حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کے خاتمے اور عوامی ریلیف کے اہم معاملے پر مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔
جماعت اسلامی کی مذاکراتی ٹیم نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ کی سربراہی میں وزارتِ خارجہ پہنچ گئی، جہاں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے دفتر میں دونوں فریقین کے درمیان اہم بیٹھک جاری ہے۔
مذاکرات میں حکومت کی طرف سے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر احسن اقبال اور وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ اور جماعت اسلامی کی طرف سے لیاقت بلوچ، سید فراست شاہ اور انجینئر نصر اللہ رندھاوا شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پیٹرولیم لیوی سے متعلق کیا طے ہوا؟، وزیراعظم ہاؤس سے تفصیلات جاری
قبل ازیں نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے بتایا کہ انہوں نے مذاکراتی اجلاس کے سلسلے میں ترکیہ میں موجود امیرِ جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے آگاہی اور ضروری رہنمائی حاصل کی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کا بنیادی اور اولین مقصد عوام کو فوری و مؤثر ریلیف دلانا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوام کو وسیع ریلیف دینے اورپیٹرولیم لیوی کا بتدریج خاتمہ ممکن بنانے کا معاملہ فوری طے کرے۔
یہ بھی پڑھیے جماعت اسلامی کا سپر لانگ مارچ: حکومت عوام کو بڑا ریلیف پیکیج دینے کو تیار ہوگئی
لیاقت بلوچ کا کہنا تھا ’حکومت جماعت اسلامی کو اس کا کریڈٹ دے یا نہ دے، اگر عوام کو ریلیف مل جاتا ہے تو یہی ہماری سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔‘
نائب امیر جماعت اسلامی نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات میں مثبت پیشرفت نہ ہوئی تو ترکیہ سے واپسی پر امیرِ جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان ملک بھر کے کارکنان سے آن لائن خطاب کریں گے اور ملتان سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کے آغاز کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کریں گے۔










