امریکی وسط مدتی انتخابات، کانگریس پر کنٹرول کے لیے ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز میں مقابلہ

پیر 2 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے لیے منگل کو ووٹنگ ہو رہی ہے، جس میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا۔

انتخابات کے نتائج آئندہ 2 برس کے لیے امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹک اور ریپبلکن جماعتوں کے درمیان طاقت کا توازن طے کریں گے، جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومتی کارکردگی اور مقبولیت بھی عوامی فیصلے کا اہم پیمانہ ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی مڈٹرم انتخابات 3 نومبر کو ہوں گے، کانگریس پر کنٹرول کی جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل

وسط مدتی انتخابات امریکی صدر کی 4 سالہ مدت کے درمیان منعقد ہوتے ہیں، اگرچہ صدر کا نام بیلٹ پیپر پر شامل نہیں ہوتا، تاہم ان انتخابات کو عموماً وائٹ ہاؤس میں موجود صدر کی پالیسیوں اور کارکردگی پر عوامی رائے شماری سمجھا جاتا ہے۔

امریکی سیاسی تاریخ میں یہ رجحان نمایاں رہا ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں صدر کی جماعت کو اکثر نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے، کیونکہ ووٹرز ان انتخابات کے ذریعے صدارتی اختیارات پر سیاسی توازن قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سیاسی ماہرین اس رجحان کو ’صدارتی سزا‘ یا ’مڈٹرم پینلٹی‘ قرار دیتے ہیں۔ 1946 سے 2022 تک ہونے والے 20 وسط مدتی انتخابات میں سے 18 مرتبہ صدر کی جماعت نے ایوانِ نمائندگان کی نشستیں کھوئیں۔

اس دوران اوسطاً 26 نشستوں کا نقصان ہوا۔ صرف 1998 میں بل کلنٹن کی ڈیموکریٹک جماعت اور 2002 میں جارج ڈبلیو بش کی ریپبلکن جماعت اس روایت کے برعکس نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔

مزید پڑھیں: وسط مدتی انتخابات: صدر ٹرمپ صحافی کے تلخ سوال پر آپے سے باہر،’تم بدصورت ہو، شکل تو دیکھو اپنی!

تاریخی اعداد و شمار کے مطابق ڈیموکریٹک صدور کی جماعتوں کو وسط مدتی انتخابات میں نسبتاً زیادہ نقصان اٹھانا پڑا، 1946 کے بعد ڈیموکریٹس نے اوسطاً 29 جبکہ ریپبلکنز نے 23 نشستیں کھوئیں۔

سب سے بڑا نقصان 2010 میں باراک اوباما کے دور میں ڈیموکریٹس کو ہوا، جب جماعت نے ایوانِ نمائندگان کی 64 نشستیں گنوا دیں اور ریپبلکنز نے ایوان کا کنٹرول حاصل کر لیا۔

دوسری جانب ریپبلکنز کو 1958 میں ڈوائٹ آئزن ہاور کے دور میں 50 اور 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں 42 نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔

مزید پڑھیں: پوپ لیو چہاردہم نے امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹ ڈال دیا، ویٹیکن کی تصدیق

سینیٹ میں بھی صدر کی جماعت کو نقصان کا سامنا رہا ہے۔ 1946 سے 2022 کے درمیان 20 انتخابات میں سے 13 مرتبہ صدر کی جماعت نے سینیٹ کی نشستیں کھوئیں، تاہم صرف 6 مرتبہ ایوان کا کنٹرول مخالف جماعت کے پاس گیا۔

سینیٹرز کی مدت 6 سال ہونے کے باعث ہر 2 سال بعد تقریباً ایک تہائی نشستوں پر انتخابات ہوتے ہیں۔

موجودہ انتخابات میں ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے 3 جبکہ سینیٹ میں اکثریت کے لیے 4 اضافی نشستیں درکار ہیں، اگر سینیٹ میں دونوں جماعتوں کی نشستیں برابر ہوئیں تو نائب صدر جے ڈی وینس کا فیصلہ کن ووٹ ریپبلکنز کو برتری دلا سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: مڈٹرم انتخابات سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی 25کامیابیاں بتادیں

کانگریس کے کسی ایک ایوان میں بھی اکثریت حاصل کرنے والی مخالف جماعت صدر کی قانون سازی کی کوششوں کو روکنے، حکومتی معاملات کی تحقیقات کرنے اور دیگر آئینی اختیارات استعمال کرنے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔

یوں ان انتخابات کے نتائج صدر ٹرمپ کے آئندہ 2 برس کے سیاسی اور حکومتی ایجنڈے کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا