پیٹرولیم لیوی کی منسوخی اور عوامی ریلیف کے لیے جماعت اسلامی کے ملک گیر احتجاج اور کراچی سے شروع ہونے والے ‘سپر لانگ مارچ’ کے پیشِ نظر وفاقی حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان اسلام آباد پہنچنے سے قبل ہی ایک اہم بریک تھرو کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، حکومتی وفد نے جماعت اسلامی کو ایک بڑا ‘عوامی ریلیف پیکج’ دینے کی پیشکش کی ہے، جس کی حتمی منظوری جماعت اسلامی کی ٹیکنیکل کمیٹی کے فیصلے سے مشروط ہوگی۔ حکومتی وفد نے یقین دہانی کرائی ہے کہ اس معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کو آن بورڈ لیا گیا ہے اور ان کی وطن واپسی کے فوراً بعد جماعت اسلامی کی اعلیٰ قیادت سے باضابطہ رابطہ اور ملاقات متوقع ہے۔
ذرائع جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مذاکرات اور ریلیف دینے میں سنجیدگی دکھائے تو لانگ مارچ میں عارضی طور پر وقفہ کیا جا سکتا ہے، تاہم پیٹرولیم لیوی کے مکمل خاتمے تک لانگ مارچ ختم نہیں ہوگا۔
اس سے قبل امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ وقت کی نبض اور ‘نوشتہ دیوار’ پڑھ لے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں اور اسے انا کا مسئلہ نہ بنایا جائے، ورنہ یہ تحرک حکومت گراؤ تحریک میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کی پرامن اور جمہوری مزاحمت نے ملک میں نئی سیاسی تاریخ رقم کی ہے۔ 510 سڑکوں کی بندش اور 40 مقامات پر دھرنوں نے حکومت پر مسلسل دباؤ بڑھایا ہے، جس کے بعد حکومت نے پیٹرولیم لیوی میں کمی اور آئی ایم ایف کے ساتھ بات چیت تک کچھ وقت مانگا ہے۔
لیاقت بلوچ نے بتایا کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کو ختم کرنے اور حکومت کے لیے متبادل آمدن پیدا کرنے کے حوالے سے 6 قابلِ عمل تجاویز پیش کر دی ہیں، مگر حکومت اپنی کمزوریوں کے باعث ضروری فیصلوں سے ہچکچا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تاخیری حربے اب کام نہیں آئیں گے اور پیٹرولیم لیوی کو وہ ’بھتہ‘ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے تک اپنا پرامن احتجاج جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سپر لانگ مارچ کے ملتان سے اگلے مرحلے کا باقاعدہ اعلان جلد کیا جائے گا۔
ایک سوال کے جواب میں لیاقت بلوچ نے اپوزیشن کے 27 ستمبر کے احتجاج پر بھی بات کی اور کہا کہ حکومت اس احتجاج کی آڑ میں گمراہ کن پروپیگنڈا کر رہی ہے اور راستے خود بند کر کے عوام کو اذیت دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی سمیت ہر جماعت کو پرامن احتجاج کا آئینی حق حاصل ہے اور جماعت اسلامی کسی صورت پی ٹی آئی کے ساتھ حکومت کا ‘انجینئرڈ تصادم’ نہیں ہونے دے گی۔














