تاریخ کی سب سے بڑی ڈیجیٹل چوری کے بعد بائیننس نے 6 ارب ڈالر کی رقم خود خرید کر ٹریڈنگ بحال کر دی

اتوار 1 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کرپٹو کرنسی کی دنیا کے سب سے بڑے ایکسچینج بائیننس نے 6.3 ارب ڈالر کی تاریخ ساز ہیکنگ کے بعد 95 فیصد نقصان کو اپنے ذاتی فنڈز سے پورا کرتے ہوئے اتوار سے رقوم کی منتقلی کا عمل دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

چین میں بنیاد رکھنے والے عالمی ایکسچینج بائیننس نے بتایا کہ رقوم کی منتقلی (وڈراولز) کا پہلا مرحلہ 0600 سے 0900 جی ایم ٹی کے درمیان شروع ہوگا، جس میں 15 اہم کرپٹو اثاثے بشمول بٹ کوائن، ایتھر، ایکس آر پی اور ڈوج کوائن شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:امریکی سینیٹ میں کرپٹو کرنسیوں کے لیے جامع قانون سازی کی راہ ہموار

بائیننس نے اتوار کو تصدیق کی کہ اس نے کمپنی کے اپنے فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے متبادل ٹوکنز خرید کر 6 ارب ڈالر کا نقصان پورا کر دیا ہے۔ ایکسچینج کے مطابق بقایا 5 فیصد اثاثے کم لیکویڈیٹی والے ہیں جن کی مطلوبہ مقدار میں فراہمی پر کچھ وقت لگ سکتا ہے۔

ایف بی آئی کی تحقیقات اور شمالی کوریا پر الزام

اس واقعے نے کرپٹو چوری کے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ٹی آر ایم لیبز کے محققین کے مطابق گزشتہ برس 150 حملوں میں 2.9 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری ہوئی تھی۔

تاہم امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے ہفتے کے روز بیان جاری کرتے ہوئے اس تازہ ترین حملے کا ذمہ دار شمالی کوریا کے ریاستی سرپرستی میں چلنے والے سائبر یونٹ ’ٹریڈر ٹریٹر‘ کو قرار دیا ہے۔

ایف بی آئی کا کہنا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہیکرز کو چوری شدہ اثاثوں کو ایتھر کرپٹو کرنسی میں تبدیل کرتے دیکھا ہے اور خدشہ ہے کہ متعلقہ ٹیکنالوجی کے ذریعے مزید منی لانڈرنگ کی جائے گی۔

دوسری جانب پیانگ یانگ طویل عرصے سے جاسوسی یا مالی چوری کے لیے سائبر یونٹس کے استعمال سے انکار کرتا رہا ہے اور جنیوا و چین میں اس کے سفارت خانوں نے اس پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ دنیا کی تاریخ کی سب سے بڑی مالیاتی ڈکیتی ہو سکتی ہے۔

حملے کا طریقہ کار اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ردعمل

امریکی بلاک چین تجزیاتی فرموں ٹی آر ایم لیبز اور چین ایلسیز کے مطابق، ڈکیتی کا بڑا حصہ جمعرات کی رات تقریباً 20 منٹ کے مختصر دورانیے میں انجام دیا گیا، جو کہ ماضی میں شمالی کوریا سے منسوب حملوں سے کافی مشابہت رکھتا ہے۔

تاہم دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کو ابھی تک یہ یقین سے معلوم نہیں کہ اس میں شمالی کوریا ملوث ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:6 ارب 30 کروڑ ڈالر کی کرپٹو کرنسی چوری، شمالی کوریا پر شبہ

ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کو وائٹ ہاؤس کے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر بھی پوسٹ کیا گیا، جس میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں ابھی تک معلوم نہیں کہ یہ شمالی کوریا ہے یا نہیں، لیکن اگر وہ ہوا تو ہم ان سے اس معاملے پر بات کریں گے۔‘

مالی اخراجات کی ذمہ داری اور سیکیورٹی ہیکنگ

بائیننس نے انڈسٹری پارٹنرز کے ساتھ مل کر 3 ارب ڈالر کے متاثرہ اثاثوں کا پتا چلا کر انہیں فریز کروا دیا ہے۔ ایکسچینج نے بارہا اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اس ہیکنگ کے تمام مالی اثرات خود برداشت کرے گا اور اس مقصد کے لیے اندرونی طور پر 6.34 ارب ڈالر کا فنڈ مختص کیا ہے۔

یہ متبادل فنڈز بائیننس کے 1 ارب ڈالر کے ’سکیور ایسٹ فنڈ فار یوزرز‘ (سیفو)، اس کے فیوچرز انشورنس فنڈ اور کارپوریٹ خزانے سے حاصل کیے گئے ہیں۔

کو-سی ای او ئی ہی کے مطابق سیفو فنڈ کا 50 فیصد حصہ استعمال کیا جائے گا جبکہ اسے دوبارہ 1 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے گا۔

دوسرے کو-سی ای او رچرڈ ٹینگ نے بتایا کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ حملہ تھا جس میں ایک لیپ ٹاپ کو ہیک کر کے ایسے ملائیشیا کے سافٹ ویئر کا استعمال کیا گیا جو اپنی تمام سرگرمیوں کے شواہد خود ہی مٹا دیتا ہے، جس کی وجہ سے تحقیقات میں دشواری پیش آئی۔

کرپٹو مارکیٹ کی صورتحال

ہیکنگ کی خبر سامنے آتے ہی جمعہ کو کرپٹو مارکیٹ میں قیمتوں میں شدید گراوٹ دیکھی گئی، تاہم بائیننس نے فوری طور پر اپنے تمام صارفین کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے فنڈز مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

بائیننس عالمی سطح پر صارفین کو ڈیجیٹل اثاثوں کی خرید و فروخت اور ٹریڈنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس کے رجسٹرڈ صارفین کی تعداد 335 ملین سے زیادہ ہے، جبکہ اس کی سال 2025 کی سالانہ رپورٹ کے مطابق ایکسچینج کے پاس 162.8 ارب ڈالر سے زائد کے اثاثے محفوظ ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا