بھارت میں ووٹر فہرستوں پر نظرثانی کے متنازع عمل کے خلاف اپوزیشن جماعتوں نے اتوار کو نئی دہلی میں ’جمہوریت بچاؤ‘ مارچ اور ریلی کا اعلان کیا ہے، جس کے پیش نظر دارالحکومت میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی کی قیادت میں ہونے والے احتجاج میں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق پولیس اہلکاروں نے لاٹھیوں اور حفاظتی ڈھالوں کے ساتھ رام لیلا میدان کے اطراف پوزیشنیں سنبھال لی ہیں، جبکہ ہنگامہ آرائی سے نمٹنے والی گاڑیاں بھی تعینات کی گئی ہیں۔ پولیس نے شہریوں کو ٹریفک کی ممکنہ بندش اور متبادل راستوں کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں وسطی دہلی سے رام لیلا میدان تک تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر مارچ کریں گی۔
#WATCH | Delhi | On INDIA bloc rally today, DCP Central Rohit Rajbir says, "We can accommodate a crowd of around 45,000 to 50,000 people here. We expect that if that many arrive, the space will be filled; if more turn up, we will accommodate them on the surrounding roads. A… pic.twitter.com/XKHpQ2F6MG
— ANI (@ANI) November 1, 2026
اپوزیشن جماعتوں، طلبہ تنظیموں اور نوجوانوں کے گروپوں نے گزشتہ ماہ سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے مظاہرے شروع کر رکھے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں میں تبدیلی سے حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے اور مسلمان سمیت دیگر اقلیتوں کے ووٹ متاثر ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال شروع ہونے والے اس عمل کے دوران ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ سے زائد نام خارج کیے گئے۔ ان میں 2 کروڑ 80 لاکھ فوت شدہ، 6 کروڑ 30 لاکھ منتقل ہونے والے اور 3 کروڑ ایسے افراد شامل ہیں جن کا پتا نہیں چل سکا۔
یہ بھی پڑھیں:مودی حکومت کا جابرانہ فیصلہ:دہائیوں بعدجنتر منتر سے احتجاجی مقام کا درجہ واپس لے لیا گیا
الیکشن کمیشن نے کسی جماعت کی حمایت کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ غلطی سے خارج ہونے والے ووٹر دوبارہ اندراج کرا سکتے ہیں۔ بی جے پی نے بھی اپوزیشن کے الزامات کو جمہوری عمل کو مشکوک بنانے کی کوشش قرار دیا ہے۔










