گلگت بلتستان کے 79ویں یومِ آزادی پر ترقی اور خوشحالی کا عزم، توانائی بحران کے حل کے لیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیر اعلیٰ

اتوار 1 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین نے کہا ہے کہ خطے کو غربت، بے روزگاری اور توانائی کے بحران سے نکالنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے پن بجلی کے منصوبوں پر کام تیز کیا جا رہا ہے جبکہ نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع دینے، سیاحت کے فروغ اور دیہی معیشت مضبوط بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

گلگت بلتستان کے 79ویں یومِ آزادی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے یکم نومبر 1947 کو خطے کی تاریخ کا یادگار دن قرار دیا اور کہا کہ ہمارے بہادر آباؤ اجداد نے ڈوگرہ راج کے خلاف جدوجہد کرکے 72 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ آزاد کرایا۔ ان کی قربانیاں ہماری تاریخ کا قیمتی سرمایہ ہیں۔

انہوں نے افواجِ پاکستان کو ملکی سرحدوں کے دفاع، قومی سلامتی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قربانیوں پر خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ پوری قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ آج گلگت بلتستان کو غربت، بے روزگاری، تعلیمی پسماندگی اور صحت کی سہولیات کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اتحاد، بہتر منصوبہ بندی اور عوامی خدمت کے جذبے کو فروغ دینا ہوگا۔ فرقہ وارانہ، لسانی اور علاقائی تعصبات سے بالاتر ہو کر قومی یکجہتی اور باہمی احترام کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کا بحران خطے کی تعمیر و ترقی اور سیاحت کے فروغ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ اس کے مستقل حل کے لیے پن بجلی کے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کرنے، متعلقہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری بہتر بنانے اور وفاقی حکومت کے تعاون سے بڑے منصوبوں کی بروقت تکمیل پر توجہ دی جا رہی ہے۔ پن بجلی کے وسیع وسائل سے استفادے کے لیے متبادل ذرائع اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

امجد حسین نے بتایا کہ نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی جامعات کے کیمپس گلگت بلتستان میں قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میڈیکل کالج میں آئندہ سال سے کلاسز شروع کرنے کا بھی منصوبہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان میں ڈوگرہ راج سے آزادی کا جشن، پاکستان سے وابستگی اور تعمیر و ترقی کے عزم کی تجدید

ان کا کہنا تھا کہ دیہی معیشت مضبوط بنانے کے لیے زراعت، لائیو اسٹاک اور ماہی پروری کے شعبوں کو وسائل اور تکنیکی معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ مقامی زمینداروں کی خوشحالی کے لیے لینڈ ریفارمز پر جلد عمل درآمد اور بنجر و غیر آباد زمینوں کی ملکیت مقامی آبادی کو دینے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے قدرتی مناظر، بلند پہاڑ، گلیشیئرز، جھیلیں اور ثقافتی ورثہ سیاحوں کے لیے خصوصی کشش رکھتے ہیں۔ سیاحت کے فروغ کے لیے وفاقی حکومت کے تعاون سے ڈیجیٹل، فضائی اور زمینی رابطوں کو بہتر بنایا جا رہا ہے تاکہ سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے۔

یہ بھی پڑھیں:آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو ترقی کے سفر کا حصہ بنانے کے لیے آئینی ترمیم کا امکان ہے، رانا ثنا اللہ

انہوں نے سرکاری اداروں میں اصلاحات اور عوامی خدمات کی فراہمی بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی کامیابی کا اصل معیار عام شہری کی زندگی میں مثبت تبدیلی ہے۔ خطاب کے اختتام پر انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ نفرت کے بجائے محبت، تقسیم کے بجائے اتحاد اور مایوسی کے بجائے امید کا راستہ اختیار کریں اور امن، انصاف اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا