شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کو برطانیہ میں عوامی مقبولیت بحال کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے، شاہی خاندان سے دوریاں کم کرنے کی کوششوں کے باوجود عوام نے تاحال دونوں کو معاف نہیں کیا۔
برطانوی شاہی امور کی رپورٹر جیسمین کیری کے مطابق شہزادہ ہیری کے لیے والد شاہ چارلس سے ملاقات نہ ہو پانا ہی واحد مایوسی نہیں بلکہ اس سے بھی بڑا دھچکا یہ ہے کہ برطانوی عوام کا رویہ بھی ان کے اور میگھن مارکل کے لیے تبدیل نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی شاہی خاندان کو شہزادہ ہیری اور میگھن مارکل پر اعتماد نہیں، شاہی ماہرین کا دعویٰ
جیسمین کیری کے مطابق شہزادہ ہیری کو برطانیہ واپس آئے 2 ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس دوران ان کی اپنے والد شاہ چارلس سے ملاقات نہیں ہوسکی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہیری کی برطانیہ واپسی کی ایک وجہ شاہی خاندان کے رشتہ داروں کے قریب ہونا بھی تھی، تاہم وہ ان سے زیادہ میل جول نہیں رکھ سکے۔
رپورٹر نے مزید کہا کہ ہیری اور میگھن کے لیے زیادہ بڑا دھچکا یہ ہے کہ عوام نے اب تک انہیں معاف نہیں کیا۔ برطانیہ میں 2 ماہ سے زائد قیام کے باوجود وہ عوامی رائے تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
تجزیے میں حالیہ مقبولیت کے جائزوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ برطانوی عوام اب بھی شاہی خاندان اور برطانیہ سے متعلق جوڑے کے سابقہ بیانات کو نہ بھولے ہیں اور نہ ہی انہیں معاف کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: میگھن مارکل اور شہزادہ ہیری کی مصروفیات میں اضافہ، ایک دوسرے کو وقت دینا مشکل ہوگیا
جیسمین کیری کے مطابق عوامی حمایت کی یہ صورت حال شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیتھرین کے لیے اطمینان کا باعث ہوسکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر عوام کی حمایت ہیری اور میگھن کے بجائے شاہی خاندان کے دیگر افراد کے ساتھ ہے تو ہیری اور میگھن کے لیے متوازی شاہی حلقہ قائم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔










