار رہ سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا