امریکی سینیٹ میں کرپٹو کرنسیوں کے لیے جامع وفاقی ضابطہ متعارف کرانے والے اہم قانون ’’کلیئرٹی ایکٹ‘‘ کو آگے بڑھانے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے، جس کی منظوری صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور کرپٹو صنعت کے لیے بڑی کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
سینیٹ کے اکثریتی رہنما جان تھون نے ہفتے کو قانون پر اہم طریقہ کار کی ووٹنگ کے لیے کارروائی شروع کی۔ سینیٹ کی اگست کی تعطیلات کے بعد ستمبر کے وسط میں اس معاملے پر ووٹنگ متوقع ہے، جس کے بعد بل کو حتمی منظوری کے لیے ایوان میں پیش کرنے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
🚨THUNE DELAYS CLARITY ACT VOTE TO SEPTEMBER!
Senate Majority Leader @LeaderJohnThune confirmed the Senate is punting the crypto bill until after the August recess, according to Politico.
He said it will be teed up first thing when lawmakers return. pic.twitter.com/wJgUAs6WWT
— Crypto Banter (@crypto_banter) August 7, 2026
قانون کی منظوری کے لیے سینیٹ میں 60 ووٹ درکار ہیں، جس کے لیے تمام ری پبلکن ارکان کے ساتھ کم از کم 8 ڈیموکریٹک ارکان کی حمایت بھی ضروری ہوگی۔ تاہم متعدد ڈیموکریٹک سینیٹرز اب بھی بل کی بعض شقوں کی مخالفت کر رہے ہیں۔
کلیئرٹی ایکٹ کی منظوری کی صورت میں امریکا میں کرپٹو صنعت کے لیے پہلی مرتبہ جامع وفاقی ضابطہ متعارف ہوگا۔ قانون میں یہ واضح کیا جائے گا کہ مختلف ڈیجیٹل ٹوکنز میں سے کون سی کرپٹو اثاثے سیکیورٹیز یا کموڈیٹیز تصور ہوں گے اور ان کی نگرانی کس وفاقی ادارے کے دائرہ اختیار میں ہوگی۔
کرپٹو کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ واضح قانونی ضابطے سے صنعت کو قانونی تحفظ اور کاروباری استحکام ملے گا، جبکہ امریکا میں کرپٹو کرنسیوں کے استعمال اور سرمایہ کاری کو بھی فروغ مل سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کرپٹو کرنسی جائز ہے، ریاستی پالیسی کے ساتھ ہیں، چیئرمین سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ
بل کی منظوری صدر ٹرمپ کے لیے کرپٹو پالیسی کے حوالے سے دوسری بڑی کامیابی ہوگی۔ اس سے قبل ٹرمپ نے ڈالر سے منسلک ڈیجیٹل کرنسیوں، جنہیں اسٹیبل کوائنز کہا جاتا ہے، سے متعلق قانون پر دستخط کیے تھے۔
امریکی بینکنگ شعبہ کلیئرٹی ایکٹ کی بعض شقوں کی مخالفت کر رہا ہے، کیونکہ ان کے تحت کرپٹو کمپنیاں صارفین کے اسٹیبل کوائن اثاثوں پر مراعات دے کر بینکوں کے ڈپازٹس کے لیے مقابلہ کرسکتی ہیں۔
ڈیموکریٹس سرکاری عہدیداروں کے کرپٹو کاروبار پر مزید پابندیوں کا مطالبہ کر رہے ہیں، جبکہ بل کے اس پہلو پر مذاکرات تاحال جاری ہیں۔














