ٹیکس رعایت کے بعد بھی سرچارج وصولی، ایف بی آر کے سافٹ ویئر پر سوالات اٹھ گئے

پیر 2 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فیڈرل بورڈ آف ریونیو یعنی ایف بی آر کی جانب سے بہبود سیونگز سرٹیفکیٹ اور پینشنرز سرٹیفکیٹ سے آمدن حاصل کرنے والے ایک بزرگ ٹیکس دہندہ کو یکم نومبر 2026 کو ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ سے غیر فعال قرار دیے جانے پر وفاقی ٹیکس محتسب سے رجوع کرلیا گیا ہے۔

درخواست میں ایف بی آر پر مبینہ بدانتظامی، ٹیکس کے غلط حساب اور توسیع کی درخواست پر فیصلہ نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بزرگ شہری کا ٹیکس اسٹیٹس فوری بحال کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

یہ شکایت ایل ٹی بی اے کی پبلک انٹرسٹ لٹیگیشن کمیٹی کے چیئرمین وحید شہزاد بٹ نے اے ایچ بٹ اور اسی نوعیت کے دیگر پینشنرز، بہبود سیونگز سرٹیفکیٹ ہولڈرز اور شہدا فیملی ویلفیئر اکاؤنٹ رکھنے والوں کی جانب سے دائر کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکس چوری، گوشواروں میں غلط معلومات پکڑنے کے لیے ایف بی آر کا ’اے آئی‘ پر مبنی جدید سسٹم تیار

درخواست میں چیئرمین ایف بی آر، ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز، ممبر ان لینڈ ریونیو پالیسی اور ڈائریکٹر جنرل آئی ٹی کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے سیکنڈ شیڈول کے پارٹ تھری کی شق (6) کے تحت بہبود سرٹیفکیٹس سے حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔

تاہم ایف بی آر کے آن لائن ٹیکس نظام آئی آر آئی ایس میں اس رعایت کے بعد سیکشن 4AB کے تحت 10 فیصد سرچارج پورے نارمل ٹیکس پر عائد کیا جارہا ہے، جس سے قانون کے تحت دی گئی ٹیکس رعایت کا جزوی فائدہ ختم ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیں: ایکسپورٹرز کے لیے ٹیکس کی شرح میں کمی، ایف بی آر نے خوشخبری سنا دی

درخواست میں دی گئی مثال کے مطابق ایک ٹیکس دہندہ کا نارمل ٹیکس 42 لاکھ 41 ہزار 199 روپے بنتا ہے، جس میں قانونی رعایت کے تحت 7 لاکھ 96 ہزار 132 روپے کی کمی کی جاتی ہے۔

اس طرح قابل ادائیگی ٹیکس 34 لاکھ 45 ہزار 67 روپے رہ جاتا ہے، تاہم آئی آر آئی ایس سسٹم اس کم شدہ رقم کے بجائے اصل ٹیکس پر 4 لاکھ 24 ہزار 120 روپے سرچارج عائد کرتا ہے، جبکہ درخواست گزار کے مطابق درست حساب سے سرچارج 3 لاکھ 44 ہزار 507 روپے ہونا چاہیے۔

یوں 79 ہزار 613 روپے اضافی وصول کیے جارہے ہیں اور درست حساب کے مطابق مزید کوئی رقم قابل ادائیگی نہیں بنتی۔

مزید پڑھیں: ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کا ٹیکس دہندگان کی شکایت کے بروقت ازالے کا حکم

درخواست گزار نے 24 اکتوبر 2026 کو چیئرمین ایف بی آر کو خط لکھ کر ٹیکس کے حساب میں غلطی کی نشاندہی کی تھی، جس کی نقل وفاقی ٹیکس محتسب کو بھی بھجوائی گئی۔

اس کے علاوہ 31 اکتوبر کی مقررہ آخری تاریخ ختم ہونے سے قبل ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کے لیے مہلت میں توسیع کی درخواست بھی دی گئی، تاہم ایف بی آر کی جانب سے نہ اس درخواست پر کوئی فیصلہ کیا گیا اور نہ ہی خط کا جواب دیا گیا۔

شکایت کے مطابق یکم نومبر کو ایف بی آر کے آن لائن تصدیقی نظام میں متعلقہ ٹیکس دہندہ کا اسٹیٹس غیر فعال ظاہر کیا گیا اور اسے گوشوارہ جمع کرانے یا ایکٹو ٹیکس پیئر لسٹ میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے 25 ہزار روپے سرچارج ادا کرنے کی ہدایت کی گئی۔

مزید پڑھیں: ٹیکس دہندگان کے ڈیٹا کی رازداری کا حکم برقرار، صدر مملکت آصف علی زرداری نے ایف بی آر کی درخواست مسترد کردی

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ زیر التوا شکایت اور توسیع کی درخواست پر فیصلہ کیے بغیر ٹیکس دہندہ کو غیر فعال قرار دینا من مانا اقدام ہے، جبکہ اسے مؤقف پیش کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا، جو آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت شفاف قانونی کارروائی کے تقاضوں کے منافی ہے۔

وفاقی ٹیکس محتسب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایف بی آر سے رپورٹ طلب کرکے بزرگ شہری کا اے ٹی ایل اسٹیٹس فوری بحال کیا جائے، آئی آر آئی ایس سسٹم میں ٹیکس کے حساب کی غلطی درست کی جائے اور متعلقہ درخواستوں پر وجوہات کے ساتھ تحریری فیصلہ جاری کرنے کی ہدایت کی جائے۔

مزید پڑھیں: درآمدی موبائل فونز پر سیلز ٹیکس اقساط میں ادا کرنے کی اجازت

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ معاملہ صرف ایک ٹیکس دہندہ تک محدود نہیں بلکہ 10 ملین روپے سے زائد آمدن رکھنے والے تمام متعلقہ پینشنرز اور بہبود سرٹیفکیٹ ہولڈرز متاثر ہوسکتے ہیں۔

اس لیے ایف بی آر کو تمام متاثرہ افراد کے لیے وضاحتی ہدایات جاری کرنے اور مبینہ تاخیر کے ذمہ دار افسران کیخلاف کارروائی کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا