امان اللہ کی جائیداد پر نوٹس، جے یو آئی کی تشویش پر حسن ہاشمی کے سوالات

ہفتہ 31 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سوشل میڈیا انفلوئنسر اور وی لاگر حسن ہاشمی نے امان اللہ نامی شخص کی ملکیت جائیداد پر نوٹس جاری ہونے کے معاملے پر جمعیت علمائے اسلام کی تشویش کے حوالے سے متعدد سوالات اٹھائے ہیں۔

اپنی گفتگو میں حسن ہاشمی نے سوال کیا کہ اگر متعلقہ جائیداد امان اللہ کی ملکیت ہے تو جمعیت علمائے اسلام اس پر جاری ہونے والے نوٹس سے اتنی پریشان کیوں ہے اور اس جائیداد کا مولانا فضل الرحمان سے کیا تعلق ہے؟

انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا یہ جائیداد مولانا فضل الرحمان کی مبینہ بے نامی جائیدادوں میں سے ایک ہے؟ ایک مذہبی سیاسی جماعت کو اس معاملے پر اتنی تشویش کیوں لاحق ہے اور اسجد محمود کی جانب سے جائیداد کو مولانا فضل الرحمان کی ملکیت قرار دینے کے دعوے کی بنیاد کیا ہے؟

یہ بھی پڑھیں:مولانا فضل الرحمان کے ریاست مخالف بیانیے کے بھارتی میڈیا پر چرچے

حسن ہاشمی نے ان سوالات کے ذریعے جائیداد کی ملکیت، مولانا فضل الرحمان سے اس کے مبینہ تعلق اور جے یو آئی کے ردعمل پر وضاحت طلب کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا